اسلام آباد: پاکستان، ترکمانستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی صدارت گروپ کے کنوینر سنجے پروانی نے کی۔ اجلاس میں پاکستان میں ترکمانستان کے سفیر عطاجان مولاموف نے شرکت کی۔ قومی اسمبلی کے ارکان فتح اللہ خان اور خواجہ اظہار الحسن بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اجلاس میں دونوں ممالک کے پارلیمانی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ ترکمانستان کے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے سنجے پروانی نے کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان کے تعلقات باہمی احترام اور دوستی کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے ترکمانستان کی آزادی کو پاکستان کی جانب سے ابتدائی طور پر تسلیم کیے جانے کا ذکر کیا اور مستقل غیر جانبداری کی پالیسی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
کنوینر نے بین الپارلیمانی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز دی کہ ترکمانستان کی پارلیمنٹ میں بھی ایک ہم منصب پارلیمانی فرینڈشپ گروپ قائم کیا جائے تاکہ دونوں مقننہ کے درمیان باقاعدہ مکالمے اور تبادلوں کی راہ ہموار ہو۔
اجلاس میں دوطرفہ تجارت، علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان، ترکمانستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اسے عملی طور پر نافذ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، خاص طور پر ترکمانستان کے خشکی میں گھرے ملک ہونے اور قابل اعتماد ٹرانزٹ راستوں کی ضرورت کے تناظر میں۔
ترکمانستان کے سفیر عطاجان مولاموف نے تجارت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے علاقائی رابطوں اور ٹرانسپورٹ کوریڈورز کی ترقی کو اہم قرار دیا۔ دونوں جانب سے کاروباری روابط مضبوط بنانے، تجارتی وفود کے تبادلوں میں سہولت فراہم کرنے اور باہمی فائدے کی اقتصادی شراکت داریوں کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت تسلیم کی گئی۔
اجلاس میں اعلیٰ سطحی روابط، پارلیمانی تبادلوں اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ سنجے پروانی نے دونوں پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے درمیان مسلسل رابطوں کی ضرورت کا اعادہ کیا اور امید ظاہر کی کہ ترکمانستان میں مجوزہ ہم منصب گروپ باقاعدہ تعامل اور عملی تعاون کی بنیاد فراہم کرے گا۔
اجلاس کے اختتام پر پارلیمانی سفارت کاری، تجارت و اقتصادی تعاون کے فروغ اور عوامی سطح کے قریبی روابط کے ذریعے پاکستان، ترکمانستان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔
