اسلام آباد، 9 اکتوبر 2026ء — وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزارت خزانہ میں ریٹیلرز ٹیکس اسکیم پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی، جس میں رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ایف بی آر کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس کے طریقہ کار کو سادہ بنانے اور ریٹیلرز کو اپنی ٹیکس ذمہ داریاں ادا کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ اسکیم ریٹیلرز کے لیے باضابطہ ٹیکس نظام کا حصہ بننے اور ملکی معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کا ایک آسان راستہ فراہم کرتی ہے۔
اجلاس میں اسکیم کے تحت رجسٹریشنز اور ٹیکس گوشواروں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس میں موجودہ ٹیکس دہندگان کی شمولیت اور ٹیکس ادائیگی سے متعلق قابل اطلاق تقاضے بھی زیر بحث آئے۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ اسکیم کے نفاذ کے تجربات کا جائزہ لیا جائے اور آپریشنل نوعیت کے معاملات کو حل کیا جائے تاکہ اسے کامیاب بنایا جا سکے۔
اجلاس میں دستیاب اعداد و شمار اور متعلقہ شناختی ریکارڈز کی مدد سے غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز کی نشاندہی اور میپنگ کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایف بی آر نے ڈیٹا کی توثیق کے عمل اور اس ضرورت پر بریفنگ دی کہ رجسٹریشن ریکارڈز متعلقہ کاروباروں کی درست عکاسی کریں۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے ٹیکس دہندگان کی سہولت کاری اور دستاویزی عمل کے حوالے سے ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سہولت کاری ہدفی اور اچھی طرح دستاویزی انداز میں ہونی چاہیے تاکہ نظام میں شفافیت اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ریٹیلرز ٹیکس اسکیم کو صرف 2026ء تک محدود ایک سالہ انتظام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کا مقصد چھوٹے ریٹیلرز کو آنے والے برسوں میں باضابطہ ٹیکس نظام میں داخل ہونے اور اس کا حصہ رہنے کے لیے آسان راستہ فراہم کرنا ہے۔ اجلاس میں فائلنگ کے طریقہ کار، آخری تاریخوں اور متعلقہ آپریشنل امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ چھوٹے ریٹیلرز کے لیے ٹیکس کمپلائنس کو آسان اور قابل رسائی بنانا ضروری ہے، جبکہ معاشی سرگرمیوں کو بتدریج دستاویزی شکل دے کر ٹیکس بیس کو وسیع کیا جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پائیدار پیش رفت کے لیے مؤثر سہولت کاری اور مستقل حکمت عملی ناگزیر ہے۔
