کراچی: ایس آئی گلوبل سلوشنز اور ڈیل ٹیکنالوجیز نے پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی سلوشنز اور مصنوعات کے ذریعے ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان 10 سالہ شراکت داری کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے حوالے سے حال ہی میں “Powering Possibilities Technologies” کے عنوان سے ایک تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس آئی گلوبل سلوشنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نومان اے سعید نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کا محض صارف رہنے کے بجائے ٹیکنالوجی تیار کرنے اور برآمد کرنے والا ملک بننا ہوگا۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے تحقیق و ترقی کو قومی ترجیح بنانا ضروری ہے، جس کے لیے صرف فنڈنگ کافی نہیں بلکہ ایسی خریداری پالیسیاں بھی درکار ہیں جو مقامی طور پر تیار کی گئی ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر اپنی افادیت ثابت کرنے کا موقع فراہم کریں۔
ڈاکٹر نومان اے سعید نے کہا کہ سنگاپور جیسے ممالک نے تحقیق و ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری، صنعت کے ساتھ اشتراک اور کمرشلائزیشن کے ذریعے عالمی سطح پر مسابقتی ٹیکنالوجی ایکو سسٹمز تشکیل دیے ہیں، جبکہ ملائیشیا نے ایسے طریقہ کار متعارف کرائے ہیں جن کے تحت اہل مقامی آر اینڈ ڈی مصنوعات کو سرکاری خریداری میں ترجیح دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پبلک پروکیورمنٹ قوانین کو بھی بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کی خریداری ہمیشہ صرف کم ترین قیمت یا روایتی اہلیت کے معیار پر نہیں کی جا سکتی۔ خریداری کے عمل میں جدت، مقامی انٹلیکچوئل پراپرٹی، آر اینڈ ڈی سرمایہ کاری، سائبر سیکیورٹی، لائف سائیکل ویلیو اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی اور ڈیل ٹیکنالوجیز کے کنٹری منیجر نوید سراج نے کہا کہ پاکستان بھر میں ٹیکنالوجی اپنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی میں تیز رفتار پیش رفت کے باعث کاروباری اداروں کے لیے یہ زیادہ اہم ہوگیا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق موزوں حل کا انتخاب کریں۔
نوید سراج کے مطابق ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور نئے کاروباری ماڈلز سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے حکومتی پالیسیوں اور مقامی سطح پر ٹیکنالوجی اپنانے کے عمل میں ہم آہنگی ضروری ہے، خصوصاً ایسے دور میں جب ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیٹا اسٹوریج کی طلب عالمی اور مقامی سطح پر بڑھ رہی ہے، جبکہ خام ڈیٹا کو پراسیس کرکے منظم معلومات میں تبدیل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ناگزیر ہوچکا ہے، تاکہ بہتر کاروباری فیصلوں میں مدد مل سکے۔
نوید سراج نے بتایا کہ ڈیل ٹیکنالوجیز 1989 سے پاکستان میں کام کر رہی ہے اور ملک میں اپنی موجودگی برقرار رکھتے ہوئے ایس آئی گلوبل سلوشنز جیسے dedicated partners کے ذریعے اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیل ٹیکنالوجیز پاکستان میں نئے سلوشنز، ڈیوائسز اور ایپلی کیشنز متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کا مقصد صارفین کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی تک رسائی دینا اور کاروباری اداروں و افراد کو بااختیار بنانا ہے۔
تقریب میں ایس آئی گلوبل سلوشنز اور ڈیل ٹیکنالوجیز کے مختلف پارٹنرز نے شرکت کی۔
