اسلام آباد، 12 اگست 2026ء: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے اسٹائپینڈیم ہنگریکم اسکالرشپ پروگرام کے تحت ہنگری کی ممتاز جامعات میں تعلیم کے لیے منتخب ہونے والے 209 پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں ایچ ای سی سیکرٹریٹ میں پری ڈیپارچر تقریب کا انعقاد کیا۔
ایچ ای سی کے مطابق یہ پاکستانی طلبہ کا 11واں بیچ ہے جو اس پروگرام کے تحت ہنگری جا رہا ہے۔ رواں سال تقریباً 26 ہزار طلبہ نے ان اسکالرشپس کے لیے درخواستیں جمع کرائیں، جس سے پاکستانی نوجوانوں میں بین الاقوامی اعلیٰ تعلیمی مواقع میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔ تعلیمی سال 2026ء کے لیے 209 اسکالرشپس کے اجرا کے بعد 2016ء میں پروگرام کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 1,636 پاکستانی طلبہ اس اسکالرشپ سے مستفید ہو چکے ہیں۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر تھے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق، پاکستان میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن ڈاکٹر ڈورا گنسبرگر، ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی/گلوبل انگیجمنٹ ایچ ای سی محترمہ عائشہ اکرام، ریکٹر ایئر یونیورسٹی ایئر مارشل (ر) ڈاکٹر عبدالمعید خان، مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہان اور فیکلٹی ارکان بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کے والدین اور پروگرام کے سابق طلبہ نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے منتخب طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ ہنگری کے قوانین کا احترام کریں اور ان پر عمل پیرا رہیں، وہاں دستیاب علمی اور ثقافتی تنوع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، اور علم و تجربات کے ساتھ وطن واپس آ کر پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے ہنگری کی جامعات کے معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی طلبہ کو بین الاقوامی تعلیمی ماحول میں اعلیٰ معیار کی تعلیم اور تحقیقی تجربہ حاصل کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے حکومتِ ہنگری اور ہنگری کے سفارت خانے کا پاکستانی طلبہ کے لیے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کے والدین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے تعلیمی اداروں کی جانب سے معیاری تعلیم کی فراہمی کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلبہ اور محققین دنیا کی نمایاں جامعات اور اداروں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، جو ملک کے تعلیمی نظام کو درپیش چیلنجز کے باوجود پاکستان کے انسانی وسائل کی استعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ پاکستان مسلسل پانچویں سال ایراسمس منڈس اسکالرشپ جیتنے والوں کی فہرست میں سرفہرست رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابیاں پاکستانی نوجوانوں کے ٹیلنٹ اور صلاحیت کا واضح ثبوت ہیں۔
ڈاکٹر ڈورا گنسبرگر نے کہا کہ یہ الوداعی تقریب صرف نئے اسکالرشپ ونرز کی کامیابی کا جشن نہیں بلکہ گزشتہ ایک دہائی میں اسٹائپینڈیم ہنگریکم اسکالرشپ پروگرام کی نمایاں کامیابیوں پر غور کا موقع بھی ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے اہداف واضح رکھیں اور تعلیمی سفر کے دوران ان کے حصول کے لیے مستقل مزاجی سے محنت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکالرشپ کا حصول صرف انفرادی کامیابی نہیں بلکہ متعلقہ کمیونٹیز اور ملک کے لیے بھی اعزاز ہے۔ انہوں نے طلبہ کو محنت، مہربانی اور جستجو کے ساتھ ہنگری میں نئے تجربات اور مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی تاکید کی اور کہا کہ اسکالرشپ ایک تحفہ ہے جس کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق نے ایچ ای سی کے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ ڈویژن کو ایچ ای سی کا “سب سے خوبصورت حصہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکالرشپ کے مواقع نوجوان پاکستانیوں کی زندگیوں میں تبدیلی لاتے ہیں۔ انہوں نے ایچ ای سی اقدامات کو کامیاب بنانے کے لیے کی جانے والی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ای سی پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اسٹائپینڈیم ہنگریکم اسکالرشپ پروگرام کی کامیابی میں مسلسل تعاون پر حکومتِ ہنگری کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس سے قبل خطبۂ استقبالیہ میں ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی/جی ای محترمہ عائشہ اکرام نے کہا کہ یہ تقریب ایک نہایت مسابقتی انتخابی عمل کی تکمیل کی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام پاکستانی طلبہ کو عالمی معیار کے تعلیمی مواقع تک رسائی فراہم کرتا ہے اور انہیں متنوع بین الاقوامی تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے منتخب طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ ہنگری میں اپنے قیام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، تنوع کو قبول کریں، برداشت کو فروغ دیں اور مختلف قومیتوں کے طلبہ کے ساتھ روابط سے سیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکالرز پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے کردار ادا کریں اور پاکستان کے بارے میں عالمی تاثر کی تشکیل کے ساتھ پاکستان اور ہنگری کی دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں۔
پروگرام کی دو سابق طالبات مومنہ آفتاب اور عفت کلثوم نے بھی اپنے تجربات بیان کیے اور منتخب طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سیکھیں، دریافت کریں اور ذمہ دار شہریوں کے طور پر پاکستان کی نمائندگی کریں۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کو بیرونِ ملک تعلیم اور تعلیمی و پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کرنے پر ایچ ای سی اور حکومتِ ہنگری کا شکریہ ادا کیا۔
