غیر معیاری بیٹریوں کی درآمدات پر خطرے کی گھنٹی، توانائی ماہرین کا قواعد سخت کرنے کا مطالبہ

newsdesk
17 Min Read
پارلیمانی فورم میں شرکا نے بیٹری اسٹوریج، ٹیکس بوجھ، حفاظتی معیار اور قومی گرڈ پر بڑھتے دباؤ پر اظہار خیال کیا۔

اسلام آباد: پاکستان میں بیٹری اسٹوریج آلات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی درآمدات کے بعد قانون سازوں اور توانائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حفاظتی جانچ، ٹیسٹنگ سہولتوں اور ری سائیکلنگ کے واضح ضابطے نہ بنائے گئے تو ملک غیر معیاری بیٹریوں کی منڈی بن سکتا ہے۔

پارلیمانی فورم برائے توانائی و معیشت کے زیر اہتمام 28 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہونے والے مباحثے میں یہ معاملہ اٹھایا گیا۔ اجلاس میں ایم این اے شیر علی ارباب، ایم این اے ڈاکٹر نفیسہ شاہ، پاور ڈویژن کے مشیر سید فیضان شاہ، ایم این اے چوہدری مبین عارف جٹ، ایم این اے اسد عالم نیازی، ثنا اللہ بلوچ، پھلین بلوچ اور توانائی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔

شرکا کے مطابق ملک میں مہنگی بجلی، سولر توانائی کے پھیلاؤ اور قومی گرڈ پر بڑھتے دباؤ نے بیٹری اسٹوریج کو اہم موضوع بنا دیا ہے، تاہم اس کے ساتھ حفاظت، معیار، فضلے کی تلفی، درآمدی انحصار اور صارفین پر ممکنہ مالی بوجھ جیسے سوالات بھی سامنے آ گئے ہیں۔

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے ایک نمائندے نے فورم کو بتایا کہ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں پاکستان نے 4.5 گیگا واٹ سے زائد بیٹری اسٹوریج آلات درآمد کیے۔ فورم کے ساتھ جاری بیان میں اس کا تقابل تاریخی مجموعی درآمدی حجم تقریباً 9.5 گیگا واٹ سے کیا گیا، جس سے مارکیٹ کی تیز رفتار وسعت ظاہر ہوتی ہے۔

مباحثے میں بیٹریوں کی استطاعت پر واضح اختلاف بھی سامنے آیا۔ پاور ڈویژن کا مؤقف تھا کہ بیٹری اسٹوریج بجلی کی لاگت قابو میں رکھنے اور گرڈ پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ سولر صنعت کے نمائندوں نے کہا کہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار روپے کی بنیادی بیٹری غریب خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ ان کے مطابق ٹیکسوں اور کسٹمز ڈیوٹیز کا مجموعی بوجھ 35 سے 40 فیصد تک ہے، جس سے آلات مزید مہنگے ہو جاتے ہیں۔

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین انجینئر چوہدری عزیر نے کہا کہ پانچ کلو واٹ آور بیٹری کی قیمت تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار روپے تک ہو سکتی ہے، جو کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بڑا خرچ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام لوگ سولر اور بیٹریوں میں اس لیے سرمایہ لگا رہے ہیں کہ انہیں سستی اور قابل اعتماد بجلی چاہیے، نہ کہ یہ آلات پہلے ہی آسانی سے خریدے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بیٹری سسٹم ڈیزائن سے متعلق مکمل پالیسی موجود نہیں۔ اگرچہ بعض معیارات بیٹریوں اور سیلز کے معیار کا تقاضا کرتے ہیں، مگر مکمل اسٹوریج سسٹمز کے ڈیزائن، تنصیب اور حفاظتی جانچ کے لیے زیادہ واضح قواعد درکار ہیں۔ ان کے مطابق بیٹری پالیسی بنانے والے سرکاری اداروں میں پاکستانی انجینئرز اور سولر صنعت کو شامل کیا جانا چاہیے۔

انجینئر عزیر نے مزید کہا کہ پاکستان پاور کنورژن سسٹمز مقامی طور پر تیار کر سکتا ہے اور ملک کو صرف درآمدی آلات پر انحصار کرنے کے بجائے موجودہ تکنیکی اداروں کو مضبوط بنانا چاہیے۔ شرکا نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مقامی پیداوار میں تاخیر ہوئی تو پاکستان سولر درآمدات جیسے تجربے کو دہرا سکتا ہے، جہاں مارکیٹ اہم پرزوں کے لیے بیرونی سپلائرز پر بہت زیادہ منحصر ہو گئی۔

ایک مقرر کے مطابق دنیا کی تقریباً 85 فیصد بیٹریاں چین میں تیار ہوتی ہیں، جبکہ یورپ اور امریکا کی بیٹریاں 30 سے 35 فیصد تک مہنگی ہو سکتی ہیں۔ بحث میں زور دیا گیا کہ مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے مراعات احتیاط سے تیار کی جائیں، کیونکہ درآمدی بیٹریوں اور پرزوں پر بہت زیادہ ڈیوٹیز صارفین کے لیے لاگت بڑھا سکتی ہیں، مگر لازمی نہیں کہ اس سے مضبوط مقامی صنعت بھی قائم ہو۔

دوسری جانب پاور ڈویژن نے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز، یعنی BESS، کے ذریعے دن میں اضافی بجلی محفوظ کر کے رات کے اوقات میں استعمال کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ سید فیضان شاہ نے کہا کہ حکومت منتخب گرڈ اسٹیشنز پر 10 میگا واٹ آور کے چار پائلٹ منصوبے تیار کر رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ زیادہ سولر پیداوار کے اوقات میں گرڈ کی طرف واپس آنے والی اضافی بجلی ذخیرہ کی جائے اور رات کے وقت طلب بڑھنے پر اسے فراہم کیا جائے۔

زبانی پریزنٹیشن میں ٹینڈرز کے لیے لیسکو، گیپکو، آئیسکو اور میپکو کے نام لیے گئے اور بتایا گیا کہ یہ ٹینڈرز تقریباً 15 دن میں جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ تاہم فورم کے ساتھ جاری بیان میں لیسکو، میپکو، آئیسکو اور پیسکو درج تھے، اس لیے فراہم کردہ مواد میں چوتھی تقسیم کار کمپنی کے حوالے سے فرق موجود ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق 2026 کے انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان میں تقریباً 1,500 میگا واٹ آور بیٹری اسٹوریج شامل کیا جا رہا ہے، جس میں لگ بھگ 1,000 میگا واٹ آور ٹرانسمیشن سطح پر اور 500 میگا واٹ آور تقسیم کار نیٹ ورکس میں منصوبہ بند ہیں۔

پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ بیٹریاں گرڈ کو مستحکم کرنے، صرف پیک ڈیمانڈ کے لیے چلنے والے نئے گیس پاور پلانٹس کی ضرورت کم کرنے، درآمدی کوئلے اور ایل این جی پر انحصار گھٹانے اور آئندہ دو سے تین سال میں لوڈشیڈنگ کے خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، تاہم یہ سب عملدرآمد پر منحصر ہوگا۔

پریزنٹیشن کے مطابق پاکستان کو مجموعی بجلی استعمال میں کمی اور شام کے چند گھنٹوں میں طلب کے اضافے کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کا سامنا ہے۔ قومی ٹرانسمیشن سسٹم میں پیک ڈیمانڈ تقریباً 26,522 میگا واٹ تک پہنچی، جبکہ کے الیکٹرک کو شامل کیا جائے تو یہ 29,000 میگا واٹ کے قریب جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس دن کے اوقات میں طلب تقریباً 8,000 میگا واٹ تک گر سکتی ہے۔

شرکا کے مطابق اس فرق سے مہنگا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، کیونکہ پاور پلانٹس اور گرڈ سازوسامان مختصر پیک اوقات کے لیے درکار رہتے ہیں، مگر دن کے باقی حصے میں پوری طرح استعمال نہیں ہوتے۔ بیٹریاں دن کی نسبتاً سستی بجلی ذخیرہ کر کے مہنگے پیک اوقات میں فراہم کر سکتی ہیں۔

پاور ڈویژن ایک ancillary services framework بھی تیار کر رہا ہے تاکہ اسٹوریج کی ضرورت والے مقامات کی نشاندہی ہو اور نجی سرمایہ کاری آئے۔ توقع ہے کہ اس کے ضوابط اپریل 2027 کے قریب تیار کیے جائیں گے۔ ایک مجوزہ ماڈل کے تحت نجی کمپنیاں بیٹریاں نصب کر کے 10 سے 15 سالہ معاہدوں کے تحت اسٹوریج خدمات فراہم کر سکیں گی۔

ایک اور تجویز بیٹری اسٹوریج کو پاور سیکٹر فریم ورک میں regulated asset کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق ہے۔ پاور ڈویژن کے عہدیدار نے کہا کہ اس سے ایسے مقامات پر بیٹریوں کا استعمال ممکن ہو سکتا ہے جہاں مہنگے گرڈ اسٹیشن یا اضافی ٹرانسفارمرز لگانے پڑتے ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ تقریباً ایک ارب روپے کے گرڈ اسٹیشن کے بجائے تقریباً 50 کروڑ روپے کی بیٹری تنصیب سے 50 کروڑ روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے لیے قانونی اور ریگولیٹری تبدیلیوں پر کام جاری ہے۔

تاہم سوال یہ رہا کہ ان منصوبوں کی قیمت کون ادا کرے گا۔ شرکا نے خبردار کیا کہ اگر یوٹیلٹیز بیٹری اسٹوریج پر بھاری خرچ کر کے لاگت بجلی ٹیرف کے ذریعے وصول کریں گی تو صارفین پر نیا مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

پاور ڈویژن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومت time of use tariffs پر غور کر رہی ہے تاکہ صارفین کو سستی فراہمی کے اوقات میں بجلی استعمال کرنے کی ترغیب ملے۔ مجوزہ طریقہ کار کے تحت بعض صنعتی صارفین کو مخصوص اوقات میں 6 سے 9 روپے فی یونٹ نرخ مل سکتے ہیں۔ ایک مثال میں بتایا گیا کہ 50 فیصد سے زائد لوڈ فیکٹر پر بجلی استعمال کرنے والے صارف کے لیے تقریباً 30 روپے کا صنعتی ٹیرف کم ہو کر 22 روپے ہو سکتا ہے۔

حکومت ٹیرف ری فنانسنگ اور صنعتوں کو سپلائرز کے ساتھ براہ راست معاہدوں کے ذریعے بجلی خریدنے کے امکانات بھی دیکھ رہی ہے، تاکہ کاروبار قومی گرڈ سے جڑے رہیں اور اپنے نجی پاور سسٹمز میں بھاری سرمایہ کاری پر مجبور نہ ہوں۔

کئی کاروباری نمائندوں نے کہا کہ بجلی کی بلند لاگت فیکٹریوں کو پہلے ہی قومی گرڈ سے دور کر رہی ہے۔ ایک شریک نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے بہت سے صنعت کار گیس جنریٹرز، سولر پینلز اور دیگر نجی پاور نظاموں کے امتزاج کی طرف جا چکے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں بجلی کی لاگت تقریباً 42 روپے فی یونٹ تک پہنچ رہی ہے۔ اسی شریک نے دعویٰ کیا کہ سات ماہ میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی گیس کھپت تقریباً 50 فیصد کم ہوئی، کیونکہ صنعتوں نے اپنے توانائی انتظامات تبدیل کیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کے الیکٹرک کو گیس تقریباً 1,450 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ملتی ہے، جبکہ صنعتی صارفین 3,800 سے 4,700 روپے کے درمیان ادا کرتے ہیں، اضافی لیویز اس کے علاوہ ہیں۔ فراہم کردہ مواد میں ان دعووں کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں تھی۔

ایم این اے چوہدری مبین عارف جٹ نے خبردار کیا کہ کاروبار فیکٹریوں کی توسیع، مشینری کی خریداری یا پیداوار بڑھانے کے بجائے captive power generation اور اسٹوریج پر پیسہ لگا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض کاروبار اپنی پیداواری مشینری کے مقابلے میں توانائی انتظامات پر دگنی سرمایہ کاری تک کر رہے ہیں۔

اجلاس میں برقی گاڑیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پاور ڈویژن نے کہا کہ کم گھریلو لوڈ کے لیے بنائے گئے نیٹ ورکس پر اس وقت دباؤ بڑھ سکتا ہے جب لوگ رات کو الیکٹرک کاریں چارج کریں گے۔ اس نے تجویز کیا کہ مستقبل میں بعض ای وی چارجنگ سسٹمز کے ساتھ بیٹری اسٹوریج بھی درکار ہو سکتی ہے تاکہ ٹرانسفارمرز اور وسیع گرڈ پر اضافی بوجھ محدود رہے۔

عہدیدار نے ایک electrification plan کا بھی ذکر کیا، جو کابینہ کے سامنے جانے کی توقع ہے۔ اس میں موجودہ گرڈ سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے اندر واقع علاقوں کو کنکشن دینے کو ترجیح دی جائے گی۔ حکومت سمجھتی ہے کہ وسیع تر electrification اور دن کے سستے بجلی نرخ استعمال بڑھا کر طلب کو متوازن کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

وزارت صنعت کی جانب سے تیار کی جانے والی بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی بھی اہم موضوع رہی۔ پاور ڈویژن کے مشیر نے کہا کہ یہ پالیسی ایک سے دو ماہ میں اعلان کی جا سکتی ہے، جس میں ابتدائی مراعات اسمبلی پلانٹس اور خام مال پر مرکوز ہوں گی۔ تاہم شرکا نے نشاندہی کی کہ بیٹری سیلز کی مقامی تیاری میں زیادہ وقت لگے گا اور صرف سادہ اسمبلی کو مکمل مقامی مینوفیکچرنگ قرار نہیں دینا چاہیے۔

بحث اس وقت سیاسی رخ اختیار کر گئی جب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکا نے مرکزی سطح پر توانائی منصوبہ بندی پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں اور مقامی آبادیوں کو اکثر ایسے فیصلوں سے باہر رکھا جاتا ہے جو براہ راست ان کی بجلی فراہمی اور معاشی ترقی کو متاثر کرتے ہیں۔

ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ اسلام آباد میں بننے والی پالیسیاں دیہی آبادی، کسانوں اور غریب علاقوں کی ضروریات کی مکمل عکاسی نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں ہوا اور سولر توانائی کی بڑی صلاحیت ہے، مگر قومی توانائی منصوبہ بندی میں صوبائی رائے اکثر شامل نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ 10، 20 اور 30 میگا واٹ کے سولر منصوبوں کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے، مگر یہ تجاویز تقریباً 10 سال سے اسلام آباد میں زیر التوا ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ مل کر ایسا قومی فریم ورک بنائے جو صوبوں کو اپنی ضروریات کے مطابق مراعات ڈیزائن کرنے کی اجازت دے۔

شرکا نے بلوچستان میں لیتھیم ذخائر کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ معدنی وسائل کو مقامی بیٹری مینوفیکچرنگ اور روزگار کے مواقع سے جوڑا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومتوں کا یہ طے کرنے میں واضح کردار ہونا چاہیے کہ قدرتی وسائل کیسے استعمال ہوں اور سرمایہ کاری کے فوائد مقامی آبادی تک کیسے پہنچیں۔

ایک اور مقرر نے کہا کہ ملک بھر میں بجلی تک رسائی غیر مساوی ہے، اس لیے قومی پالیسی میں شہری مراکز، دور دراز اضلاع اور غریب دیہی گھرانوں کی مختلف ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔ underserved علاقوں میں بجلی رسائی بہتر بنانے کے لیے microgrids اور minigrids کو ممکنہ راستہ قرار دیا گیا۔

فورم میں یہ بھی کہا گیا کہ بیٹری اسٹوریج کی توسیع کو برقی گاڑیوں، ڈیٹا سینٹرز اور بجلی زیادہ استعمال کرنے والے دیگر شعبوں کی ترقی کے ساتھ مربوط کر کے آگے بڑھانا ہوگا۔ شرکا کے مطابق حکومت کو پانچ اہداف میں توازن پیدا کرنا ہوگا: سستی بجلی، قابل اعتماد فراہمی، گرڈ استحکام، ماحولیاتی پائیداری اور تمام برادریوں کے لیے رسائی۔

فورم نے نتیجہ اخذ کیا کہ بیٹری اسٹوریج پاکستان کے بجلی نظام کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے، مگر اس کے لیے واضح قانونی فریم ورک، منصفانہ ٹیرف، حفاظتی معیارات اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے۔ کارروائی کو پارلیمانی ورکنگ پیپر کی شکل دے کر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی، وزارت توانائی، نیپرا اور وزارت خزانہ کو بھیجا جائے گا، تاکہ قانون سازی، بجلی ٹیرف اور ٹیکس پالیسی میں تبدیلیوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

Share This Article