ٹی ٹی ایس اساتذہ کے لیے نئی تنخواہ اسکیم منظور، بی پی ایس تقرریوں کی شرط یکم جنوری 2027 سے لاگو ہوگی

newsdesk
6 Min Read
ایچ ای سی نے ٹی ٹی ایس اساتذہ کے لیے نظرثانی شدہ تنخواہی پیکج جاری کر دیا۔

اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کے لیے تنخواہوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ جامعات میں بیسک پے اسکیل پر پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی تقرری کے لیے پوسٹ پی ایچ ڈی تجربے کی شرط کے نفاذ کو مزید مہلت دے دی گئی ہے۔

ایچ ای سی کے مطابق ٹینیور ٹریک سسٹم کے نئے تنخواہی پیکج کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ نوٹیفکیشن ڈائریکٹر جنرل فنانس غلام نبی نے یکم اکتوبر 2026 کو جاری کیا۔ یہ منظوری وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی، جس سے وزارت خزانہ نے 10 جولائی 2026 کے آفس میمورنڈم کے ذریعے آگاہ کیا تھا۔

نئے پیکج کے تحت پروفیسر کی کم از کم تنخواہ 394,875 روپے سے بڑھا کر 407,230 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ 684,450 روپے سے بڑھ کر 712,030 روپے ہو گئی ہے۔ پروفیسرز کا سالانہ انکریمنٹ بھی 19,305 روپے سے بڑھا کر 20,320 روپے مقرر کیا گیا ہے۔

ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی تنخواہوں میں نسبتاً زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کی کم از کم تنخواہ 263,250 روپے سے بڑھا کر 370,810 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ 493,500 روپے سے بڑھا کر 645,610 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ایسوسی ایٹ پروفیسرز کا سالانہ انکریمنٹ 15,356 روپے سے بڑھا کر 18,320 روپے کر دیا گیا ہے۔

اسسٹنٹ پروفیسرز کے لیے کم از کم تنخواہ 175,500 روپے سے بڑھا کر 288,020 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ 356,475 روپے سے بڑھ کر 553,820 روپے ہو گئی ہے۔ ان کا سالانہ انکریمنٹ بھی 12,065 روپے سے بڑھا کر 17,720 روپے مقرر کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق 30 جون 2026 کو پہلے سے سروس میں موجود ملازمین کی بنیادی تنخواہ ٹی ٹی ایس 2026 کے تحت پوائنٹ ٹو پوائنٹ بنیاد پر مقرر کی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملازم کو نئے تنخواہی ڈھانچے میں اسی مرحلے پر رکھا جائے گا جو سابقہ ٹی ٹی ایس پیکج میں کم از کم تنخواہ سے اوپر اس کے حاصل کردہ مرحلے سے مطابقت رکھتا ہو۔

ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ نظرثانی شدہ تنخواہی پیکج سے وفاقی حکومت یا ایچ ای سی پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تنخواہوں میں اضافے کے مالی اثرات متعلقہ جامعات اپنے وسائل سے برداشت کریں گی۔

کمیشن کے مطابق ٹینیور ٹریک سسٹم کی دیگر تمام شرائط و ضوابط بدستور برقرار رہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقبل میں وفاقی حکومت کی جانب سے ٹی ٹی ایس تنخواہی پیکج میں کوئی مزید نظرثانی کی گئی تو ایچ ای سی اسے بھی نوٹیفائی کرے گا۔

یہ نوٹیفکیشن سرکاری شعبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے چانسلرز کے دفاتر، صوبائی ہائر ایجوکیشن محکموں، صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعلقہ اداروں، وائس چانسلرز، ریکٹرز اور سرکاری جامعات و اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایچ ای سی نے 2 اکتوبر 2026 کو جاری ایک الگ نوٹیفکیشن میں جامعات اور ڈگری دینے والے اداروں میں بی پی ایس پر پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی تقرری کے لیے پوسٹ پی ایچ ڈی تجربے کی شرط کے نفاذ کو مزید موخر کر دیا ہے۔

اس شرط کے تحت پروفیسرز کے لیے آٹھ سالہ پوسٹ پی ایچ ڈی تجربہ اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے لیے چار سالہ پوسٹ پی ایچ ڈی تجربہ لازمی قرار دیا گیا تھا۔ ایچ ای سی اس سے قبل 30 جولائی 2026 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے بھی اس شرط کے نفاذ کو موخر کر چکا تھا۔

تازہ فیصلہ ایچ ای سی کمیشن کے 14ویں ارجنٹ اجلاس میں کیا گیا، جو 21 ستمبر 2026 کو منعقد ہوا۔ ڈائریکٹر جنرل کوآرڈینیشن شہزیب عباسی کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عملدرآمد اب 31 دسمبر 2026 تک موخر کر دیا گیا ہے۔

کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن حتمی ہوگی اور اس تاریخ کے بعد معاملے پر مزید التوا کے لیے غور نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح متعلقہ تقرریوں کے لیے پوسٹ پی ایچ ڈی تجربے کی شرط یکم جنوری 2027 سے سختی سے لاگو ہوگی۔

ایچ ای سی کے ان دونوں فیصلوں کے نتیجے میں ٹی ٹی ایس کے تحت پہلے سے کام کرنے والے اساتذہ کو تنخواہوں میں ریلیف ملے گا، جبکہ بی پی ایس تقرریوں کے لیے جامعات اور امیدواروں کو پوسٹ پی ایچ ڈی تجربے کی شرط کے لازمی نفاذ سے قبل اضافی وقت دستیاب ہوگا۔ تاہم تنخواہوں میں اضافے کی مالی ذمہ داری سرکاری جامعات کو خود اٹھانا ہوگی کیونکہ ایچ ای سی اور وفاقی حکومت نئے ٹی ٹی ایس پیکج کے باعث کوئی اضافی لاگت برداشت نہیں کریں گے۔

Share This Article