کم از کم اجرت میں اضافہ فوری نافذ کیا جائے، قائمہ کمیٹی کی وزارت کے ماتحت اداروں کو ہدایت

newsdesk
3 Min Read
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی کا اجلاس سید رفیع اللہ کی زیر صدارت ہوا۔

اسلام آباد، 3 نومبر 2026: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی نے وزارت اور اس کے ماتحت اداروں کی جانب سے کم از کم اجرت سے متعلق سابقہ سفارشات پر دیے گئے جوابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سفارش کی ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت میں اضافہ ہوتے ہی اس پر فوری عمل درآمد کے لیے تمام بورڈز اور تنظیمیں قواعد یا مناسب طریقہ کار وضع کریں۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم نمبر 2 میں سید رفیع اللہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا اور تین سرکاری بل بھی زیر غور آئے۔

کمیٹی کے چیئرپرسن نے ریمارکس دیے کہ وزارت کو کم از کم اجرت میں اضافے کے لیے خودکار طریقہ کار قائم کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارت کے ماتحت تمام بورڈز اور ادارے ایسا نظام اختیار کریں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت بڑھائے جانے کے فوراً بعد اس کی ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔

اجلاس میں بلوچستان کے علاقے سورنج میں کوئلے کی کان کے واقعے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مائنز ڈیپارٹمنٹ نے تین انسپکٹرز کو معطل کیا ہے جبکہ حکومتِ بلوچستان کے لیبر ڈیپارٹمنٹ نے دو افسران کو معطل کیا۔ متعلقہ کمپنیوں کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں، شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے اور متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کے لیے 34 چیکس ڈپٹی کمشنر کے حوالے کیے گئے۔

کمیٹی نے تمام صوبوں اور گلگت بلتستان کو سفارش کی کہ کسی بھی واقعے کے بعد ورکرز کو دی جانے والی گرانٹ بڑھا کر 30 لاکھ روپے کی جائے۔

قائمہ کمیٹی نے تینوں بلز، یعنی ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس (ترمیمی) بل 2026، انڈسٹریل ریلیشنز (ترمیمی) بل 2026 اور امیگریشن (ترمیمی) بل 2026 مؤخر کر دیے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ سے متعلق سفارشات کا جائزہ بھی مؤخر کر دیا گیا۔

کمیٹی نے وزارت کے تمام محکموں کے سرمایہ کاری پورٹ فولیو اور سودی آمدن کی مکمل تفصیلات بھی طلب کر لیں۔ اس کے علاوہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کو سفارش کی گئی کہ آئندہ اپنے بورڈ کے سامنے پیش کی جانے والی ہر تجویز کی تفصیلات کمیٹی کے روبرو بھی رکھی جائیں۔

اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی ذوالفقار علی بھٹی، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، فتح اللہ خان، محمد الیاس چوہدری، صوفیہ سعید شاہ نے ورچوئل طور پر، سعیدہ جمشید، میاں خان بگٹی، فرحان چشتی اور ارم حمید نے شرکت کی۔ سیکرٹری وزارت سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی کے علاوہ وزارت، ای او بی آئی، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن، وزارت قانون و انصاف، اور حکومت بلوچستان کے لیبر و مائنز ڈیپارٹمنٹس کے سینئر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔

Share This Article