آزاد کشمیر میں زیرِ تعلیم دیگر صوبوں کے طلبہ نے بھی ایم ڈی کیٹ ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیا

7 Min Read
آزاد کشمیر میں زیرِ تعلیم دیگر صوبوں کے طلبہ نے بھی ایم ڈی کیٹ ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیا

ندیم تنولی

اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے بھی ایم ڈی کیٹ کے شیڈول میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف ایس سی کے امتحانات میں تاخیر، انٹرنیٹ کی بندش اور تعلیمی غیر یقینی صورتحال نے انہیں شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

متاثرہ طلبہ میں آزاد کشمیر کے مختلف کیڈٹ کالجز، کالجز اور تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم وہ امیدوار بھی شامل ہیں جن کا ڈومیسائل دیگر صوبوں سے ہے، تاہم ان کے امتحانات آزاد جموں و کشمیر بورڈ کے تحت منعقد ہوتے ہیں۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں دوہری مشکل کا سامنا ہے۔ ایک جانب ایف ایس سی کے امتحانات ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے جبکہ دوسری جانب ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ کی رجسٹریشن اور تیاری کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیگر تعلیمی بورڈز کے طلبہ نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہیں کیونکہ ان کے انٹرمیڈیٹ امتحانات مکمل ہو چکے ہیں یا اختتامی مراحل میں ہیں۔

طلبہ کے مطابق آزاد کشمیر کے اداروں سے وابستہ امیدوار بورڈ امتحانات کے غیر یقینی شیڈول اور انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کے باعث ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے قیمتی دن ضائع کر چکے ہیں۔ آن لائن لیکچرز، تعلیمی مواد، رجسٹریشن پورٹلز اور اساتذہ سے رابطے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

میڈیکل کالجوں میں داخلے کے خواہشمند طلبہ نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف آزاد کشمیر کے مقامی طلبہ تک محدود نہیں بلکہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے وہ طلبہ بھی متاثر ہو رہے ہیں جو تعلیم کے لیے آزاد کشمیر آئے ہوئے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، میرپور کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق انٹرمیڈیٹ فرسٹ اینول امتحانات آئندہ احکامات تک ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک بقیہ پرچوں کی نئی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس غیر یقینی صورتحال نے شدید ذہنی دباؤ پیدا کر دیا ہے کیونکہ جب تک ایف ایس سی کے امتحانات کی نئی تاریخ معلوم نہ ہو، ایم ڈی کیٹ کی تیاری پر مکمل توجہ دینا ممکن نہیں۔

طلبہ نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ پہلے ہی ایک انتہائی مسابقتی امتحان ہے، جبکہ آزاد کشمیر سے وابستہ امیدوار ملتوی شدہ بورڈ امتحانات، انٹرنیٹ مسائل اور آن لائن رجسٹریشن کی دشواریوں کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہیں۔

ان کے مطابق آزاد کشمیر کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل یا شدید متاثر ہے، جس کی وجہ سے طلبہ آن لائن ایم ڈی کیٹ کلاسز، لیکچرز، نوٹس اور رجسٹریشن فارم تک بروقت رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔

طلبہ نے نشاندہی کی کہ ایم ڈی کیٹ کی رجسٹریشن مکمل طور پر آن لائن ہوتی ہے، لیکن انٹرنیٹ کی عدم دستیابی یا کمزور سہولت کے باعث متعدد امیدوار مقررہ وقت میں رجسٹریشن مکمل کرنے سے قاصر ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق ایم ڈی کیٹ رجسٹریشن کا آغاز جون سے ہونا ہے، جبکہ باقاعدہ رجسٹریشن کی آخری تاریخ جولائی اور لیٹ رجسٹریشن کی آخری تاریخ جولائی مقرر ہے۔ موجودہ شیڈول کے مطابق ایم ڈی کیٹ کا امتحان اگست کو متوقع ہے۔

متاثرہ طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کے شیڈول میں توسیع کی جائے تاکہ انہیں ایف ایس سی کے امتحانات مکمل کرنے، ضائع شدہ تیاری کا ازالہ کرنے اور رجسٹریشن بغیر کسی پریشانی کے مکمل کرنے کا مناسب موقع مل سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور فیڈرل بورڈ کے طلبہ پوری توجہ کے ساتھ ایم ڈی کیٹ کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے اداروں سے وابستہ امیدوار ابھی تک اپنے بورڈ امتحانات کی بحالی کے منتظر ہیں، جس سے مقابلے کی فضا غیر مساوی ہو رہی ہے۔

طلبہ نے مزید کہا کہ سڑکوں کی بندش، پبلک ٹرانسپورٹ میں رکاوٹیں اور نقل و حرکت پر پابندیوں نے بھی ان کی اکیڈمیوں اور اسٹڈی سینٹرز تک رسائی متاثر کی ہے۔

انہوں نے آزاد کشمیر بورڈ، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور وفاقی وزارتِ صحت سے مطالبہ کیا کہ باہمی رابطہ کر کے جلد واضح لائحہ عمل اور ٹائم لائن کا اعلان کیا جائے تاکہ طلبہ غیر یقینی صورتحال سے نکل کر اطمینان کے ساتھ اپنی تیاری جاری رکھ سکیں۔

والدین اور طلبہ کا کہنا ہے کہ ہزاروں میڈیکل امیدواروں کا مستقبل تاخیر سے ہونے والے امتحانات، انٹرنیٹ مسائل اور رجسٹریشن کی مشکلات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

اس حوالے سے رابطہ کرنے پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ کونسل کو ابھی تک اس معاملے سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متاثرہ طلبہ کو مناسب سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آزاد کشمیر میں ایم ڈی کیٹ کا انعقاد شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے زیرِ انتظام ہوگا۔

Copied From: Students From Outside AJK Studying in AJK Seek MDCAT Delay – Peak Point

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، اوورسیز پاکستانیوں، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے