سرکاری اداروں کے قرض سے متعلق تاثر درست نہیں، وزارت خزانہ کی وضاحت

newsdesk
7 Min Read
وزارت خزانہ نے سرکاری اداروں کے قرض کے اعداد و شمار سے متعلق وضاحت جاری کی۔

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے وفاقی سرکاری ملکیتی اداروں کے قرض سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹ پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10.1 ٹریلین روپے کی رقم کو رپورٹنگ مدت کے دوران 1.3 ٹریلین روپے کے نئے قرض کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔

وزارت خزانہ کے مطابق یہ رقم وفاقی سرکاری اداروں کی سود سے متعلق مجموعی مالی ذمہ داریوں کا وسیع پیمانے پر تیار کیا گیا تخمینہ ہے، جبکہ اس کا موازنہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بینک قرضوں سے متعلق محدود اعداد و شمار سے براہ راست نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ وضاحت اس میڈیا رپورٹ کے جواب میں جاری کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری اداروں کا قرض 10.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں ایسے اعداد و شمار کا تقابل کیا گیا جو مختلف مقاصد، مختلف دائرہ کار اور مختلف کوریج کے تحت تیار کیے گئے تھے، جس سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ قرض کے اسٹاک میں پورا اضافہ سرکاری اداروں کی نئی قرض گیری ہے۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار بنیادی طور پر پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی بینکاری نظام سے حاصل کردہ قرض اور کریڈٹ کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس فنانس ڈویژن کا سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ وفاقی سرکاری ملکیتی اداروں کی سود بردار ذمہ داریوں کے مجموعی اسٹاک کو ریکارڈ کرتا ہے تاکہ حکومت کو درپیش مالی خطرات کی نگرانی کی جا سکے۔

وزارت کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ڈیٹا میں پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کا بینک قرض 2.954 ٹریلین روپے بتایا گیا ہے، جبکہ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے وفاقی سرکاری اداروں کی مجموعی ذمہ داریاں تقریباً 10.1 ٹریلین روپے رپورٹ کی ہیں۔ وزارت خزانہ نے زور دیا کہ دونوں اعداد و شمار کا دائرہ کار، کوریج اور رپورٹنگ مقصد مختلف ہے، اس لیے انہیں براہ راست قابل تقابل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

فنانس ڈویژن نے 10.1 ٹریلین روپے کے مجموعی عدد کی تفصیل بھی جاری کی۔ اس کے مطابق کیش ڈیولپمنٹ لونز 2.098 ٹریلین روپے ہیں، جبکہ غیر ملکی ری لینٹ قرضے 2.581 ٹریلین روپے بنتے ہیں۔ بینک اور نجی قرضوں کا حجم 3.102 ٹریلین روپے ہے۔

اسی مجموعی اسٹاک میں 2.181 ٹریلین روپے کا جمع شدہ مارک اپ اور رول اوور اخراجات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 135 ارب روپے دیگر سود بردار ذمہ داریوں پر مشتمل ہیں، جن میں لیز اور رائٹ آف یوز سے متعلق واجبات بھی شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ تمام رقوم مل کر سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے تقریباً 10.1 ٹریلین روپے کے مجموعی اسٹاک کو تشکیل دیتی ہیں۔

وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ 10.1 ٹریلین روپے سرکاری اداروں کی بینک قرض گیری کی رقم نہیں ہے۔ وزارت کے مطابق اس مجموعی رقم میں بینک اور نجی قرضے تقریباً 3.1 ٹریلین روپے ہیں، جبکہ باقی حصہ زیادہ تر حکومتی قرضوں، غیر ملکی ری لینٹ قرضوں، جمع شدہ مارک اپ، رول اوور اخراجات اور دیگر سود بردار ذمہ داریوں پر مشتمل ہے۔

وزارت نے قرض کے مجموعی اسٹاک میں اضافے اور نئے قرض کے فرق کی بھی وضاحت کی۔ فنانس ڈویژن کے مطابق مجموعی اسٹاک تقریباً 8.8 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 10.1 ٹریلین روپے ہوا، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ رپورٹنگ مدت کے دوران سرکاری اداروں نے 1.3 ٹریلین روپے کا نیا قرض لیا۔

وضاحت کے مطابق مذکورہ مدت میں نئے یا اضافی قرضے تقریباً 164 ارب روپے رہے۔ مجموعی اسٹاک میں اضافہ پرانے حکومتی قرضوں اور غیر ملکی ری لینٹ قرضوں میں تبدیلی، جمع شدہ مارک اپ، رول اوور اخراجات اور پہلے سے موجود دیگر سود بردار ذمہ داریوں کی وجہ سے بھی ظاہر ہوا۔

فنانس ڈویژن نے کہا کہ یہ فرق اہم ہے کیونکہ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کا عدد وسیع مالیاتی خطرات کو جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کا عدد بینکاری شعبے کے کریڈٹ کا محدود پیمانہ ہے۔ وزارت کے مطابق دونوں پیمانوں کو ملا کر پڑھنے سے سرکاری اداروں کے قرض کی حقیقی صورت حال سے متعلق غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ 10.1 ٹریلین روپے کو وفاقی سرکاری ملکیتی اداروں کی سود بردار ذمہ داریوں کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے مجموعی پیمانے کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔ وزارت کے مطابق یہ وسیع نظام حکومت اور کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کو قرض کی پوزیشن اور اس سے منسلک مالی خطرات کی زیادہ مکمل تصویر فراہم کرنے کے لیے ہے۔

فنانس ڈویژن کی وضاحت میں 10.1 ٹریلین روپے کی مجموعی ذمہ داری کی موجودگی سے انکار نہیں کیا گیا، بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس رقم میں مختلف اقسام کی پہلے سے موجود مالی ذمہ داریاں شامل ہیں اور یہ تازہ بینک قرض گیری کا ریکارڈ نہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق کل رقم میں تقریباً 3.1 ٹریلین روپے بینک اور نجی قرضوں پر مشتمل ہیں، جبکہ رپورٹنگ مدت کے دوران نئے یا اضافی قرضے تقریباً 164 ارب روپے رہے۔ باقی رقم میں حکومتی قرضے، غیر ملکی ری لینٹ قرضے، جمع شدہ مارک اپ، رول اوور اخراجات اور دیگر سود بردار ذمہ داریاں شامل ہیں۔

وزارت خزانہ نے ہدایت کی کہ دونوں اقسام کے اعداد و شمار کو ان کے الگ الگ مقاصد کے مطابق پڑھا جائے۔ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کا ڈیٹا وفاقی سرکاری اداروں کی مالی ذمہ داریوں اور مالی خطرات کی وسیع تصویر فراہم کرتا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کی سیریز ان اداروں کی بینکاری نظام سے قرض گیری پر مرکوز ہے۔

Share This Article