پاکستان، سوئٹزرلینڈ پارلیمانی روابط کو عملی تعاون میں بدلنے پر متفق

newsdesk
5 Min Read
کنوینر فرح ناز اکبر کی زیر صدارت پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کے اجلاس میں سوئس سفیر اسٹیفین رے اور ارکان قومی اسمبلی شریک ہیں۔

اسلام آباد: پاکستان، سوئٹزرلینڈ پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کا اجلاس کنوینر محترمہ فرح ناز اکبر کی زیر صدارت پاکستان میں سوئٹزرلینڈ کے سفیر عزت مآب اسٹیفین رے کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں پارلیمانی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دوطرفہ تعاون کے عملی راستوں کی نشاندہی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں قومی اسمبلی کے معزز ارکان رانا مبشر اقبال، وفاقی وزیر پبلک افیئرز یونٹ، احمد رضا مانیکا، میاں خان بگٹی، پلین بلوچ، کرن حیدر، نیلم، ہما اختر چغتائی اور ماہ جبین خان عباسی نے شرکت کی۔

کنوینر محترمہ فرح ناز اکبر نے سوئس سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کو بامعنی، نتیجہ خیز اور مسلسل رابطے کا مؤثر پلیٹ فارم بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے پارلیمنٹیرینز کے درمیان مستقل روابط، عوامی سطح کے تبادلوں اور مشترکہ چیلنجز پر تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔

محترمہ فرح ناز اکبر نے سوئس پارلیمنٹ میں ہم منصب فرینڈ شپ گروپ کے قیام کی تجویز بھی دی، جس کے بعد ورچوئل ملاقاتوں، باہمی دوروں اور موضوعاتی مباحثوں کے ذریعے ارکان کو ایک دوسرے کے قانون سازی اور نگرانی سے متعلق تجربات سے استفادہ کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

سوئٹزرلینڈ کے سفیر اسٹیفین رے نے پاکستان کی مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مزید گہرا کرنے کی نمایاں گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، سیاحت، سائنس، ثقافتی ورثے اور فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کی نشاندہی کی۔

سفیر نے پہاڑی علاقوں کی آبادیوں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی دیہات اور سیاحت پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ انہوں نے علم، تحقیق اور بہترین عملی تجربات کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی بہتر شناخت اور دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

اجلاس میں پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کے ارکان نے فنی تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ کو عملی تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔ ارکان نے تربیتی اداروں کے درمیان تبادلوں اور سوئٹزرلینڈ کے ووکیشنل ٹریننگ نظام سے سیکھنے کے امکانات پر گفتگو کی۔

شرکا نے اقتصادی تعاون، پاکستان میں کام کرنے والی سوئس کمپنیوں کے کردار، زرعی معاش، موسمیاتی لچک، بنیادی ڈھانچے اور آفات کے خطرات میں کمی جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ آفات سے نمٹنے کی تیاری کے تناظر میں متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط تعاون کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔

ارکان نے سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے مواقع کا جائزہ لیا، جن میں گندھارا پر مرکوز نمائش کے امکان پر بھی بات ہوئی، تاہم ایسی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے درکار انتظامی تقاضوں کو بھی تسلیم کیا گیا۔

اجلاس میں وظائف، طلبہ کے تبادلوں اور تعلیمی و پیشہ ورانہ تبادلوں تک رسائی بہتر بنانے کے مواقع پر بھی گفتگو کی گئی۔ ارکان نے عوامی سطح پر روابط بڑھانے، تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو وسعت دینے اور پاکستانی طلبہ، پیشہ ور افراد اور خواتین کے لیے ہنر سیکھنے اور معاشی سرگرمیوں میں شرکت کے مزید مواقع پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

اجلاس کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں پارلیمانی فرینڈ شپ گروپس کے درمیان باقاعدہ رابطہ برقرار رکھا جائے اور آئندہ بات چیت کے لیے مخصوص موضوعات کی نشاندہی کی جائے۔ دونوں جانب سے اس بات کو اہم قرار دیا گیا کہ پارلیمانی مکالمے کو تجارت، تعلیم، فنی تربیت، ثقافتی تبادلے، موسمیاتی لچک اور آفات کے خطرات میں کمی جیسے شعبوں میں عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے، تاکہ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کی دیرینہ دوستی مزید مستحکم ہو۔

Share This Article