اسلام آباد، 3 نومبر 2026: تہران مسلم یونٹی کانفرنس کے اثرات اور اہمیت کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں مقررین نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ایران جنگ نے خطے کے ممالک کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے خطے کی تشکیل نو کریں۔
انٹرنیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس (آئی پی سی) کے زیر اہتمام اس سیمینار میں 21 اکتوبر کو تہران میں پاکستان کی پہل پر مکہ ڈیفنس الائنس کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے اثرات اور نتائج پر کھل کر گفتگو ہوئی۔
افتتاحی کلمات میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ دنیا تبدیلی، انتشار اور عبوری دور سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق مغرب کی تقسیم اور زوال، چین کا عروج اور مسلم مڈل پاورز کا ابھرنا نئی عالمی حقیقتیں ہیں۔ انہوں نے پاکستان، ترکی، ایران، سعودی عرب اور انڈونیشیا کو مسلم مڈل پاورز میں شامل کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں اس امر پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ مسلم دنیا کو اصل خطرہ اسرائیل سے ہے، اس لیے مضبوط مسلم اتحاد ناگزیر ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان کے کلیدی کردار اور حالیہ پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح کا حوالہ دیا، جنہوں نے 19 دسمبر 1946 کو قاہرہ میں اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان کا قیام مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کے لیے تقویت کا باعث ہوگا۔ مشاہد حسین سید کے مطابق بانی پاکستان نے قیام پاکستان سے قبل ہی پاکستان کے کردار اور تقدیر کو مسلم دنیا کے ساتھ جوڑ دیا تھا، جو اب حقیقت بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چند ماہ میں تین اہم کامیابیاں حاصل کیں، جن میں 7 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی، 17 جون کا اسلام آباد ایم او یو اور 21 اکتوبر کو تہران میں چار مسلم ممالک کا تاریخی اجلاس شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جو دراصل اقوام متحدہ، او آئی سی، عرب لیگ یا یورپی یونین جیسے عالمی اداروں کو ادا کرنا چاہیے تھا، مگر یہ ادارے مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایران اور امریکا کی جانب سے پہلے ہی تسلیم شدہ اسلام آباد ایم او یو، جس میں پاکستان بھی دستخط کنندہ ہے، خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اب بھی واحد قابل عمل فریم ورک ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی بلااشتعال اور غیر ضروری جارحیت کی مذمت پر مبنی پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ اس جارحیت نے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیا اور عالمی توانائی و معاشی بحران کو جنم دیا۔ ان کے بقول اب وقت آگیا ہے کہ خطے کا مستقبل بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی ہاتھوں سے تشکیل پائے۔
ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے اپنے خطاب میں امام خمینی کی قیادت میں ایرانی انقلاب کی تاریخی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایران شاہ کے دور میں جسے کبھی ’دوسرا اسرائیل‘ کہا جاتا تھا، امام خمینی کی قیادت میں صیہونیت کے خلاف مزاحمت کا مضبوط مرکز بن گیا۔ انہوں نے اسلامی انقلاب کی حمایت میں لاکھوں ایرانیوں کو متحرک کرنے میں امام خمینی کے کردار اور خدمات کا ذکر کیا۔
ایرانی سفیر نے مکہ ڈیفنس الائنس کو مثبت قدم قرار دیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے 26 اکتوبر کو تہران میں اسلامی ممالک کو اکٹھا کرنے کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تمام قیادت اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتی ہے کیونکہ اگر چار ممالک، یعنی پاکستان، ایران، ترکی اور سعودی عرب متحد ہو کر ایک ساتھ آئیں تو کوئی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
آزاد کشمیر کے سابق صدر اور امریکا و چین میں پاکستان کے سابق سفیر مسعود خان نے خطے کی حالیہ صورت حال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اسے تباہ کن اور دھماکا خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سمیت تمام معاملات کا پرامن حل اختیار کیا جانا چاہیے، کیونکہ کوئی بھی دوسرا راستہ خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
سیمینار سے معروف صحافی اور اینکر نسیم زہرہ، سعودی عرب میں پاکستان کے سابق سفیر ایڈمرل ریٹائرڈ ہاشم صدیقی اور نسٹ کے ڈین میجر جنرل ریٹائرڈ زاہد محمود نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے تنازع کے مختلف پہلوؤں اور اس کے نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مکہ ڈیفنس الائنس کے وفد کو تہران لے جانے کے پاکستان کے اقدام کو بھی سراہا اور کہا کہ مسلم اتحاد وقت کی ضرورت ہے، یہی نیتن یاہو کے ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے کو ناکام بنانے کا بہترین راستہ ہے۔
