اسلام آباد، 18 اکتوبر 2026ء: وزیراعظم پاکستان کی ہدایات پر پمز کی بحالی اور طبی سہولتوں میں بہتری کے لیے قائم اوور سائٹ کمیٹی کا اجلاس جنرل ڈاکٹر اظہر کیانی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں نئے ایمرجنسی بلاک کو جلد از جلد فعال بنانے اور بحالی کے جاری اقدامات میں تیزی لانے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالق، پروفیسر ڈاکٹر بریگیڈیئر عظمت حیات، ڈاکٹر ارم نوید، پروفیسر ڈاکٹر نزہت یاسمین اور ڈاکٹر شمائلہ نعیم نے شرکت کی۔ شرکا نے 15 اکتوبر کے اجلاس کے بعد تیار کیے گئے عملی نکات کا تفصیلی جائزہ لیا اور پمز میں جاری تعمیراتی، بحالی اور انتظامی امور کو ہنگامی بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ضرورت پر اتفاق کیا تاکہ مریضوں کو بروقت اور بہتر طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس میں نئے ایمرجنسی بلاک کی تکمیل اور اسے مریضوں کے لیے کھولنے سے متعلق اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ضمن میں سابقہ فلٹر ایمرجنسی اور مرکزی ایمرجنسی سے طبی آلات کی منتقلی، عملے کی تیاری اور دیگر ضروری انتظامات کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل عملے کی روزانہ مشقی سرگرمیوں اور ان کی ہفتہ وار پیش رفت کے جائزے کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
پمز کے متعلقہ شعبوں میں تعمیراتی کاموں کے جائزے کے لیے پی آئی ڈی ایل ٹیم سے رابطہ کرنے اور 21 اکتوبر 2026ء تک جائزہ رپورٹس حاصل کرنے کے معاملے پر بھی غور ہوا۔ اجلاس میں ہیٹنگ، وینٹی لیشن اور ایئرکنڈیشننگ یعنی HVAC کے کاموں کی پیش رفت اور یکم دسمبر 2026ء کی مقررہ مدت پر بھی بات چیت کی گئی۔ تمام شعبوں میں وینٹی لیٹرز کی فعالیت جانچنے اور ضرورت کے مطابق ان کی مرمت، دیکھ بھال یا تبدیلی کے اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔
انتظامی نظم و ضبط اور عملے کی شناخت بہتر بنانے کے لیے دوران ڈیوٹی سرکاری شناختی کارڈ آویزاں کرنے کی فوری اور لازمی پابندی پر زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ اسسٹنٹ پروفیسرز، سینئر رجسٹرارز، میڈیکل افسران، نرسنگ و پیرامیڈیکل عملے اور انٹرنیز کے لیے رنگوں کی بنیاد پر اسکربز کی یکساں شناختی اسکیم تیار اور نافذ کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔
پمز کی تنظیم نو اور بحالی کے منصوبے کے تحت تمام شعبوں سے طبی آلات اور تعمیراتی کاموں کی ضروریات ترجیحی بنیادوں پر جمع کرانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ذریعے پمز کارڈیک سینٹر میں “ایک مریض، ایک شناختی نمبر” کے پائلٹ منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس پر عملدرآمد کا ہدف یکم نومبر 2026ء مقرر ہے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ متعلقہ شعبے باہمی رابطے کو مؤثر بنائیں، ذمہ داریاں بروقت ادا کریں اور مقررہ اہداف کے مطابق پیش رفت یقینی بنائیں تاکہ پمز میں بحالی اور بہتری کے اقدامات کے فوائد جلد مریضوں تک پہنچ سکیں۔
