گلگت بلتستان کو آئی ٹی برآمدات اور روزگار کا اہم مرکز بنانے پر زور

newsdesk
4 Min Read
سرینا ہوٹل گلگت میں صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے روابط سے متعلق پاشا کا سیشن منعقد ہوا۔

اسلام آباد: پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) نے برٹش کونسل کے ساتھ ٹیم یورپ کے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) سیکٹر سپورٹ پروگرام کے تحت اشتراک کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پاشا کے چیئر اسپیشل انیشی ایٹوز محمد زوہیب خان کے مطابق سرینا ہوٹل گلگت میں “انڈسٹری لنکیجز اینڈ گریجویٹ ایمپلائی ایبلٹی” کے موضوع پر ایک اہم سیشن منعقد کیا گیا، جس کا مقصد حکومت، اکیڈمیا اور صنعت کے سہ فریقی تعاون اور ہم آہنگی کو اجاگر کرنا تھا۔

فورم سے خطاب میں محمد زوہیب خان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ڈیجیٹل شعبے کا بڑا اور ابھی تک پوری طرح استعمال نہ ہونے والا ٹیلنٹ موجود ہے، جو قومی آئی ٹی برآمدات میں اضافہ اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی معاشی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیز رفتار، قابل اعتماد اور بلا تعطل انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق اگر مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر دستیاب نہ ہو تو گلگت بلتستان کے نوجوان عالمی منڈیوں کے مواقع سے کٹے رہیں گے۔

محمد زوہیب خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یونیورسٹیوں اور ٹی وی ای ٹی اداروں کے نصاب کو آئی ٹی برآمدات کی حقیقی اور موجودہ ضروریات سے براہ راست ہم آہنگ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مربوط اور ہم وقت روابط ناگزیر ہیں۔

پاشا مقامی آئی ٹی شعبے کی تنظیم گلگت بلتستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (GBSHA) کے ساتھ پالیسی وکالت، ہنر مندی کے فروغ، برآمدی سہولت کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کر رہی ہے۔

تقریب میں علاقائی اور قومی سطح کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے پینل مباحثوں میں حصہ لیا۔ شرکا میں محمد زوہیب خان، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی (KIU) کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق، اور سیکرٹری آئی ٹی گلگت بلتستان ضمیر عباس شامل تھے۔ پاشا کی سابق سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی رکن نادیہ اقبال نے بھی سیشن میں شرکت کی۔

اس موقع پر پاشا کے چیئرمین ڈاکٹر شعیب احمد خان نے کہا کہ پاکستان کے قومی آئی ٹی برآمدی اہداف صرف بڑے شہری مراکز تک محدود رہ کر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان جیسے کم سہولیات یافتہ علاقوں کو قومی آئی ٹی مین اسٹریم کا حصہ بنانا پاشا کی اسٹریٹجک ترجیح ہے۔

ڈاکٹر شعیب احمد خان کے مطابق یورپی یونین اور برٹش کونسل جیسے بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے پاشا ایسے مشترکہ اقدامات کر رہی ہے جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ علاقائی گریجویٹس مستند اور مارکیٹ میں طلب رکھنے والی تکنیکی مہارتیں حاصل کریں، تاکہ یہ مہارتیں براہ راست بہتر روزگار میں تبدیل ہو سکیں۔

پاشا کے مطابق کثیر فریقی تعاون کے ذریعے ملک بھر میں ٹیلی کام اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے آواز بلند کی جاتی رہے گی، تاکہ پاکستان کے ہر حصے کا ٹیلنٹ ملک کی علم پر مبنی برآمدی معیشت کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر سکے۔

Share This Article