اسلام آباد: پاکستان، ہنگری پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت گروپ کے کنوینر رکن قومی اسمبلی راجہ اسامہ سرور نے کی۔ اجلاس میں پاکستان میں ہنگری کے سفیر ڈاکٹر زولتان ورگا نے شرکت کی۔
اجلاس میں قومی اسمبلی کے ارکان محترمہ منزہ حسن، عمار احمد خان لغاری اور نوید عامر جیوا بھی موجود تھے۔ ملاقات میں پارلیمانی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
کنوینر راجہ اسامہ سرور نے ہنگری کے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور ہنگری کے تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سفارت کاری دونوں ملکوں کے درمیان باہمی فہم و تعاون کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کے باقاعدہ روابط، باہمی دوروں اور ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ہنگری کے سفیر ڈاکٹر زولتان ورگا نے پاکستان اور ہنگری کے مثبت تعلقات کا ذکر کیا اور 2025 میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دورۂ بڈاپسٹ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس رابطے کو مسلسل پارلیمانی تبادلوں کے ذریعے آگے بڑھانا ضروری ہے اور دونوں قانون ساز اداروں کے درمیان جوابی روابط کی امید ظاہر کی۔
سفیر نے عوامی سطح پر رابطوں کو بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قدرتی مناظر، ثقافت اور مہمان نوازی سے بہتر آگاہی تاثر اور حقیقت کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے سیاحت، ثقافتی تبادلوں اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان رابطوں میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی۔
اجلاس میں دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے مختلف راستوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کو اہم قرار دیا۔ دونوں ملکوں کی کمپنیوں کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش، کاروبار سے کاروبار روابط کے استحکام اور باہمی فائدے پر مبنی تجارتی شراکت داریوں کے فروغ پر بھی گفتگو ہوئی۔
کاروباری وفود کے ذریعے رابطوں میں اضافے کے امکان پر بھی بات کی گئی۔ تعلیمی تعاون کو خصوصی اہمیت دی گئی، خصوصاً ہنگری میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کے تناظر میں علمی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع پر زور دیا گیا۔
پارلیمانی تعاون کے حوالے سے کنوینر راجہ اسامہ سرور نے ہنگری میں اسی نوعیت کے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ رابطوں کے آغاز کے لیے دونوں گروپوں کے درمیان ورچوئل ملاقات ایک ابتدائی قدم ہو سکتی ہے۔
اس پر ہنگری کے سفیر نے بتایا کہ ہنگری میں اپریل 2026 میں انتخابات ہوئے جن کے بعد حکومت کی رکنیت کا تقریباً چار پانچواں حصہ تبدیل ہوا، جبکہ ہنگری پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کی تشکیل کا عمل جاری ہے۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں جانب سے پارلیمانی مکالمے کو جاری رکھنے، اقتصادی اور ثقافتی روابط کو قریب تر بنانے اور پاکستان و ہنگری کے عوام کے درمیان زیادہ رابطوں کی حوصلہ افزائی پر زور دیا گیا۔ دونوں فریقوں نے موجودہ خیرسگالی کو بنیاد بنا کر باہمی مفاد کے تعاون کو آگے بڑھانے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت تسلیم کی۔
