پاکستان کو موسمیاتی وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنا ہوگا، آئی آر ایس مکالمہ

newsdesk
7 Min Read
آئی آر ایس اور ایس آئی ایف پاکستان کے زیر اہتمام مکالمے میں کوپ 31 سے قبل غذائی، آبی اور موسمیاتی ترجیحات پر غور کیا گیا۔

اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) نے سیکور اسلامک فرانس (ایس آئی ایف) پاکستان کے اشتراک سے ’’خوراک، پانی اور موسمیات کا باہمی تعلق: لچک، شراکت داری اور اجتماعی عمل کے لیے عالمی ترجیحات‘‘ کے عنوان سے مکالمے کا اہتمام کیا۔ اس نشست میں سرکاری نمائندوں، سفارت کاروں، ترقیاتی شراکت داروں، اقوام متحدہ کے اداروں اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی اور ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی یو این ایف سی سی سی کانفرنس آف دی پارٹیز، کوپ 31، سے قبل پاکستان کی ترجیحات پر غور کیا۔

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے پائیدار آبی انتظام، کسانوں پر سرمایہ کاری اور مضبوط شراکت داریوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’غذائی تحفظ ہی قومی سلامتی ہے۔‘‘ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسی سرمایہ کاری کے لیے تیار تجاویز سامنے آنی چاہئیں جن میں موسمیاتی تبدیلی کے مقابل مزاحمت رکھنے والے بیج، بہتر مویشی نسلیں، مؤثر آبپاشی، آسان مالی سہولتیں اور چھوٹے کاشت کاروں اور خواتین کسانوں کے لیے فصل بیمہ شامل ہوں۔ ان کے مطابق اس مکالمے کی سفارشات کوپ 31 کے لیے پاکستان کی ترجیحات کی تشکیل میں مددگار ہونی چاہئیں۔

وزیراعظم کی رابطہ کار برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ رومینہ خورشید عالم نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ موسمیاتی مذاکرات میں پاکستان کو واضح قومی ترجیحات کے ساتھ شریک ہونا ہوگا اور کیے گئے وعدوں پر مؤثر عمل درآمد بھی یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے موسمیاتی مالیات، موافقت اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت اجاگر کی اور وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے ساتھ کمزور طبقات پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر آئی آر ایس سفیر جوہر سلیم نے بین الاقوامی موسمیاتی سفارت کاری کے اپنے تجربات کا حوالہ دیا، جن میں 1992 کے ریو ارتھ سمٹ میں شرکت، یو این ایف سی سی سی میں پاکستان کے نمائندے اور ایف اے او، آئی ایف اے ڈی اور ڈبلیو ایف پی میں مستقل نمائندے کی حیثیت سے خدمات شامل ہیں۔ انہوں نے غذائی تحفظ، پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی ربط کو نمایاں کرتے ہوئے جامع پالیسیوں، نچلی سطح پر مؤثر نفاذ اور لچک، موافقت، تخفیف اور موسمیاتی مالیات پر زیادہ توجہ دینے پر زور دیا۔

ایس آئی ایف پاکستان کے ہیڈ آف مشن ڈاکٹر الطاف ابڑو نے کہا کہ انسانی ہمدردی اور ترقیاتی ادارے موسمیاتی پالیسیوں کو کمزور کمیونٹیز کے لیے عملی معاونت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مقامی شراکت داریوں، تکنیکی مہارت اور میدانِ عمل کے تجربے کو تیاری، کمیونٹی صلاحیتوں اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ روزگار کے فروغ کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے قابل رسائی موسمیاتی مالیات، لوگوں پر زیادہ سرمایہ کاری اور مضبوط شراکت داریوں کی بھی وکالت کی۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر تھامس کونن نے موسمیاتی جھٹکوں کے غذائی عدم تحفظ، بچوں میں غذائی کمی اور نشوونما میں رکاوٹ پر اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ہنگامی امداد کو طویل المدتی غذائی تحفظ، غذائیت اور لچک کے پروگراموں سے جوڑنے، سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔

گلوبل کلائمیٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عارف گوہر نے سیلاب، خشک سالی اور بدلتے موسمی حالات کے باعث زراعت کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے سائنسی شواہد اور قابل اعتماد موسمیاتی معلومات کی بنیاد پر بہتر تیاری اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زرعی نظام کی ضرورت بیان کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بین الاقوامی موسمیاتی سرگرمیوں میں شواہد پر مبنی قومی ترجیحات خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

آبی وسائل کے ماہر احمد کمال نے آبی تحفظ، مؤثر نظم و نسق اور موسمیاتی سمجھ بوجھ رکھنے والی آبپاشی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے زرعی سرمایہ کاری اور زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی میں سیلاب اور خشک سالی کے خطرات کو شامل کرنے، ادارہ جاتی رابطہ کاری بہتر بنانے اور پیشگی انتباہی نظام مضبوط کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے سیلابی پانی کو زیر زمین پانی کی بحالی، مٹی کی زرخیزی اور مقامی ذخیرے کے لیے استعمال کرنے کے امکانات بھی اجاگر کیے۔

مکالمے میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر فار سسٹین ایبل ٹرانسفارمیشن (فاسٹ) پارٹنرشپ اور ترکیہ کے ٹرکوائز نیکسس انیشی ایٹو کے ذریعے بین الاقوامی تعاون کے مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان پلیٹ فارمز کو پائیدار زرعی و غذائی نظام، ادارہ جاتی استعدادِ کار میں اضافے اور تکنیکی و مالی معاونت تک رسائی کے ممکنہ ذرائع قرار دیا گیا۔

اختتامی کلمات میں آئی آر ایس کے کلائمیٹ ریزیلینس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر انجم رشید نے کہا کہ پاکستان میں تازہ پانی کے استعمال کا 94 فیصد زراعت کے لیے مختص ہے، اس لیے پانی کے مؤثر استعمال کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے پانی کے تحفظ، بہتر آبپاشی اور پائیدار انتظام کو غذائی تحفظ کے لیے لازمی قرار دیا۔ ڈاکٹر انجم رشید نے زور دیا کہ پاکستان کو کوپ 31 میں واضح ترجیحات اور مضبوط شراکت داریوں کے ساتھ جانا چاہیے اور صرف اپنی کمزوریوں کو اجاگر کرنے کے بجائے ٹھوس موسمیاتی اقدامات دکھانے چاہئیں۔

Share This Article