نجی شعبہ سرمایہ کاری اور روزگار کی نئی بنیاد بنے گا، وزیر خزانہ

newsdesk
8 Min Read
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس ریئٹ کی لسٹنگ تقریب سے خطاب کیا۔

کراچی: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی پیش رفت کے لیے پائیدار نمو، میکرو اکنامک استحکام، سرمائے کی تشکیل اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کراچی میں عارف حبیب کارپوریشن کے زیر اہتمام نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس ریئٹ کی لسٹنگ کے موقع پر گونگ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیر خزانہ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کے ایس ای 100 انڈیکس مارچ 2024 میں تقریباً 67 ہزار پوائنٹس کی سطح سے بڑھ کر تقریباً 170 ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاروں کی شمولیت میں بھی نمایاں وسعت آئی ہے اور ستمبر 2026 میں پی ایس ایکس میں 25 ہزار 281 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جو ایک ماہ میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس اضافے کے بعد مجموعی سرمایہ کاروں کی تعداد 6 لاکھ 56 ہزار 218 ہو گئی ہے، جبکہ مارچ 2024 میں یہ تعداد 3 لاکھ 21 ہزار 144 تھی۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی سال 2026 کے دوران 11 کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں، جو دو دہائیوں سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں مزید 5 آئی پی اوز مکمل ہو چکے ہیں، جو کیپٹل ریزنگ اور مارکیٹ ڈویلپمنٹ میں جاری رفتار کو ظاہر کرتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ اسٹاک مارکیٹ کی اہمیت محض انڈیکس کے اتار چڑھاؤ تک محدود نہیں، اصل مقصد سرمائے کی تشکیل ہے۔ ان کے مطابق مارکیٹ کا اعتماد کاروباروں، انفراسٹرکچر، ہاؤسنگ، جدت اور روزگار کے لیے دستیاب سرمائے میں تبدیل ہونا چاہیے۔

وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریباً 60 ارب روپے کی فنانسنگ ہو چکی ہے، جبکہ بینکوں نے مزید تقریباً 340 ارب روپے کی فنانسنگ پائپ لائن کی منظوری دے رکھی ہے جو اجرا کی منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر نے اس معاملے میں آگے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے، تاہم اب ہاؤسنگ کی فراہمی کے پہلو کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ نے اس سلسلے میں نجی شعبے، بشمول آباد، کے کردار کو اہم قرار دیا اور کہا کہ ریئٹس ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

پی آئی اے ٹرانزیکشن کے لیے کنسورشیم میں بڑے پاکستانی کاروباری گروپس کی شمولیت پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس میں مسٹر عارف حبیب اور مسٹر ٹبہ شامل ہیں اور یہ اجتماعی طور پر تقریباً 1.2 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ مقامی کاروباری ادارے مل کر کام کرنے، بڑے پیمانے پر صلاحیت پیدا کرنے اور بڑی سرمایہ کاری کے مواقع حاصل کرنے کی اہلیت بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں ترکی کی دلچسپی اور معدنیات و کان کنی، زراعت، آئی ٹی، تیل و گیس اور ریفائنری اپ گریڈز میں امریکی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا حوالہ دیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو عملی شکل اختیار کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے اور اس کے لیے مناسب پالیسیوں اور مؤثر سہولت کاری کے ساتھ سازگار ماحول ناگزیر ہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت سکڑاؤ اور استحکام کے مراحل سے آگے بڑھ کر نمو کی طرف آ چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت شرح نمو تقریباً 3.7 فیصد ہے اور رواں سال اس کے 4 فیصد کے قریب جانے کی توقع ہے۔ وزیر خزانہ نے زور دیا کہ پاکستان کو بوم اینڈ بسٹ سائیکل سے نکلنا ہوگا اور عارضی لیکویڈیٹی یا کھپت کی بنیاد پر پھیلاؤ کے بجائے پیداواریت، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار سے منسلک پائیدار اور ذمہ دارانہ ترقی اختیار کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام کو مستقل بنیاد دینا اور مستقبل کے ممکنہ دھچکوں سے نمٹنے کے لیے مالیاتی اور بیرونی شعبے کی مضبوطی بڑھانا ضروری ہے۔ حکومت کے ساختی اصلاحاتی ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصلاحات اب تیاری کے مرحلے سے نکل کر عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جن میں ٹیکس، توانائی، سرکاری ملکیتی ادارے، نجکاری اور پبلک فنانس شامل ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس فائلرز کی تعداد 57 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد تقریباً 39 لاکھ تھی اور 2022 میں تقریباً 18 سے 19 لاکھ کے درمیان تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ ڈیٹا کے بہتر استعمال، طریقہ کار کو آسان بنانے اور نفاذ کو مضبوط کرنے کا نتیجہ ہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا کردار نجی شعبے کے لیے مطلوبہ ایکو سسٹم فراہم کرنا ہے۔ اس ضمن میں امریکی ایگزم بینک، دیگر ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسیوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ روابط کے علاوہ ٹیرف سے متعلق مذاکرات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری، کاروباری توسیع اور معاشی ترقی کی قیادت نجی شعبے کو کرنی ہوگی۔

وزیر خزانہ نے ایس ایم ایز، زراعت، ہاؤسنگ اور مالی وسائل تک محدود رسائی رکھنے والے دیگر شعبوں کے لیے فنانس تک رسائی بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کے دوطرفہ معاشی تعلقات کو امداد سے آگے بڑھا کر تجارت اور سرمایہ کاری کی سمت لے جانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹلائزیشن، بلاک چین، ویب 3.0 اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں مواقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو نئی معیشت کے لیے تیار کرنا بھی اہم ہے۔

نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس ریئٹ کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ بک بلڈنگ کے دوران اس پیشکش کو تقریباً 8 گنا سبسکرپشن ملی، جبکہ جنرل پبلک آفر میں 4.3 گنا سبسکرپشن حاصل ہوئی۔ انہوں نے اسے منظم اور شفاف سرمایہ کاری کے مواقع میں سرمایہ کاروں کی مضبوط دلچسپی کا اظہار قرار دیا۔

وزیر خزانہ نے کیپٹل مارکیٹس کو مزید گہرا کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو استحکام سے سرمایہ کاری، سرمایہ کاری سے ترقی، اور ترقی سے روزگار اور وسیع معاشی مواقع کی طرف بڑھنا ہے۔

Share This Article