شیخ زید ہسپتال لاہور میں ہیلتھ پروفیشنز ایجوکیشن کانفرنس اختتام پذیر

newsdesk
3 Min Read
شیخ زید ہسپتال لاہور میں ICHPER 2026 کے دوران طبی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کے تحفظ پر سیشنز منعقد ہوئے۔

لاہور: شیخ زید ہسپتال لاہور میں طبی تعلیم و تحقیق سے متعلق چوتھی بین الاقوامی کانفرنس، انٹرنیشنل کانفرنس آن ہیلتھ پروفیشنز ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (ICHPER 2026) اختتام پذیر ہو گئی۔ کانفرنس میں طبی تعلیم، تحقیق، ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر، صحت کے نظام میں اصلاحات اور مریضوں کے تحفظ جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کانفرنس کی پیٹرن اِن چیف، چیئرپرسن اور ڈین شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں شیخ نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ پاکستان کے نظامِ صحت کو مضبوط بنانے کے لیے تربیت یافتہ طبی ماہرین کو ملک میں برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی ماہرین کے پیشہ ورانہ وقار کا تحفظ اور مؤثر گورننس اصلاحات صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں شیخ نے طبی تعلیم، تحقیق، ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر اور جدید طبی سہولیات کے فروغ کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کی حفاظت، طبی تحقیق اور بہتر علاج معالجے کی سہولیات کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے نرسنگ گورننس، انفیکشن کنٹرول اور طبی سہولیات کے معیار پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

افتتاحی تقریب میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کی پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نادیہ نسیم نے وائس چانسلر یو ایچ ایس لاہور پروفیسر ڈاکٹر سہیل صابر کی نمائندگی کرتے ہوئے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر شیخ زید ہسپتال لاہور کے سابق چیئرمین اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر انوار اے خان کو ان کی گراں قدر طبی خدمات کے اعتراف میں شیخ زید لیگیسی ایوارڈ پیش کیا گیا۔

کانفرنس کے ایڈوائزری بورڈ میں پرنسپل شیخ خلیفہ بن زید النہیان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج پروفیسر ڈاکٹر عمران انور، ڈپٹی ڈین پروفیسر ڈاکٹر نسرین احسان، ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ زید ہسپتال لاہور ڈاکٹر محمد حاتف اقبال، پرنسپل نرسنگ کالج اور ہیڈ آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز شامل تھے۔ ڈاکٹر اسفند طارق نے آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

تقریب میں تعلیمی اداروں کی سینئر قیادت، ممتاز طبی ماہرین، فیکلٹی ارکان، محققین، آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان اور میڈیکل طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے پہلے روز اکیڈمک سیشنز، پینل مباحثوں اور تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا، جن میں طبی تعلیم میں مصنوعی ذہانت، صحت کے نظام میں اصلاحات، طبی تحقیق اور مریضوں کی حفاظت کو خاص طور پر زیر بحث لایا گیا۔

Share This Article