اسلام آباد: پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو ہدایت کی ہے کہ سیکریٹریٹ کی جانب سے خدمات حاصل کرنے والے وکلا، انہیں کی گئی ادائیگیوں اور ان کے ذریعے نمٹائے گئے عدالتی مقدمات کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ کمیشن نے یہ حکم معلومات تک رسائی کے حق کے قانون 2017 کے تحت دائر اپیل منظور کرتے ہوئے جاری کیا۔
یہ حکم 16 جولائی 2026 کو صحافی سعدیہ مظہر کی جانب سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے خلاف دائر اپیل پر جاری کیا گیا۔
کمیشن کے حکم کے مطابق سعدیہ مظہر نے 17 اپریل 2026 کو معلومات کے حصول کے لیے درخواست دی تھی جس میں پانچ اقسام کی معلومات طلب کی گئی تھیں۔ درخواست میں جنوری 2022 سے اب تک قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے حاصل کی گئی وکلا، ایڈووکیٹس، لا فرمز اور قانونی مشیروں کی خدمات کی سال بہ سال فہرست اور ہر ایک کو کی گئی ادائیگیوں کی سالانہ تفصیل مانگی گئی تھی۔
درخواست گزار نے جنوری 2022 سے مختلف عدالتوں میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے دائر کیے گئے تمام مقدمات کی تفصیلات بھی طلب کیں، جن میں مقدمہ نمبر، عنوان مقدمہ اور متعلقہ عدالتوں کے نام شامل تھے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن نمبر 2553/2023 اور رٹ پٹیشن نمبر 2554/2023 کے لیے مقرر کیے گئے وکلا کو کی گئی ادائیگیوں کی معلومات بھی طلب کی گئی تھیں۔
کارروائی کے دوران قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ معلومات 4 اکتوبر 2024 کے اسپیکر رولنگ کے تحت مراعات یافتہ ہیں۔ سیکریٹریٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ معلومات قانون شہادت آرڈر 1984 کے تحت مراعات یافتہ ابلاغ کے زمرے میں آتی ہیں۔
کمیشن نے معلوماتی درخواست، سیکریٹریٹ کے جواب اور متعلقہ قانونی دفعات کا جائزہ لینے کے بعد یہ دلائل مسترد کر دیے۔ کمیشن نے قرار دیا کہ طلب کی گئی معلومات عوامی ریکارڈ ہیں اور معلومات تک رسائی کے حق کے قانون 2017 کی کسی شق کے تحت افشا سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔
کمیشن نے مزید کہا کہ اسپیکر کی رولنگ وکلا کو کی گئی ادائیگیوں سے متعلق معلومات کو مراعات یافتہ قرار نہیں دیتی۔ کمیشن نے یہ بھی قرار دیا کہ قانون شہادت آرڈر 1984 کی دفعات طلب کی گئی معلومات پر لاگو نہیں ہوتیں۔
معلومات تک رسائی کے حق کے قانون 2017 کے مقاصد پر زور دیتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ اس قانون کا مقصد شفافیت، احتساب، عوامی شمولیت، اچھی حکمرانی اور عوامی اداروں کے پاس موجود معلومات تک وسیع تر عوامی رسائی کو فروغ دینا ہے۔
اپیل منظور کرتے ہوئے پاکستان انفارمیشن کمیشن نے سیکریٹری قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو ہدایت کی کہ مطلوبہ معلومات درخواست گزار اور کمیشن دونوں کو 10 روز کے اندر فراہم کی جائیں۔
