آئی پی پیز کو مہنگی ادائیگیاں اور معاہدوں میں توسیع، سینیٹ کمیٹی کا بڑا احتسابی ایکشن
اوور اِن وائسنگ، کپیسٹی پیمنٹس اور معاہدوں میں توسیع پر آئی پی پیز سینیٹ کی کڑی جانچ کے دائرے میں
ندیم تنولی
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے خلاف جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے مبینہ اوور اِن وائسنگ، مہنگی کپیسٹی پیمنٹس، معاہدوں کی مدت ختم ہونے کے باوجود دی گئی توسیعات اور بجلی پیدا کرنے کی حقیقی صلاحیت کی مؤثر جانچ کے فقدان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کی کارروائی نے ایک بار پھر پاکستان کے مہنگے پاور سیکٹر معاہدوں کو عوامی احتساب کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے جبکہ صارفین مسلسل بڑھتے بجلی کے بلوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے دی گئی تفصیلی بریفنگ کے دوران کمیٹی نے ٹیرف تعین، کپیسٹی پیمنٹس، انرجی پیمنٹس اور معاہدوں کی مدت ختم ہونے کے بعد آئی پی پیز کو دی گئی توسیعات کا جائزہ لیا۔ ارکان نے ان مالی انتظامات کے اثرات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ ریگولیٹری نگرانی عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے کافی ہے یا نہیں۔
کمیٹی نے آئی پی پیز کی مبینہ اوور اِن وائسنگ کا معاملہ بھی اٹھایا اور سوال کیا کہ بجلی کے نرخوں میں صارفین پر منتقل کیے جانے سے قبل ادائیگیوں کی تصدیق کس طرح کی جاتی ہے۔ اجلاس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ کمزور تصدیقی نظام پاور سیکٹر پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہا ہے اور عام شہریوں کے لیے بجلی مزید مہنگی کر رہا ہے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے تمام آئی پی پیز کے خلاف جامع تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیپرا کو ہدایت کی کہ کپیسٹی پیمنٹس، انرجی پیمنٹس اور دی گئی توسیعات پر مشتمل تفصیلی تقابلی رپورٹ پیش کی جائے۔
اجلاس میں کپیسٹی پیمنٹس کا معاملہ خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔ یہ وہ ادائیگیاں ہیں جو بجلی پیدا کرنے کی دستیاب صلاحیت کے عوض کی جاتی ہیں، چاہے بجلی مکمل طور پر خریدی یا استعمال نہ بھی کی جائے۔ کمیٹی کی تشویش عوامی سطح پر موجود اس غصے کی عکاسی کرتی ہے جو مہنگے بجلی نرخوں اور طویل المدتی پاور معاہدوں کے باعث بڑھتے مالی دباؤ کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔
کمیٹی نے معاہدوں کی مدت ختم ہونے کے باوجود آئی پی پیز کو دی گئی توسیعات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ارکان نے ان توسیعات کی بنیاد، صارفین پر ان کے مالی اثرات اور ریگولیٹری جانچ کے عمل سے متعلق وضاحت طلب کی۔
ایک اور اہم معاملہ بجلی پیدا کرنے کی حقیقی صلاحیت کی باقاعدہ جانچ کے مؤثر نظام کا نہ ہونا تھا۔ کمیٹی نے کہا کہ مضبوط تصدیقی نظام کے بغیر ادائیگیوں، ٹیرف حسابات اور پاور پروڈیوسرز کی مجموعی جوابدہی پر سنگین سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
نیپرا کو اب ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کپیسٹی پیمنٹس، انرجی پیمنٹس اور معاہدوں میں توسیع سے متعلق مکمل تقابلی رپورٹ پیش کرے تاکہ کمیٹی یہ جائزہ لے سکے کہ آیا آئی پی پیز کو کی جانے والی ادائیگیاں اور ریگولیٹری فیصلے شفاف، منصفانہ اور عوامی مفاد کے مطابق ہیں یا نہیں۔
یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں بجلی کی بڑھتی قیمتیں، گردشی قرضہ اور پاور سیکٹر کے مالیاتی ڈھانچے پر شدید عوامی تشویش پائی جاتی ہے۔ کمیٹی کی ہدایات سے واضح ہے کہ اب آئی پی پیز کو ادائیگیوں، توسیعات اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر مزید سخت پارلیمانی نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Copied From: IPPs face Senate scrutiny over costly payments and contract extensions

