اسلام آباد: سواں گارڈن کے ایچ بلاک میں صرف 1,320 فٹ کے محدود حصے میں 11 ٹیوب ویلز کی موجودگی نے زیر زمین پانی کے تیزی سے کم ہونے کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں، جبکہ رہائشیوں نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک ای پی اے) پر الزام عائد کیا ہے کہ بار بار شکایات اور انتباہات کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
یہ معاملہ عدالت تک بھی پہنچ چکا ہے۔ اسلام آباد ایسٹ کی سول عدالت نے 24 جون 2026 کو مدعا علیہان کو نیا ٹیوب ویل ڈرل کرنے سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں رہائشیوں کی جانب سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیے جانے پر عدالت نے 20 جولائی کو اپنے بیلف کو موقع کا دورہ کر کے سابقہ حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ بیلف کو 28 جولائی تک تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کا کہا گیا تھا۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ معاملہ اب ایک ٹیوب ویل کے تنازع تک محدود نہیں رہا۔ ان کے مطابق بے تحاشا پانی نکالنے، کمرشل بورنگ اور زیر زمین پانی کے تحفظ کے مناسب نظام کی عدم موجودگی سے آئندہ نسلوں کے لیے پانی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائلہ جبین نے کہا کہ ایچ بلاک میں 1,320 فٹ کے اندر 11 ٹیوب ویلز نصب ہیں، جن میں چار پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ٹیوب ویلز مجموعی طور پر تقریباً 5,000 گیلن پانی فی گھنٹہ نکالتے ہیں اور روزانہ 12 سے 24 گھنٹے تک چلتے ہیں۔
نائلہ جبین نے خبردار کیا کہ مسلسل پمپنگ سے زیر زمین آبی ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سائنسی اور ہائیڈرولوجیکل سروے کرایا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کتنا پانی نکالا جا رہا ہے اور زیر زمین ذخائر کس رفتار سے کم ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پانی کی سطح نمایاں طور پر نیچے چلی گئی ہے۔ ان کے مطابق پہلے تقریباً 50 فٹ گہرائی پر پانی دستیاب تھا، مگر اب تقریباً 300 فٹ تک بورنگ کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ زیر زمین پانی کے حد سے زیادہ اخراج سے زمین دھنسنے اور قریبی املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے رہائشیوں، جامعات اور تحقیقی اداروں سے اپیل کی کہ وہ علاقے کا دورہ کر کے صورت حال کا آزادانہ جائزہ لیں۔
رہائشیوں نے خاص طور پر سی ڈی اے اور پاک ای پی اے کے ردعمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ نائلہ جبین کے مطابق مینجمنٹ کمیٹی، رجسٹرار، ڈپٹی کمشنر، سی ڈی اے اور ماحولیاتی حکام کو شکایات دی گئیں، لیکن ٹیوب ویل کی ڈرلنگ جاری رہی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماحولیاتی حکام کو دو مرتبہ درخواستیں دی گئیں، پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز سے بھی مدد کے لیے رجوع کیا گیا، جبکہ جامعات کو علاقے میں عملی تحقیق کی دعوت دی گئی، تاہم ان کے مطابق کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ الزامات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ متعلقہ حکام نے بار بار ڈرلنگ کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا یا نہیں، اور رہائشیوں کی نشاندہی کے بعد کافی اقدامات کیے گئے یا نہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق شبنم اختر اور دیگر نے سیویلین ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، سواں گارڈن، اور دیگر فریقین کے خلاف سول دعویٰ دائر کیا۔ مقدمے میں ڈیکلریشن، مستقل حکم امتناع اور لازمی حکم امتناع کی استدعا کی گئی تھی۔
24 جون کو اسلام آباد ایسٹ کے سول جج سید حیدر شاہ نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے مدعا علیہان کو نئے یا متنازع بورہول کی ڈرلنگ سے روک دیا، تاہم یہ حکم نوٹس سے مشروط تھا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت بھی کی۔
20 جولائی کو نائلہ جبین بنام سی ای سی ایچ ایس و دیگر کے معاملے میں ایک اور عدالتی حکم میں توہین عدالت کی درخواست دائر ہونے کا ذکر کیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابقہ حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
اس پر عدالت نے اپنے بیلف کو موقع کا دورہ کرنے اور 24 جون کے حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ رپورٹ 28 جولائی 2026 تک طلب کی گئی۔ دستیاب دستاویزات میں بیلف کی حتمی رپورٹ یا توہین عدالت کی درخواست پر بعد کا عدالتی فیصلہ شامل نہیں۔
رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام 11 ٹیوب ویلز کا فوری سائنسی جائزہ لیا جائے، کمرشل بورنگ اور واٹر ٹینکرز پر پابندیاں لگائی جائیں، اور بارش کے پانی کو دوبارہ زیر زمین ذخائر تک پہنچانے کے لیے ری چارج ویلز تعمیر کیے جائیں۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایکسپریس وے سے بہنے والا بارشی پانی مناسب طور پر جمع کر کے زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا جا رہا۔ رہائشیوں کے مطابق ری چارج ویلز پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر ذخائر کو سہارا دے سکتے ہیں۔
اس وسیع تنازع میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالی اور انتظامی معاملات سے متعلق الزامات بھی شامل رہے ہیں۔ فراہم کردہ پس منظر کے مطابق سوسائٹی کی مینجنگ کمیٹی کو 2025 میں مالی بے ضابطگیوں، ریکارڈ میں ردوبدل اور ارکان کی شکایات حل نہ کرنے کے الزامات پر معطل کیا گیا تھا۔ ایک اسسٹنٹ کمشنر کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا اور نئے انتخابات کا حکم دیا گیا۔ یہ الزامات متنازع بورہول سے متعلق عدالتی کارروائی سے الگ ہیں۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے، کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ اور ماحولیاتی حکام کو وضاحت کرنی چاہیے کہ محفوظ اراضی اور زیر زمین پانی کے تحفظ کے لیے انہوں نے کیا اقدامات کیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکام ٹیوب ویلز کی تعداد، ان کے اوقات کار، نکالے جانے والے پانی کی مقدار اور قریبی املاک و رہائشیوں پر اثرات کا جائزہ لیں۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ بار بار شکایات اور سائنسی سروے کی درخواستوں کے باوجود عدالت تک معاملہ پہنچنے سے پہلے کوئی واضح عوامی جواب کیوں سامنے نہیں آیا۔ اس رپورٹ کے لیے فراہم کردہ مواد میں سی ڈی اے اور پاک ای پی اے کا مؤقف شامل نہیں۔

