اسلام آباد: کوئٹہ کی سمنگلی ہاؤسنگ اسکیم میں دو رہائشی گھروں پر تقریباً 40 مسلح افراد کے مبینہ طور پر جانے، دروازے لاتیں مار کر کھٹکھٹانے، گھروں کی تصاویر بنانے اور خواتین و بچوں کو ہراساں کرنے کے معاملے پر رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پارلیمنٹ میں تحاریک استحقاق جمع کرا دی ہیں۔
دونوں تحاریک میں 4 نومبر 2026 کو پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ نے بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ ان افراد کو کس نے بھیجا، آیا وہ سرکاری یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے، اور انہیں خاندانی گھروں تک جانے یا داخل ہونے کا کون سا قانونی اختیار حاصل تھا۔
قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی اپنی تحریک استحقاق میں این اے 326 سے رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ یہ واقعہ ان کے بنیادی حقوق اور منتخب رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے ان کے استحقاق کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ واقعہ حکومت کے ساتھ سیاسی اختلافات سے جڑا ہوا ہے اور اسے انہیں خوفزدہ اور ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا۔
تحاریک میں درج بیان کے مطابق تقریباً 40 افراد سمنگلی ہاؤسنگ اسکیم میں واقع ہاؤس ڈی 70 پہنچے، جسے نجی رہائش گاہ بتایا گیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے مرکزی گیٹ کو لاتیں ماریں، چاردیواری پر چڑھے اور گھر کی تصاویر بنائیں۔ گھر کے باہر نصب بجلی کے میٹر کی تصاویر بھی مبینہ طور پر لی گئیں۔
شور سن کر پڑوسی اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ علاقے میں موجود بعض طلبہ نے مبینہ طور پر اپنے موبائل فونز پر آنے والے افراد کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی، تاہم انہیں ویڈیو بنانے سے روک دیا گیا۔
بعد ازاں یہ گروپ اسی ہاؤسنگ اسکیم میں واقع ایک دوسرے خاندانی گھر، ہاؤس ڈی 22، بھی گیا۔ تحاریک میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے ہمراہ آنے والے افراد نے دروازوں کو لاتیں ماریں جس سے گھر میں موجود اہل خانہ، خصوصاً خواتین اور بچوں میں خوف پھیل گیا۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ کی تحریک میں بھی دونوں گھروں پر مبینہ آمد کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق جب اہل خانہ نے ان افراد سے اپنی شناخت بتانے کو کہا تو انہوں نے اپنے نام بتانے یا شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات پر آئے ہیں۔
عالیہ کامران کی تحریک میں کہا گیا ہے کہ آنے والے افراد اپنی شناخت ثابت نہ کر سکے اور نہ ہی رہائشی احاطے میں داخل ہونے کی کوئی قانونی وجہ یا اجازت پیش کر سکے۔ ان کے مطابق واقعے سے خوف، ذہنی اذیت اور عدم تحفظ پیدا ہوا۔
بیان کے مطابق عالیہ کامران کے چھوٹے بھائی عدنان بھی اس وقت خواتین اور بچوں کے ساتھ خاندانی گھر میں موجود تھے۔ انہوں نے مبینہ طور پر آنے والوں سے شناخت پوچھی، مگر مطلوبہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ بعد ازاں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے پر یہ گروپ وہاں سے چلا گیا۔
اپنی تحریک میں عالیہ کامران نے آئین کے آرٹیکلز 9، 14 اور 15 کا حوالہ دیا، جن کا تعلق تحفظ، انسانی وقار اور نقل و حرکت کی آزادی سے ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی خیالات کی بنیاد پر کسی منتخب نمائندے کو خوفزدہ کرنے کی کوئی بھی کوشش پارلیمنٹ کی آزادی اور اس کے ارکان کی آزادانہ طور پر فرائض انجام دینے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔
عالیہ کامران نے اسپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کی ہے کہ تحریک استحقاق قبول کی جائے، اسے قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے اور متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی یہ تعین کرے کہ آنے والے افراد کون تھے، کس اختیار کے تحت گھروں پر گئے اور ان کے اقدامات کی قانونی بنیاد کیا تھی۔ انہوں نے اپنے خاندان کے تحفظ اور گھروں کی نجی حیثیت کے تحفظ کے لیے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی الگ طور پر سینیٹ کے ذریعے کارروائی کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تحریک استحقاق متعلقہ کمیٹی کے حوالے کی جائے تاکہ واقعے کا جائزہ لے کر رپورٹ ایوان میں پیش کی جا سکے۔
