وزیرِصحت کی زیرصدارت ویکسین سازی اور ہیپاٹائٹس سی اجلاس

newsdesk
4 Min Read
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں ویکسین سازی، انڈونیشیا معاہدہ، ہیپاٹائٹس سی پائلٹ اور قومی صحت پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سید مصطفیٰ کمال کی قیادت میں وزارتِ صحت میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی سیکرٹری برائے صحت، اضافی سیکرٹری، ادارہ برائے منظم ادویات کے نمائندہ، قومی ادارہ برائے صحت کے سربراہ اور وزارت کے سینئر اہلکار شریک تھے۔ اجلاس میں گزشتہ عالمی اسمبلی جنیوا میں کیے گئے فیصلوں اور وابستہ بین الاقوامی شراکت داریوں پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جامع جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ صحت نے عالمی وعدوں اور تعاون کو بروقت اور مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں مقامی سطح پر ویکسین سازی کی پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر نے کہا کہ ویکسین سازی ملکی صحت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے اور مقامی پیداوار کو تیز کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ انڈونیشیا کے ساتھ ویکسین سازی کے معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے کیونکہ انڈونیشیا اس شعبے میں پاکستان کا اہم شراکت دار ہے اور اس تعاون کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ادویات کے ضوابط کی نفاذی شقوں اور تکنیکی تقاضوں کو جلد از جلد مکمل کریں تاکہ وطن میں ویکسین سازی کے منصوبے بروقت جاری رہیں۔ وزیر نے واضح کیا کہ تیرہ بڑی بیماریوں کے خلاف مقامی سطح پر ویکسین سازی ایک فطری اور ناگزیر ضرورت بن چکی ہے اور اسی بنیاد پر ضابطہ کار، تشخیصی صلاحیت اور تکنیکی معاونت کو تیز کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں گیوی فریم ورک کے تحت مستقبل کے مالی معاونت کے امکانات پر بھی بات کی گئی۔اجلاس میں قومی صحت سپورٹ پروگرام کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا جسے وزیرِ صحت نے حکومت کا اہم فلیگشپ منصوبہ قرار دیا اور عوام کو معیاری طبی سہولیات مہیا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ موقع پر بتایا گیا کہ پروگرام کے ذریعے صحت کا معیار بہتر بنانے اور سہولیات کی رسائی میں اضافہ یقینی بنانے کے لیے مخصوص اقدامات جاری ہیں۔اسی روز اسلام آباد میں جاری ہیپاٹائٹس سی خاتمے کے پائلٹ پراجیکٹ کا علیحدہ جائزہ اجلاس بھی وزیرِ صحت کی زیرصدارت ہوا جس میں وفاقی سیکرٹری، بڑے ہسپتالوں کے سربراہان اور ضلعی ہیلتھ آفیسر اسلام آباد نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسلام آباد میں اس اسکریننگ مہم کے دوران پیش آنے والی مشکلات، آپریشنل رکاوٹیں اور عوام تک رسائی بڑھانے کی حکمتِ عملیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور موجودہ پیشرفت سے شرکاء کو بریف کیا گیا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور حکومت اس مرض کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس بیماری کے خاتمے کے اقدامات تیز کیے جائیں اور آبادی کی زیادہ سے زیادہ اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے۔ عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے مہمات میں شدت لائی جائیں تاکہ زیادہ افراد ٹیسٹنگ کے لیے سامنے آئیں۔وزیر نے ہسپتالوں کے سربراہان پر زور دیا کہ اپنے علاقوں میں اس پروگرام کی رفتار تیز کریں اور مثبت ٹیسٹ آنے والے مریضوں کو بروقت علاج فراہم کیا جائے۔ انہوں نے قابلِ ذکر کہا کہ بچاؤ علاج سے بہتر ہے اور عوام کو پہلے سے محفوظ رکھنے کے اقدامات لازمی ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اسلام آباد میں مخصوص طبی مراکز کا دورہ کریں اور مفت ٹیسٹنگ سہولیات سے فائدہ اٹھائیں کیونکہ اس پروگرام کی کامیابی میں عوامی تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے