اسلام آباد: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے غیر ملکی شہریت، غیر ملکی سفری دستاویزات اور غیر ملکی شہری سے شادی سے متعلق لازمی ڈیکلریشن جمع نہ کرانے والے سینئر سرکاری افسران کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے ایک ہفتے کے اندر مطلوبہ معلومات فراہم نہ کیں تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ انتباہ 2 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے آفس میمورنڈم کے ذریعے دیا گیا، جو سول سرونٹس (ڈسکلوژر اینڈ پروہیبیشن آف فارن اینڈ ڈوئل نیشنلٹی) رولز، 2026 سے متعلق ہے۔ میمورنڈم میں 4 جون اور 17 جولائی 2026 کو جاری کی گئی سابقہ ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے وزارتوں اور ڈویژنز کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ رول 3 کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے اپنی غیر ملکی شہریت سے متعلق حیثیت باضابطہ طور پر ظاہر کرنا لازم ہے۔
رول 3(3) کے مطابق ہر سرکاری ملازم کو قواعد کے سرکاری گزٹ میں نوٹیفائی ہونے کے بعد 90 دن کے اندر ڈیکلریشن جمع کرانا ضروری ہے۔ اس ڈیکلریشن میں سرکاری ملازم اور اس کے زیر کفالت افراد کی شہریت، غیر ملکی سفری دستاویزات کی موجودگی اور غیر ملکی شہری سے شادی سے متعلق معلومات شامل ہونا لازم ہیں۔ یہ ڈیکلریشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مقرر کردہ فارمیٹ یا طریقہ کار کے مطابق جمع کرایا جانا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، سیکرٹریٹ گروپ اور آفس مینجمنٹ گروپ کے متعدد افسران نے تاحال اپنے ڈیکلریشن جمع نہیں کرائے۔ تازہ میمورنڈم میں ایسے افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر مطلوبہ ڈیکلریشن فراہم کریں۔ مقررہ مدت میں عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سول سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز، 2020 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔
انتباہ رول 3(4) کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق مطلوبہ ڈیکلریشن جمع نہ کرانا یا غلط ڈیکلریشن دینا، سول سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز، 2020 کے تحت مس کنڈکٹ تصور ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے افسران کو باقاعدہ تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ ڈیکلریشن صرف اس سوال تک محدود نہیں کہ کسی افسر کے پاس دوسری شہریت ہے یا نہیں۔ قواعد کے تحت غیر ملکی شہریت، غیر ملکی سفری دستاویزات اور زیر کفالت افراد کی شہریت کی حیثیت سے متعلق معلومات بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔ غیر ملکی شہری سے شادی کو بھی ڈیکلریشن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا میمورنڈم وفاقی حکومت کی تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ اس کی نقول تمام چیف سیکرٹریز اور صوبائی پولیس افسران کو بھی بھیجی گئی ہیں تاکہ اپنے اپنے دائرہ کار میں اسی نوعیت کی کارروائی کی جا سکے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اسلام آباد میں اپنے ڈائریکٹر آئی ٹی کو بھی ہدایت کی ہے کہ میمورنڈم کو سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے تاکہ ہدایات سرکاری محکموں اور افسران کے لیے دستیاب رہیں۔
یہ اقدام وفاقی حکومت کی جانب سے 2026 میں متعارف کرائے گئے ان قواعد کے تسلسل میں سامنے آیا ہے جن کا مقصد سرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریت کی حیثیت کے بارے میں زیادہ شفافیت اور کنٹرول یقینی بنانا ہے۔ ان قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کو غیر ملکی شہریت اور متعلقہ دستاویزات کے بارے میں معلومات سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنانا ہوں گی۔
نئے فریم ورک میں زیر کفالت افراد کی حیثیت کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ افسران صرف اپنی معلومات دینے کے بجائے اپنے زیر کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت اور سفری دستاویزات سے متعلق متعلقہ معلومات بھی ظاہر کرنے کے پابند ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تازہ میمورنڈم میں واضح کیا ہے کہ یہ ڈیکلریشن کوئی اختیاری انتظامی عمل نہیں۔ مطلوبہ مدت میں اسے جمع نہ کرانے کی صورت میں سول سرونٹس پر لاگو تادیبی قواعد کے تحت مس کنڈکٹ کا کیس بن سکتا ہے۔
2 اکتوبر کا میمورنڈم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکشن آفیسر ڈی فور ایم خرم شہزاد نے جاری کیا۔ اسے وفاقی وزارتوں، ڈویژنز، صوبائی انتظامی حکام اور پولیس حکام کو عمل درآمد کے لیے ارسال کیا گیا ہے۔
اس اقدام کے بعد محکموں کو ان افسران کی نشاندہی کرنا ہوگی جنہوں نے ابھی تک ڈیکلریشن کا عمل مکمل نہیں کیا، اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے دی گئی اضافی ایک ہفتے کی مہلت میں تعمیل یقینی بنانا ہوگی۔ انتباہ میں خاص طور پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، سیکرٹریٹ گروپ اور آفس مینجمنٹ گروپ کے افسران کا ذکر کیا گیا ہے۔
حکومت کے اس اقدام سے سرکاری افسران کی غیر ملکی شہریت اور متعلقہ روابط کا باضابطہ ریکارڈ رکھنے پر زور دیا گیا ہے، جسے متعلقہ حکام ضرورت پڑنے پر چیک کر سکیں گے۔ تازہ حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ غلط معلومات فراہم کرنا بھی تادیبی قواعد کے تحت اسی طرح دیکھا جائے گا جیسے مطلوبہ ڈیکلریشن جمع نہ کرانا۔
