ایشیا پیسیفک پائیداری رپورٹنگ میں آگے، پاکستان کے لیے سرمایہ کاری اور عملدرآمد کی اہمیت بڑھ گئی

newsdesk
6 Min Read
اے سی سی اے رپورٹ کے مطابق قابل تجدید توانائی، مضبوط رپورٹنگ اور موسمیاتی لچک پاکستان سمیت خطے کی معاشی ترجیحات بن چکی ہیں۔

اسلام آباد، 4 نومبر 2026: ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کی نئی تحقیق کے مطابق ایشیا پیسیفک پائیداری سے متعلق عالمی رپورٹنگ معیارات اپنانے میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے، تاہم کاروباری اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ ضابطہ جاتی تقاضوں سے آگے بڑھ کر ان وعدوں کو معاشی استحکام، سرمایہ کاری اور طویل مدتی کاروباری قدر میں تبدیل کیا جائے۔

اے سی سی اے کی رپورٹ “Asia Pacific Builds a Sustainable Future: Resilience in Economy, Environment and Society” میں بتایا گیا ہے کہ آسیان معیشتوں کی 80 فیصد سے زائد شرح، جی ڈی پی کے پیمانے پر، انٹرنیشنل سسٹین ایبلٹی اسٹینڈرڈز بورڈ (ISSB) کے جاری کردہ معیارات اپنا چکی ہے یا انہیں اپنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ چینی مین لینڈ سمیت وہ معیشتیں جنہوں نے یہ معیارات اختیار کیے ہیں، تقریباً 60 ٹریلین امریکی ڈالر یا عالمی جی ڈی پی کے 47 فیصد کی نمائندگی کرتی ہیں۔

رپورٹ کے نتائج پاکستان کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں، جہاں معاشی بحالی، توانائی کی منتقلی اور موسمیاتی لچک ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ تازہ قومی اکاؤنٹس تخمینوں کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت نے 3.65 فیصد نمو ریکارڈ کی، جبکہ بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت 49,651 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جس میں سولر نیٹ میٹرنگ سے حاصل 7,319 میگاواٹ بھی شامل ہے۔

تاہم توانائی کی یہ منتقلی کئی سنجیدہ چیلنجز بھی رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فنانسنگ کی مشکلات، گرڈ میں شمولیت، توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، منصوبوں کی بینک ایبلٹی اور مضبوط ادارہ جاتی استعداد ایسے امور ہیں جن پر توجہ ناگزیر ہے۔ پاکستان کو سیلاب، شدید گرمی، پانی کے دباؤ اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے موسمیاتی خطرات کا بھی سامنا ہے، جن کے اثرات زراعت، انفراسٹرکچر، روزگار اور معاشی استحکام تک پھیل سکتے ہیں۔

اے سی سی اے کا کہنا ہے کہ کاربن اخراج میں کمی کو صرف ماحولیاتی معاملہ سمجھنا درست نہیں۔ یہ توانائی کے تحفظ اور معاشی لچک کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ اس سے کاروباری اداروں اور حکومتوں کو فوسل فیول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں اور سپلائی چین کے خطرات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی لیے قابل تجدید توانائی کی پیداوار اور ذخیرہ کرنے کے نظام کو اسٹریٹجک معاشی ترجیحات کے طور پر دیکھنے اور ایسی سرمایہ کاری و مالیاتی سہولتوں سے سہارا دینے کی ضرورت ہے جو منصوبوں کو تجارتی طور پر قابل عمل بنائیں۔

اے سی سی اے ایشیا پیسیفک کے سینئر پالیسی کنسلٹنٹ شرتھ مارٹن نے کہا کہ راؤنڈ ٹیبل مباحثوں میں بار بار یہ بات سامنے آئی کہ بیانیہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق معاملہ صرف انکشافات یا رپورٹنگ کا نہیں، بلکہ کاروبار کو زیادہ مضبوط بنانے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاربن اخراج میں کمی بھی صرف اخراج گھٹانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ کاروباروں اور معیشتوں کو فوسل فیول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بڑھتی لاگت اور سپلائی شاکس سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

رپورٹ میں سرمایہ کاری کے حصول اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے پائیداری سے متعلق مالی و کاروباری انکشافات کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ پاکستان نے اس ضمن میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ذریعے IFRS Sustainability Disclosure Standards کو مرحلہ وار اپنانے اور بعد ازاں ESG ڈسکلوژر گائیڈ لائنز جاری کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔

تحقیق میں پانی اور شدید گرمی کو اس صدی کے ممکنہ طور پر فیصلہ کن معاشی خطرات قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ان خطرات کا تدارک نہ کیا گیا تو 2050 تک کم آمدنی والے ممالک کی جی ڈی پی میں 10 سے 15 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ ایشیا پیسیفک میں 1970 سے 2024 کے دوران آفات سے متاثر ہونے والے 7.2 ارب افراد میں نصف سے زائد افراد صرف سیلابوں سے متاثر ہوئے۔

اے سی سی اے کی چیف ایگزیکٹو ہیلن برانڈ او بی ای نے کہا کہ خطہ پائیداری رپورٹنگ کا ڈھانچہ دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بنا رہا ہے، لیکن معیارات اپنانا بذات خود کاربن اخراج میں کمی یا پائیداری کے وسیع تر مسائل کے حل کے مترادف نہیں۔

رپورٹ میں کاروباری اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی اور قدرتی وسائل سے متعلق خطرات کو اپنی کارپوریٹ حکمت عملی، بجٹ اور سرمایہ کاری کے فیصلوں کا حصہ بنائیں۔ پالیسی سازوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ سرمایہ متحرک کریں، رپورٹنگ اور یقین دہانی کی استعداد مضبوط بنائیں اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری تیز کریں۔

“Asia Pacific Builds a Sustainable Future” 44 فنانس اور اکاؤنٹنسی ماہرین، متعلقہ پیشہ ور افراد اور موضوعاتی ماہرین کے انٹرویوز، تحقیق اور راؤنڈ ٹیبل مباحثوں پر مبنی ہے۔ مکمل رپورٹ اے سی سی اے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے: https://www.accaglobal.com/policy-and-insights/reports/2026/2026-asia-pacific-builds-a-sustainable-future.html

Share This Article