غریب پاکستانی آبادیوں کو سیلاب سے زیادہ نقصان، بحالی بھی سست رہی، تحقیق

16 Min Read
نئی تحقیق کے مطابق پاکستان کے غریب اور بار بار سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل زیادہ سست اور غیر مستحکم رہا۔

اسلام آباد: پاکستان میں 2022 اور 2025 کے تباہ کن سیلابوں پر ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ غریب علاقوں اور کم آمدنی والی آبادیوں کو سیلاب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا جبکہ ان کی بحالی بھی نسبتاً سست اور غیر مستحکم رہی۔ تحقیق کے مطابق 2022 کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل جاری تھا کہ 2025 کے ایک اور بڑے سیلاب نے کئی علاقوں میں اس عمل کو دوبارہ متاثر کردیا۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آبادی کی دولت، بنیادی ڈھانچے، مالی وسائل اور سرکاری سہولیات تک رسائی میں پہلے سے موجود فرق نے اس بات پر گہرا اثر ڈالا کہ مختلف علاقوں نے سیلاب کا سامنا کیسے کیا اور تباہی کے بعد کس رفتار سے بحال ہوئے۔

تحقیق کا عنوان "پاکستان میں سیلاب کے بعد بحالی میں عدم مساوات، 2022 اور 2025 کے مون سون سیلابوں کے سیٹلائٹ ڈیٹا اور نسبتی دولت کے اشاریے سے شواہد” ہے۔ یہ تحقیق سغرا، سری پورن ڈارن کاچاتارن اور یوشیو کاجی تانی نے کی اور اسے ماحولیاتی و پائیداری سے متعلق تحقیقی جریدے Environmental and Sustainability Indicators میں شائع کیا گیا۔

محققین نے پاکستان بھر میں سیلاب کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے رات کے وقت روشنی، نباتات اور آبادی کے سیٹلائٹ ڈیٹا کا استعمال کیا۔ تحقیق میں ملک بھر کے 85 ہزار 533 گرڈ سیلز کا جائزہ لیا گیا، جن میں ہر سیل کا اوسط رقبہ تقریباً 4.4 مربع کلومیٹر تھا۔ شدید سیلاب سے متاثرہ 15 ہزار 794 سیلز کا غیر متاثرہ علاقوں سے موازنہ کیا گیا۔

تحقیق میں رات کے وقت نظر آنے والی روشنی کو مقامی معاشی اور سماجی سرگرمیوں کا پیمانہ قرار دیا گیا جبکہ نباتات کے ڈیٹا سے فصلوں اور قدرتی سبزے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا گیا۔ آبادی کے اعداد و شمار سے سیلاب کی زد میں آنے والے لوگوں کی تعداد معلوم کی گئی جبکہ نسبتی دولت کے اشاریے کے ذریعے غریب اور نسبتاً خوشحال علاقوں کا موازنہ کیا گیا۔

2022 کا سیلاب ملکی تاریخ کا شدید ترین قرار

تحقیق کے مطابق 2022 کا سیلاب پاکستان کی ریکارڈ شدہ تاریخ کا شدید ترین سیلاب تھا۔ اس سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، ایک ہزار 739 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ تقریباً 17 لاکھ گھر تباہ یا متاثر ہوئے۔ صرف زرعی شعبے کا نقصان 3.7 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا تھا۔

تحقیق کے مطابق 2025 کے مون سون کے دوران اس وقت ایک اور بڑا سیلاب آیا جب 2022 کی تباہی سے مکمل بحالی ابھی باقی تھی۔ تقریباً 69 لاکھ افراد متاثر ہوئے جبکہ تقریباً 30 لاکھ افراد بے گھر یا نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

پنجاب میں تقریباً 11 لاکھ 20 ہزار ہیکٹر زرعی اراضی زیر آب آگئی جبکہ تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار مکانات اور 4 ہزار 700 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے۔

سندھ اور بلوچستان میں نباتات کو شدید نقصان

تحقیق کے مطابق 2022 کے سیلاب کا فوری اثر نباتات پر خاص طور پر شدید تھا۔ سیلاب زدہ علاقوں میں غیر متاثرہ علاقوں کے مقابلے میں نباتات کا نقصان تقریباً 29 فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ اثر سندھ اور بلوچستان کے زرعی علاقوں میں خاص طور پر نمایاں رہا۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2022 میں سیلاب زدہ گرڈ سیلز میں اوسطاً 37.3 فیصد آبادی براہ راست سیلابی پانی کی زد میں آئی۔ محققین نے واضح کیا کہ یہ تعداد آبادی کے سیلاب سے متاثر ہونے کی ایک وضاحتی پیمائش ہے اور اسے سیلاب کے الگ سے اثرات کا تخمینہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

معاشی سرگرمیوں میں کمی

تحقیق کے مطابق 2022 کے سیلاب کے دوران رات کے وقت روشنی کی سرگرمی میں بھی کمی دیکھی گئی۔ غیر متاثرہ علاقوں سے موازنے میں یہ فرق 0.831 فیصد رہا تاہم محققین نے واضح کیا کہ زیادہ سخت موازنے کے طریقے میں یہ نتیجہ شماریاتی طور پر کمزور ہوگیا۔

محققین نے خبردار کیا کہ رات کے وقت روشنی کا ڈیٹا دیہی اور کم آمدنی والے زرعی علاقوں کو پہنچنے والے معاشی نقصان کی مکمل تصویر پیش نہیں کر سکتا کیونکہ ایسے علاقوں میں عام حالات میں بھی رات کے وقت روشنی کی سطح کم ہوتی ہے۔

2023 اور 2024 میں بحالی کے آثار

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2022 کے بعد معاشی سرگرمیوں میں کچھ بہتری نظر آئی۔ غیر متاثرہ علاقوں کے مقابلے میں رات کے وقت روشنی میں اضافہ 2023 میں 2.904 فیصد اور 2024 میں 4.035 فیصد زیادہ رہا۔

تاہم محققین نے خبردار کیا کہ ان اعداد و شمار کو صرف تعمیر نو اور بحالی کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ سیلاب سے متاثرہ اور موازنے کے لیے منتخب علاقوں میں 2022 سے پہلے ہی مختلف رجحانات موجود تھے۔

2025 کے سیلاب نے اس بحالی کے عمل کو دوبارہ متاثر کردیا۔ 2024 سے 2025 کے درمیان رات کے وقت روشنی کی سرگرمی میں 1.54 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ایسے علاقوں کو موازنے کے لیے استعمال کیا گیا جہاں دونوں برسوں میں سیلاب نہیں آیا تو کمی 2.31 فیصد تک رہی۔

2025 کے سیلاب پر الگ تجزیے میں معاشی سرگرمی میں کمی 2.12 سے 2.86 فیصد کے درمیان رہی۔

نباتات کی بحالی مختلف رہی

نباتات کے حوالے سے بحالی کا رجحان کچھ مختلف رہا۔ اپریل 2023 تک سیلاب زدہ علاقوں میں نباتات کی سابقہ سطح بحال ہونے کی شرح موازنے کے علاقوں سے 3.644 فیصد زیادہ رہی۔

یہ فرق اکتوبر 2023 میں 4.176 فیصد، اپریل 2024 میں 4.244 فیصد اور اکتوبر 2024 میں 4.292 فیصد تک پہنچ گیا۔

تاہم 2025 کے سیلاب نے ایک بار پھر نباتات کو نقصان پہنچایا اور اس کے نتیجے میں نباتات میں مزید 10.902 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

غریب علاقوں کی بحالی سب سے مشکل

تحقیق کا ایک اہم نتیجہ دولت اور بحالی کے درمیان واضح تعلق ہے۔ کم دولت والے علاقوں کو زیادہ منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا یا ان میں بحالی کی رفتار نسبتاً کم رہی۔

یہ فرق ابتدائی نقصان کے بعد کم ضرور ہوا لیکن مختلف برسوں میں اس کا عمومی رجحان برقرار رہا۔ 2022 میں دولت اور سیلاب کے اثرات کے درمیان تعلق شماریاتی طور پر اہم تھا اور اس کا اسپیئر مین ارتباط 0.167 ریکارڈ کیا گیا۔

یہ شرح 2023 میں 0.060، 2024 میں 0.071 اور 2025 میں 0.081 رہی، تاہم مختلف دولت رکھنے والے علاقوں میں عمومی فرق برقرار رہا۔

محققین کے مطابق غریب آبادیوں کے لیے بحالی مشکل ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں رسمی مالیاتی خدمات اور قرضوں تک محدود رسائی، زراعت پر زیادہ انحصار، کمزور مکانات اور مخصوص سرکاری امداد تک محدود رسائی شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق بار بار آنے والے سیلاب غریب خاندانوں کے پاس پہلے سے موجود محدود رقم، اثاثوں اور دیگر وسائل کو بھی ختم کرسکتے ہیں۔

زیریں سندھ میں غربت اور سیلاب کا خطرہ ایک ساتھ

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کم دولت والے علاقے اور شدید سیلاب سے متاثرہ علاقے ملک کے بعض حصوں میں ایک ہی جگہ موجود ہیں، خاص طور پر سندھ میں دریائے سندھ کے زیریں طاس میں۔

2022 میں سب سے زیادہ عرصے تک سیلاب کی زد میں رہنے والے اضلاع میں اوسط دولت کے کچھ انتہائی کم اسکور بھی ریکارڈ کیے گئے۔

محققین کے مطابق اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی علاقوں میں سیلاب کا قدرتی خطرہ اور سماجی و معاشی کمزوری ایک دوسرے کے قریب موجود ہیں۔

پنجاب میں نسبتاً بہتر بحالی

صوبائی سطح پر صورتحال مختلف رہی۔ پنجاب میں بحالی کا رجحان نسبتاً مضبوط رہا اور رات کے وقت روشنی کی سرگرمی سے متعلق اثرات 2022 میں 3.3 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 10 فیصد تک پہنچ گئے۔

زرعی شعبے میں بھی بحالی نسبتاً مستحکم رہی۔ تحقیق میں اس ممکنہ وجہ کے طور پر بہتر بنیادی ڈھانچے، زیادہ دولت اور مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت کی نشاندہی کی گئی ہے تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ ممکنہ وجوہات ہیں اور تحقیق انہیں حتمی طور پر ثابت نہیں کرتی۔

سندھ میں بحالی کا عمل کمزور

سندھ میں بحالی کا رجحان اس کے برعکس رہا۔ رات کے وقت روشنی کی سرگرمی میں 2022 کے دوران 6.2 فیصد منفی اثر ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2023 میں بحالی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہی اور 2024 اور 2025 میں بھی منفی نتائج سامنے آئے۔

تحقیق کے مطابق سندھ میں ملک بھر کے مقابلے میں سیلاب سے متاثر ہونے والی آبادی کا تناسب سب سے زیادہ تھا۔ 2022 میں صوبے میں نباتات کے نقصان کا پیمانہ 52.4 فیصد رہا۔

خیبر پختونخوا میں معاشی اور قدرتی بحالی میں فرق

خیبر پختونخوا میں صورتحال مختلف نظر آئی۔ رات کے وقت روشنی سے ظاہر ہونے والی معاشی سرگرمی کا اثر 2022 میں منفی 1.3 فیصد سے کم ہوکر 2025 میں منفی 7.1 فیصد تک پہنچ گیا۔

اس کے برعکس نباتات کی بحالی نمایاں طور پر مثبت رہی اور یہ فرق 13.7 سے 13.8 فیصد تک رہا۔

تحقیق کے مطابق اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدرتی نباتات معاشی سرگرمیوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بحال ہوسکتی ہیں کیونکہ معاشی سرگرمیاں بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ، مارکیٹوں اور رسمی روزگار پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔

بلوچستان میں نقصان کے بعد مسلسل کمی

بلوچستان میں بھی بحالی میں تاخیر دیکھی گئی۔ 2022 میں رات کے وقت روشنی کی سرگرمی تقریباً غیر تبدیل رہی تاہم 2024 میں یہ منفی 4 فیصد اور 2025 میں منفی 4.4 فیصد تک پہنچ گئی۔

صوبے میں 2022 کے دوران نباتات کے نقصان کا سب سے بڑا پیمانہ 66 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس کے بعد بھی نباتات کی بحالی کے نتائج منفی رہے۔

تحقیق میں بلوچستان کی خشک آب و ہوا، کمزور زمین اور محدود آبپاشی کو اس رجحان کی ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا ہے۔

دوبارہ سیلاب نے بحالی کا عمل توڑ دیا

تحقیق کا ایک اہم انکشاف یہ بھی ہے کہ تقریباً 12.4 فیصد گرڈ سیلز، یعنی 10 ہزار 637 علاقے، 2022 اور 2025 دونوں کے سیلاب سے متاثر ہوئے۔

یہ علاقے زیادہ تر سندھ میں دریائے سندھ کے زیریں طاس میں واقع تھے۔

محققین کے مطابق ان علاقوں میں پہلے سیلاب کے بعد بحالی کا عمل دوسرے سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوا اور بار بار سیلاب نے صرف دو الگ الگ نقصانات پیدا نہیں کیے بلکہ مجموعی کمزوری میں اضافہ کیا۔

تحقیق کے مطابق دوسرا سیلاب اس وقت آیا جب بہت سے خاندان، کاروبار اور کمیونٹیز اپنے گھر دوبارہ تعمیر کرنے، تباہ شدہ اثاثے بحال کرنے اور آمدنی بحال کرنے کے مرحلے میں تھے۔ چنانچہ پہلے سیلاب سے بحالی کے لیے مختص وسائل کو دوبارہ دوسرے سیلاب سے نمٹنے پر خرچ کرنا پڑا۔

محققین نے اس صورتحال کو مجموعی کمزوری قرار دیا ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں کے لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت

محققین نے سفارش کی ہے کہ سیلاب کے بعد بحالی کی نگرانی کے لیے صرف معاشی سرگرمیوں کے اعداد و شمار پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف اقسام کے سیٹلائٹ ڈیٹا کو بھی استعمال کیا جائے۔

تحقیق میں نباتات کے ڈیٹا اور نسبتی دولت کے اشاریے کو ایسے علاقوں کی نشاندہی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے جہاں آبادی کو زیادہ نقصان اور سست بحالی کا سامنا ہے۔

تحقیق میں ضلع قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، کشمور، لاڑکانہ، دادو اور شکارپور کو زیریں سندھ کے ایسے کم دولت والے اضلاع قرار دیا گیا ہے جہاں بار بار سیلاب آیا اور جنہیں بحالی اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہدفی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

محققین نے ایسی آفات کی منصوبہ بندی پر بھی زور دیا ہے جس میں بار بار آنے والے سیلاب کو مدنظر رکھا جائے، پیشگی مالی انتظامات کیے جائیں اور ایسا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے جو بحالی کا وقت کم کرسکے۔

محققین نے نتائج کو احتیاط سے سمجھنے پر زور دیا

تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نتائج کی تشریح احتیاط سے کی جانی چاہیے۔ سیلاب زدہ اور غیر سیلاب زدہ علاقوں میں 2022 سے پہلے ہی مختلف رجحانات موجود تھے، اس لیے تحقیق کے نتائج کو سیلاب کی وجہ سے پیدا ہونے والے ہر فرق کا براہ راست ثبوت قرار نہیں دیا گیا۔

محققین نے اپنے نتائج کو ایسے تعلقات قرار دیا ہے جن میں مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے موازنہ کیا گیا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ رات کے وقت روشنی کا ڈیٹا زرعی نقصان کو کم ظاہر کرسکتا ہے جبکہ 2025 کے سیلاب سے متعلق اندازے اس وقت تک ابتدائی نوعیت کے ہیں جب تک آفت کے بعد کے مزید سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوجاتے۔

تحقیق کے مطابق پاکستان میں سیلاب کا نقصان اور اس کے بعد بحالی پورے معاشرے اور ملک کے تمام علاقوں میں یکساں نہیں۔ غریب علاقوں کو زیادہ نقصان اور سست بحالی کا سامنا ہے جبکہ بحالی مکمل ہونے سے پہلے دوبارہ آنے والا سیلاب صورتحال کو مزید خراب کرسکتا ہے۔

محققین نے کہا ہے کہ مستقبل میں سیٹلائٹ ڈیٹا کو گھریلو سطح پر کیے جانے والے سروے کے ساتھ ملا کر استعمال کرنے سے یہ سمجھنے میں مزید مدد مل سکتی ہے کہ قدرتی آفات عام خاندانوں کی زندگیوں کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، اوورسیز پاکستانیوں، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔