اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے حنا جاوید قتل کیس کی مکمل ازسرنو تحقیقات کی سفارش کر دی ہے۔ یہ معاملہ سیکرٹری ویمن پارلیمنٹری کاکس ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی درخواست پر کمیٹی کے خصوصی ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس 29 اکتوبر 2026 کو کمیٹی روم نمبر 5 میں رکن قومی اسمبلی راجہ خرم شہزاد نواز کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ کارروائی کے دوران حنا جاوید کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر کی ہدایت پر کمیٹی کے سامنے رکھے گئے خصوصی ایجنڈے کے تحت حنا جاوید قتل کیس کا جائزہ لیا گیا۔ پنجاب پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے کیس میں کی گئی تحقیقات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ اور تحقیقاتی عمل کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی درخواست پر کمیٹی نے سفارش کی کہ پورے کیس کی ازسرنو تحقیقات کی جائیں تاکہ تمام پہلوؤں کا جامع، شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ ممکن ہو سکے۔
ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے اس اہم معاملے کو کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کرانے پر قومی اسمبلی کے اسپیکر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کمیٹی کے چیئرمین، وفاقی وزیر داخلہ اور قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے تمام ارکان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے معاملے کو زیر غور لاتے ہوئے کیس کی نئی تحقیقات کی سفارش کی۔
ویمن پارلیمنٹری کاکس نے خواتین کے حقوق کے تحفظ، خواتین کے خلاف ہر قسم کے تشدد کے خاتمے اور متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف تک رسائی دلانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کاکس نے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات، ادارہ جاتی جوابدہی اور خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
