سندھ کے 107 زرعی تربیت یافتگان کی چین روانگی سے قبل ایچ ای سی میں تقریب

newsdesk
4 Min Read
وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر وزیرِاعظم کے اقدام کے تحت چین جانے والے سندھ کے 107 زرعی تربیت یافتگان کی پری ڈیپارچر تقریب سے خطاب کر رہی ہیں۔

اسلام آباد، 19 اکتوبر 2026ء: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے وزیرِاعظم کے اقدام برائے ایک ہزار پاکستانی زرعی ماہرین کی مختصر مدتی تربیت کے تحت سندھ ڈومیسائل رکھنے والے 107 زرعی تربیت یافتگان کے لیے تعارفی اور روانگی سے قبل تقریب کا اہتمام کیا۔ یہ تربیت یافتگان چین کے شہر شیان میں نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی میں تین ماہ کی خصوصی تربیت حاصل کریں گے۔

تقریب کی مہمانِ خصوصی وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر تھیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور ڈاکٹر شہزاد نوید اور دیگر شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر ضیاء الحق نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے پاکستانی پیشہ ور افراد کو جدید علم اور عملی مہارتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر ضیاء الحق نے پروگرام کے پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبوں کے لیے مختص کوٹوں کے تحت ملک بھر سے 885 زرعی پیشہ ور افراد چین کے پانچ اداروں میں تربیت مکمل کر کے پاکستان واپس آ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کا کوٹہ مقررہ اہلیت کے معیار پر پورا اترنے والے امیدواروں کی محدود دستیابی کے باعث استعمال نہ ہونے کے خدشے سے دوچار تھا۔ تاہم، ان کے مطابق وزیرِاعظم نے خصوصی اقدام کرتے ہوئے یقینی بنایا کہ سندھ کے لیے مختص کوٹہ اہل سندھ ڈومیسائل امیدواروں ہی کے لیے برقرار رہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیرِاعظم کی ہدایت کے مطابق سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی، ٹنڈوجام میں ایک کریش کورس منعقد کیا گیا تاکہ امیدواروں کو مقررہ اسیسمنٹ کے لیے تیار کیا جا سکے۔ مقامی تربیت اور اسیسمنٹ کے عمل کے بعد 107 اہل تربیت یافتگان نے ضروری مراحل مکمل کر لیے ہیں اور اب چین روانہ ہو رہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ وجیہہ قمر نے زرعی تعلیم، تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں پاکستان چین تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، پیداوار بڑھانے اور قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے پیشہ ورانہ تربیت میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے تربیت یافتگان پر زور دیا کہ وہ عملی مہارتیں حاصل کریں اور وطن واپسی پر زرعی مسائل کے حل کے لیے اپنی سیکھ کو بروئے کار لائیں۔

تعارفی نشست میں سفری انتظامات، ادارہ جاتی تقاضوں، تربیتی توقعات اور چین میں قیام کے دوران تربیت یافتگان کی ذمہ داریوں پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ تربیت یافتگان تحقیق، ٹیکنالوجی کے استعمال، پیشہ ورانہ تربیت اور کسانوں تک رسائی کے ذریعے حاصل کردہ علم اور مہارتیں پاکستان کے زرعی شعبے کو منتقل کریں۔

پروگرام کے تحت تربیت یافتگان نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی میں تین ماہ کی عملی تربیت حاصل کریں گے۔ تربیت کے نو ترجیحی شعبوں میں جدید زرعی ٹیکنالوجیز اور طریقہ کار شامل ہیں، جن میں فارم میکانائزیشن، فصلوں کی بہتری، بیج کی پیداوار اور پروسیسنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل زراعت، لائیو اسٹاک ڈویلپمنٹ، آبی زراعت، مؤثر آبپاشی، اور پھلوں و سبزیوں کی پروسیسنگ شامل ہیں۔

یہ اقدام زرعی انسانی سرمائے میں ایک اہم سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومتِ پاکستان کے جامع استعداد کار میں اضافے، صوبائی مساوات اور پائیدار زرعی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

Share This Article