ٹیلی کام فاؤنڈیشن سربراہ کو بھاری مراعات، ملازمین کو تاخیر سے ریلیف

4 Min Read
سینیٹ میں بتایا گیا کہ ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے صدر ماہانہ دس لاکھ سے زائد لے رہے ہیں جبکہ ملازمین کی تنخواہ سات سال بعد نظرثانی ہوئی۔

ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے سی ای او کی ماہانہ تنخواہ 10 لاکھ روپے سے زائد، ملازمین کو سات سال بعد تنخواہوں میں اضافہ ملا

ندیم تنولی

اسلام آباد: سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے موجودہ صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ماہانہ 10 لاکھ 6 ہزار 790 روپے خالص تنخواہ دی جا رہی ہے، جبکہ انہیں 1800 سی سی سرکاری گاڑی، ڈرائیور، ماہانہ 500 لیٹر پیٹرول، میڈیکل الاؤنس، موبائل فون سہولت اور رہائشی لینڈ لائن اخراجات کی ادائیگی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

یہ تفصیلات سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان کے سوال کے جواب میں ایوان میں پیش کی گئیں، جنہوں نے موجودہ صدر و سی ای او کی تقرری، معاہدے کی مدت اور مراعات کے علاوہ ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے ملازمین کی تنخواہوں میں آخری بار اضافے سے متعلق بھی استفسار کیا تھا۔

سینیٹ کے سوال و جواب سیشن کے دوران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ موجودہ صدر و سی ای او کو 19 جولائی 2019 کو تعینات کیا گیا تھا اور ان کا معاہدہ 18 جولائی 2028 تک مؤثر رہے گا۔

سرکاری جواب کے مطابق سی ای او کو 1800 سی سی گاڑی بمعہ ڈرائیور اور ماہانہ 500 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کی موجودہ خالص ماہانہ تنخواہ 10 لاکھ 6 ہزار 790 روپے ہے۔

ایوان کو مزید بتایا گیا کہ سی ای او کو سال میں دو بنیادی تنخواہوں کے برابر میڈیکل الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں ماہانہ 5 ہزار روپے موبائل فون الاؤنس اور رہائشی لینڈ لائن کے اصل اخراجات کی ادائیگی بھی کی جاتی ہے۔

یہ تفصیلات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سرکاری اداروں میں تنخواہوں اور مراعات کا معاملہ عوامی اور ملازمین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سینیٹ میں پیش کیے گئے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے سربراہ کو بھاری مالی پیکج اور متعدد سرکاری سہولیات حاصل ہیں۔

دوسری جانب وزارت نے سینیٹ کو بتایا کہ ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے ملازمین کی تنخواہوں میں آخری بار اکتوبر 2022 میں اضافہ کیا گیا، جبکہ اس سے قبل تنخواہوں پر نظرثانی 2015 میں ہوئی تھی۔ اس طرح ملازمین کو سات سال بعد تنخواہوں میں اضافہ ملا۔

وزارت کے مطابق 2015 سے 2022 کے دوران حکومت نے بنیادی پے اسکیلز میں جولائی 2015، جولائی 2017 اور جولائی 2022 میں تین مرتبہ اضافہ کیا، تاہم ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے ملازمین کو اس عرصے میں بروقت فائدہ نہیں مل سکا۔

سینیٹ میں پیش کردہ تفصیلات نے ادارے کے اعلیٰ افسران کے مراعاتی پیکج اور ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر سے اضافے کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کر دیا ہے، جس پر ایوان میں توجہ دی گئی۔

Copied From: Telecom Foundation CEO Gets Rs1 Million Monthly Salary, Employees Got Pay Revision After Seven Years

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے