کینابس شعبے میں تحقیق و نگرانی کے لیے سی سی آر اے اور ایریڈ یونیورسٹی کا معاہدہ

newsdesk
4 Min Read
سی سی آر اے اور پی ایم اے ایس ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے درمیان کینابس شعبے میں تحقیق اور ریگولیٹری نگرانی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

28 اکتوبر 2026ء کو جاری پریس ریلیز کے مطابق کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (سی سی آر اے) اور پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے درمیان پاکستان میں کینابس کے ابھرتے ہوئے شعبے میں سائنسی تحقیق، تکنیکی تعاون اور ریگولیٹری نگرانی کو تقویت دینے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔

مفاہمتی یادداشت پر پی ایم اے ایس ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر عابدہ رضا اور سی سی آر اے کی جانب سے ڈائریکٹر آصف ہارون نے دستخط کیے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سی سی آر اے میجر جنرل (ر) ظفراللہ خان ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور وائس چانسلر پی ایم اے ایس ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان بھی موجود تھے۔

اس اشتراک کا مقصد سائنسی تحقیق اور ریگولیٹری گورننس کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنا ہے تاکہ سی سی آر اے کے ریگولیٹری فیصلوں کے لیے قابلِ اعتماد، شواہد پر مبنی اور مستند سائنسی نتائج فراہم کیے جا سکیں۔ دونوں ادارے معیاری ٹیسٹنگ، ذمہ دارانہ تحقیق اور مناسب سائنسی و تکنیکی استعداد کار کے فروغ کے لیے اپنی مہارت، وسائل اور تکنیکی معلومات کا تبادلہ کریں گے۔

معاہدے کے تحت کینابینوئڈز کی شناخت اور مقدار کے تعین، تجزیاتی طریقہ کار کی تیاری اور توثیق، کیمیائی پروفائلنگ، کینابس کی حیاتیات، جینیات، بائیوٹیکنالوجی اور حیاتیاتی طور پر مؤثر مرکبات پر تحقیق کو تعاون کے اہم پہلوؤں میں شامل کیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل سی سی آر اے میجر جنرل (ر) ظفراللہ خان ہلالِ امتیاز (ملٹری) نے مفاہمتی یادداشت کو ابھرتے ہوئے صنعتی شعبے کے لیے سائنسی بنیادوں پر مؤثر فریم ورک کے قیام میں ایک فیصلہ کن سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر ریگولیشن کے لیے قابلِ اعتماد سائنسی شواہد، معیاری جانچ اور مضبوط ادارہ جاتی استعداد ناگزیر ہیں۔

تعاون کے اہم شعبوں میں کینابس کی حیاتیات اور بائیوٹیکنالوجی پر مشترکہ تحقیق، پودوں کے مواد، عرق اور مشتقات کی جانچ اور اسکریننگ، تجزیاتی طریقہ کار کی تیاری اور توثیق، کینابینوئڈ پروفائلنگ اور مقدار کا تعین، ریگولیٹری فیصلوں کے لیے سائنسی معاونت، اور سی سی آر اے کی لیبارٹری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے تکنیکی تربیت شامل ہیں۔

اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے معاہدے کو ریگولیٹری گورننس اور سائنسی پیش رفت کو باہم جوڑنے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم اے ایس ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی اور سی سی آر اے کی یہ شراکت داری ریگولیٹری نگرانی اور جدید سائنسی جدت کا امتزاج ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے مزید کہا کہ یہ اقدام پی ایم اے ایس ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو ابھرتی ہوئی قومی ترجیحات کے لیے بروئے کار لائے گی اور تعلیمی و تحقیقی اداروں اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرے گی۔

Share This Article