اسلام آباد، 14 ستمبر 2026: سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کے زیر اہتمام نوجوانوں کے ساتھ ایک نشست منعقد ہوئی، جس میں یوتھ ایمبیسیڈرز نے سگریٹ کے پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز کی اہمیت اجاگر کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ بچوں اور نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لیے یہ سب سے مؤثر اور کم خرچ اقدامات میں شامل ہیں۔
یوتھ ایمبیسیڈرز نے مطالبہ کیا کہ سگریٹ پیکٹس پر گرافک ہیلتھ وارننگز کی موجودہ شرح 60 فیصد سے بڑھا کر 85 فیصد کی جائے تاکہ صحت سے متعلق زیادہ واضح اور سخت انتباہات کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو شروع کرنے سے بچایا جا سکے۔
سیشن کے دوران نوجوانوں کو “یوتھ وائسز فار اے ٹوبیکو فری فیوچر” پٹیشن کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنے کا موقع بھی دیا گیا۔ نوجوان شرکاء نے سخت TAPS ریگولیشنز اور گرافک ہیلتھ وارننگز کو 60 فیصد سے 85 فیصد تک بڑھانے کے حق میں پٹیشن پر دستخط کیے۔ شرکاء نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو سے ہونے والے نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے مزید مضبوط اقدامات ناگزیر ہیں۔
یوتھ ایمبیسیڈر تحریم اختر قریشی نے کہا کہ گرافک ہیلتھ وارننگز دنیا بھر میں عوامی صحت کے مؤثر ترین اقدامات میں شمار ہوتی ہیں کیونکہ یہ تمباکو کی پرکشش پیکجنگ کی جگہ سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی حقیقت دکھاتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے تمباکو کنٹرول کے شعبے میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (WHO FCTC) کا فریق ہونے کی حیثیت سے پاکستان نے آرٹیکل 11 کے تحت سگریٹ پیکجنگ کے 85 فیصد حصے پر گرافک ہیلتھ وارننگز نافذ کرنے کا عزم کیا ہے۔
تحریم اختر قریشی نے مزید کہا کہ اس عزم کے باوجود پیش رفت سست رہی ہے۔ تمباکو ہر سال 192,000 سے زائد قابلِ روک اموات کا سبب بنتا ہے جبکہ 31 ملین سے زیادہ بالغ افراد اب بھی تمباکو مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمباکو کنٹرول کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی گنجائش موجود ہے۔
یوتھ ایمبیسیڈر شفیہ اسد نے کہا کہ گرافک ہیلتھ وارننگز کو 85 فیصد تک بڑھانا لاکھوں افراد، بالخصوص بچوں اور نوجوانوں، کو تمباکو کی لت کے خطرات سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو پاکستان کے صحت کے نظام پر غیر معمولی بوجھ ڈال رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں، جن میں پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی دائمی بیماریاں اور دیگر قابلِ روک طبی مسائل شامل ہیں، کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
شفیہ اسد کے مطابق یہ اموات خاندانوں کے لیے المیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے صحت کے وسائل اور معیشت پر بھی نمایاں دباؤ ڈالتی ہیں۔
یوتھ ایڈووکیٹ ایان اختر نے کہا کہ تمباکو مصنوعات کو کبھی پرکشش نہیں دکھائی دینا چاہیے۔ سگریٹ کے پیکٹس پر سگریٹ نوشی کے تباہ کن صحت اثرات واضح طور پر سامنے آنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرافک ہیلتھ وارننگز محض تصاویر نہیں بلکہ عوامی صحت کا ایک ایسا ذریعہ ہیں جو آگاہی دیتا ہے، تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور زندگیاں بچاتا ہے۔
سپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا کہ پاکستان نے عالمی ادارہ صحت کے MPOWER اقدامات پر عمل درآمد میں اہم پیش رفت کی ہے، جن میں تمباکو پر ٹیکس، اشتہارات پر پابندیاں اور تصویری صحت وارننگز شامل ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق تمام چھ MPOWER اقدامات کے مکمل نفاذ کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا کہ تمباکو پیکجنگ کے 85 فیصد حصے پر بڑی اور باقاعدگی سے تبدیل ہونے والی گرافک ہیلتھ وارننگز متعارف کرانے سے عوامی آگاہی بڑھے گی، تمباکو استعمال کرنے والوں کو اسے ترک کرنے کی ترغیب ملے گی، بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو شروع کرنے سے روکا جا سکے گا اور تمباکو مصنوعات کی کشش کم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ برازیل، ترکی، کینیڈا، تھائی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے جامع تمباکو کنٹرول حکمت عملی کے تحت بڑی اور باقاعدگی سے تبدیل ہونے والی گرافک ہیلتھ وارننگز کامیابی سے نافذ کی ہیں، جن کی مؤثریت تمباکو کے استعمال میں کمی کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔
