اسلام آباد: روسی فیڈریشن میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی، تعلیمی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں آج “پاکستان روس تعلقات” کے موضوع پر خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی مصروفیات کو عملی تعاون میں تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ تجارت، طلبہ کی نقل و حرکت اور علاقائی رابطہ کاری کو فروغ مل سکے۔
سفیر فیصل نیاز ترمذی نے تجارت اور رابطہ کاری کے حوالے سے ویزا سہولت، براہ راست پروازوں اور بینکاری و ادائیگیوں سے متعلق رکاوٹوں کے حل کو ترجیحی امور قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ دوطرفہ بزنس فورم کی تیاری کی جا رہی ہے، جس میں کمپنیوں کے درمیان پیشگی ملاقاتیں بھی شامل ہوں گی۔ اس موقع پر ایران، افغانستان اور چین کے راستے ٹرانسپورٹ روابط پر بھی گفتگو ہوئی۔
انہوں نے جامعات کے درمیان شراکت داری مضبوط بنانے، طلبہ کی نقل و حرکت بڑھانے اور سائنس، انجینئرنگ اور زراعت کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا۔ سفیر نے روسی زبان کی تدریس، ثقافتی تبادلوں اور دونوں ملکوں کے ذرائع ابلاغ اور تخلیقی شعبوں کے درمیان قریبی روابط کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
علاقائی سلامتی کے تناظر میں فیصل نیاز ترمذی نے روسی وزیر داخلہ کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد انسداد دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کے امکانات کو نمایاں کیا۔ پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں روس کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردوں کی مبینہ دراندازی کی اطلاعات اور سرحدی بندشوں کے علاقائی تجارت پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق نے روسی تھنک ٹینکس کے ساتھ ادارے کے تعاون اور مشترکہ تحقیق و تعلیمی تبادلوں کو وسعت دینے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔
اختتامی کلمات میں آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی کا شعبہ بھی شامل ہے۔
یہ نشست آئی ایس ایس آئی کے سینٹر فار اسٹریٹجک پرسپیکٹوز کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس میں سفارت کاروں، ماہرین تعلیم اور محققین نے شرکت کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
