اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ مالی سال 2015-16 سے 2025-26 تک تمباکو کے شعبے سے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں مجموعی طور پر تقریباً 1.92 ٹریلین روپے وصول کیے گئے، تاہم تمباکو ڈویلپمنٹ سیس کے سال وار اعداد و شمار اور خیبر پختونخوا، خصوصاً تمباکو پیدا کرنے والے ضلع صوابی، کو جاری رقوم کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
یہ معلومات وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے سینیٹر مشال اعظم کے سوال کے جواب میں دی گئیں۔ سینیٹر نے تمباکو ٹیکسوں کا 10 سالہ ریکارڈ، صوبے کے حصے یا رائلٹی، اصل ادائیگیوں اور فنڈز میں تاخیر، کمی یا عدم اجرا کی وجوہات طلب کی تھیں۔
حکومتی جواب کے مطابق تمباکو بنانے والی کمپنیوں سے سیلز ٹیکس کی مد میں 432.12 ارب روپے وصول ہوئے، جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی 1.486 ٹریلین روپے رہی۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ اعداد و شمار سیلز ٹیکس اور ایکسائز ریٹرنز میں ظاہر کی گئی مقامی سپلائز اور درآمدات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔
اگرچہ سوال گزشتہ 10 برسوں کے بارے میں تھا، تاہم پیش کردہ جدول میں 2015-16 سے 2025-26 تک 11 مالی سال شامل کیے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مشترکہ وصولی 2015-16 میں تقریباً 116.56 ارب روپے تھی، جو 2016-17 میں کم ہو کر 84.73 ارب روپے رہ گئی۔
بعد ازاں 2017-18 میں وصولی 89.53 ارب روپے، 2018-19 میں 117 ارب روپے اور 2019-20 میں 115.55 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال 2020-21 میں یہ رقم بڑھ کر 138.38 ارب روپے، 2021-22 میں 152.35 ارب روپے اور 2022-23 میں 183.21 ارب روپے ہو گئی۔
مالی سال 2023-24 میں تمباکو شعبے سے مشترکہ وصولی بڑھ کر 302.57 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ 2024-25 میں یہ رقم 289.54 ارب روپے رہی، جبکہ 2025-26 میں مجموعی وصولی تقریباً 329.11 ارب روپے بتائی گئی۔
تازہ ترین مالی سال کے دوران سیلز ٹیکس کی کل وصولی 77.15 ارب روپے رہی۔ اس میں مقامی سپلائز سے 43.194 ارب روپے اور درآمدات سے 33.956 ارب روپے شامل تھے۔ اسی عرصے میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی 251.958 ارب روپے رہی، جس میں مقامی سپلائز سے 89.071 ارب روپے جبکہ درآمدات سے 162.887 ارب روپے حاصل ہوئے۔
حکومتی اعداد و شمار سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ذرائع میں بڑی تبدیلی بھی سامنے آئی۔ مقامی سپلائز پر ایکسائز ڈیوٹی 2023-24 میں 236.333 ارب روپے تھی، جو 2024-25 میں کم ہو کر 121.574 ارب روپے اور 2025-26 میں 89.071 ارب روپے رہ گئی۔ اس کے برعکس درآمدات پر ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم جواب میں اس تبدیلی کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔
جواب میں مزید بتایا گیا کہ تمباکو مصنوعات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی خوردہ قیمت کے مطابق مختلف شرحوں پر وصول کی جاتی ہے۔ موجودہ بیان کردہ شرحوں کے تحت ٹئیر ون کے لیے فی ایک ہزار سگریٹ 16,500 روپے جبکہ ٹئیر ٹو کے لیے فی ایک ہزار سگریٹ 5,050 روپے ڈیوٹی مقرر ہے۔
تاہم سینیٹر مشال اعظم کے سوال کا مرکزی نکتہ، یعنی تمباکو ڈویلپمنٹ سیس اور خیبر پختونخوا بالخصوص صوابی کو واجب الادا یا جاری کی گئی رقوم، فراہم کردہ اعداد و شمار میں واضح نہیں کیا گیا۔ حکومت نے جواب میں کہا کہ تمباکو سیس سے متعلق معلومات صوبائی معاملہ ہیں اور یہ تفصیلات خیبر پختونخوا حکومت فراہم کرے۔
جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ رائلٹی کی تقسیم وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ اس کے باوجود پیش کردہ ریکارڈ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ خیبر پختونخوا یا صوابی کو کتنی رقم جاری ہوئی، یا اگر رقوم کی ادائیگی میں تاخیر، کمی یا عدم اجرا ہوا تو اس کی وجوہات کیا تھیں۔


