اسلام آباد، 3 نومبر 2026ء: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس سینیٹر آغا شہزیب درانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں پاکستان افغانستان تعلقات، وزیراعظم کے اقوام متحدہ کے دورے اور اہم سفارتی ملاقاتوں، وزارت خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کے نظام میں اصلاحات، اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) و اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) میں پاکستان کے قائدانہ کردار سے متعلق ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر روبینہ قائم خانی، سینیٹر انوشہ رحمان احمد اور سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے شرکت کی۔
کمیٹی نے پاکستان کے نومقرر خارجہ سیکرٹری کا خیرمقدم کیا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے ان کی مدتِ تعیناتی کے دوران پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے کو سراہا۔ تاہم ارکان نے وزیر خارجہ کی عدم شرکت پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ خارجہ پالیسی کے اہم امور پر بامعنی پارلیمانی نگرانی اور باخبر مشاورت کے لیے وزیر خارجہ کی کمیٹی کارروائی میں شرکت ضروری ہے۔
اجلاس کو وزیراعظم کے اقوام متحدہ کے دورے اور اس موقع پر ہونے والی اہم مصروفیات سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا حالیہ دورہ پاکستان بھی ملک کی کامیاب سفارتی رسائی کا عکاس ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں مصروفیات پر ایران امریکا تنازع، مکہ پیکٹ، اور بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی صورتحال کے تناظر میں جامع بریفنگ دی جائے۔
دستاویزات کی تصدیق کے عمل میں اصلاحات کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت خارجہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈیٹا بیس کے ساتھ انضمام کے ذریعے جنرل اٹیسٹیشن کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے، جو تصدیق کے مجموعی کام کے تقریباً 65 فیصد پر مشتمل ہے۔ عوام کی سہولت کے لیے موجودہ دستی سہولت بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ اپوسٹیل اٹیسٹیشن مجموعی کام کا تقریباً 35 فیصد ہے اور وزارت اس نظام کو نادرا کے ساتھ منسلک کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ عمل کو زیادہ تیز، محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔
ارکان نے نادرا کی خدمات کی وسیع ڈیجیٹلائزیشن کے باوجود تصدیقی عمل میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے سرکاری طور پر جاری کردہ دستاویزات پر وصول کی جانے والی تصدیقی فیس پر بھی سوال اٹھایا اور وزارت پر زور دیا کہ وہ فیس میں کمی پر غور کرے۔ کمیٹی نے سرکاری دستاویزات پر کیو آر کوڈ متعارف کرانے کی تجویز بھی دی تاکہ فوری تصدیق ممکن ہو اور غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
شہریوں کے لیے آسان اور مربوط نظام کی ضرورت کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن، نادرا اور وزارت خارجہ کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں مربوط ای اٹیسٹیشن میکانزم کے جامع منصوبے کے ساتھ شریک ہوں۔ انہوں نے نادرا اور وزارت خارجہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ دستاویزات کی کیو آر کوڈ پر مبنی تصدیق متعارف کرائی جائے تاکہ انسانی عمل دخل کم ہو، غیر ضروری تاخیر ختم ہو اور طریقہ کار آسان بنایا جا سکے۔ وزارت کو مزید ہدایت کی گئی کہ اٹیسٹیشن خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے بارے میں عوامی آگاہی پیدا کی جائے تاکہ شہری دستیاب سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
کمیٹی کو شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کے قائدانہ کردار کے تحت ترجیحات اور تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ پاکستان نے یہ کردار پہلی بار سنبھالا ہے۔ وزارت نے بتایا کہ مختلف ایس سی او تقریبات، جن میں آئندہ سربراہی اجلاس بھی شامل ہے، کے ذریعے شریک ممالک سے روابط بڑھائے جائیں گے۔ توجہ مصنوعی ذہانت، علاقائی رابطہ کاری، نوجوانوں کی شمولیت، دوطرفہ تعاون اور خطے میں پاکستان کی سفارتی رسائی مضبوط بنانے پر مرکوز ہو گی۔
اقتصادی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے ساتھ پاکستان کی آئندہ مصروفیت کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی تنظیموں میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو قومی اقتصادی اور تزویراتی مفادات کے فروغ کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جائے۔ وزارت نے کمیٹی کو بین العلاقائی تجارتی کوٹوں کو فعال بنانے اور ان فورمز کے ذریعے ٹرانزٹ ٹریڈ اور ٹرانسپورٹ کے مؤثر نظام قائم کرنے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کو ایس سی او اور ای سی او میں اپنی سفارتی مصروفیات اور قائدانہ کردار کو ٹھوس اقتصادی مواقع، بہتر علاقائی رابطہ کاری اور مضبوط دوطرفہ تعلقات میں تبدیل کرنا چاہیے۔ انہوں نے وزارت پر زور دیا کہ ان علاقائی فورمز سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے فعال حکمت عملی اپنائی جائے۔
اجلاس میں پاکستان افغانستان تعلقات کی موجودہ صورتحال، اہم امور اور حالیہ پیش رفت پر اِن کیمرا بریفنگ بھی دی گئی۔
