اسلام آباد: وزیراعظم کی ہدایات پر کینو اور دیگر ترشاوہ پھلوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے قائم ذیلی کمیٹی کا اہم اجلاس وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں متعلقہ اداروں کے 41 نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے پاکستانی کینو کی برآمدات میں اضافے، ایکسپورٹرز کو درپیش مسائل کے حل اور عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق پورٹ قاسم پر 60 فیصد ٹیرف رعایت پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاقی وزارتوں، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان رابطہ کاری مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
ڈاکٹر مختار بھرتھ نے ہدایت کی کہ کینو برآمد کنندگان کو سہولتوں کی فراہمی اور عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ اجلاس میں ایران کی سرحد پر پھلوں کی ترسیل کے لیے روزانہ قافلوں کی دستیابی یقینی بنانے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
جلد خراب ہونے والی زرعی مصنوعات کی فوری کسٹمز کلیئرنس کے لیے گرین چینل متعارف کرانے کی تجویز دی گئی۔ برآمد کنندگان کے فنانشل انسٹرومنٹ میں 15 نومبر سے قبل توسیع کے لیے بھی اقدامات کی ہدایت کی گئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق برآمدی آمدن کی وطن واپسی کی زیادہ سے زیادہ مقررہ مدت 120 دن ہے۔ اجلاس میں پاکستان ہارٹی کلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کو ہدایت کی گئی کہ 15 روز میں پانچ سالہ روڈ میپ تیار کیا جائے۔ ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ کینو اور دیگر ترشاوہ پھلوں کی ویلیو ایڈیشن اور برآمدات بڑھانے کے لیے پانچ سالہ روڈمیپ تشکیل دیا جائے۔
اجلاس میں سرگودھا سے کراچی اور کوئٹہ تک ہفتہ وار ریفریجریٹڈ فریٹ ٹرین چلانے کی تجویز بھی پیش کی گئی، جبکہ وزارت ریلوے کو ریفریجریٹڈ فریٹ ٹرین کے لیے فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ فلپائن میں درآمدی ڈیوٹی سے متعلق مسائل کے حل اور روس میں اضافی ویلیوایشن کے معاملات کو فوری طور پر نمٹانے کے لیے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
