اسلام آباد، 13 اکتوبر (نمائندہ خصوصی): سابق صوبائی وزیر تعلیم میاں عمران مسعود نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ ملک میں تعلیمی معیار کے فرق سے بچنے کے لیے مشترکہ بنیادی نصاب پر اتفاق کیا جائے اور اس کے نفاذ کے لیے اپریل 2028 تک مرحلہ وار مدت مقرر کی جائے، تاکہ اسکولوں، ناشرین اور اساتذہ کو تیاری کا مناسب موقع مل سکے۔
منگل کو نصابی اصلاحات سے متعلق میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ وفاقی حکومت، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی جانب سے الگ الگ نصابات کی تیاری تعلیمی معیار میں تفاوت کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایک صوبے سے دوسرے صوبے منتقل ہونے والے طلبہ کو بھی مختلف نصابی ڈھانچوں کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میاں عمران مسعود نے کہا کہ نصاب کسی بھی تعلیمی نظام کی بنیاد ہوتا ہے، اسی سے تعلیمی اہداف، اساتذہ کی تیاری، کمرہ جماعت کی منصوبہ بندی اور امتحانی نظام کی سمت متعین ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت نصاب سازی کے اختیارات صوبوں کو منتقل ہونے کے باوجود 2010 سے 2026 تک ملک میں نصابی ہم آہنگی مجموعی طور پر برقرار رہی، جسے آئندہ بھی ایک مربوط حکمت عملی کے ذریعے قائم رکھنا ضروری ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر نصاب سے متعلق متوازی پیش رفت جاری ہے۔ قومی نصابی کونسل ڈرافٹ نیشنل کریکولم فریم ورک 2026 اور ابتدائی بچپن کی تعلیم سے پانچویں جماعت تک مجوزہ نصاب پر عوامی آرا حاصل کر رہی ہے۔ پنجاب نے 2027 کے تعلیمی سال سے نفاذ کے لیے نظرثانی شدہ پرائمری نصاب کی منظوری دی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا نے ثانوی اور اعلیٰ ثانوی جماعتوں کے لیے نظرثانی شدہ نصابات جاری کر دیے ہیں۔
میاں عمران مسعود نے کہا کہ نصابی اصلاحات کو مؤثر بنانے کے لیے صرف نصاب کی منظوری کافی نہیں ہوتی بلکہ معیاری درسی کتب کی تیاری، ان کا جائزہ، منظوری، طباعت، ترسیل، اساتذہ کی تربیت اور تدریسی و امتحانی نظام کی ہم آہنگی بھی ناگزیر مراحل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد بازی میں نفاذ سے تعلیمی نتائج متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے اپریل 2028 تک کا وقت ان مراحل کو منظم انداز میں مکمل کرنے کے لیے دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے پاکستان میں تعلیمی سال کے محدود تدریسی دنوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ملک میں سالانہ تقریباً 140 سے 145 تدریسی دن دستیاب ہوتے ہیں، جبکہ کئی دیگر ممالک میں یہ تعداد 192 سے 220 دن تک ہے۔ ان کے مطابق نصابی اہداف طے کرتے وقت اس زمینی حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر ارشد سعید نے نصابی اصلاحات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی کا انحصار وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر منصوبہ بندی اور مسلسل تعاون پر ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ انگریزی، اردو، ریاضی اور سائنس کے لیے ایک مشترکہ بنیادی نصاب مقرر کیا جائے، جبکہ سماجی علوم میں صوبوں کو اپنی تاریخ، جغرافیہ اور مقامی تناظر شامل کرنے کی گنجائش دی جائے۔
ارشد سعید نے کہا کہ مشترکہ فریم ورک سے وسائل کے غیر ضروری تکرار میں کمی آسکتی ہے اور درسی کتب کی لاگت کو قابل انتظام رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی اور پرائمری سطح پر طلبہ کے لیے یکساں تعلیمی معیار نہایت اہم ہے تاکہ ملک کے مختلف حصوں میں پڑھنے والے بچوں کو قابل موازنہ تعلیمی مواقع میسر رہیں۔
مقررین نے زور دیا کہ نئے نصاب کے اطلاق سے پہلے تجرباتی تدریس، درسی کتب کی تیاری، اساتذہ کی تربیت اور اسکولوں کی سطح پر تیاری کے لیے کافی وقت دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نصاب سازی کے بعد کتاب نویسی، جائزہ، منظوری، طباعت، تقسیم اور اسکولوں میں تدریسی تیاری جیسے مراحل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
بریفنگ کے اختتام پر وفاقی و صوبائی حکومتوں، نصابی اداروں، ناشرین اور تعلیمی ماہرین کے درمیان مسلسل رابطے اور مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ نصابی اصلاحات بہتر تعلیمی نتائج اور پاکستان بھر کے بچوں کے لیے زیادہ مساوی تعلیمی مواقع میں تبدیل ہو سکیں۔
