بینکوں کو مکمل قانونی تحفظ دینے پر سینیٹ کمیٹی کے تحفظات، قرض لینے والوں کے خلاف سخت فورکلوژر اختیارات پر سوالات

4 Min Read
مالیات کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے بینکوں کیلئے 'معافی شق' اور رہائشی قرضہ کی فارکلوزر شق پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔

بینکوں کو مکمل قانونی تحفظ دینے پر سینیٹ کمیٹی کے تحفظات، قرض لینے والوں کے خلاف سخت فورکلوژر اختیارات پر سوالات
“گڈ فیتھ” کے نام پر یکطرفہ قانونی استثنیٰ قابل قبول نہیں، قائمہ کمیٹی برائے خزانہ

ندیم تنولی

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے مالیاتی اداروں اور ان کے افسران کو مجوزہ قانونی تحفظ دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ “نیک نیتی” یا “گڈ فیتھ” کے نام پر مکمل قانونی استثنیٰ کو قانون سازی کا معمول نہیں بنایا جا سکتا۔ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ قانونی تحفظات یکطرفہ نہیں ہونے چاہئیں، یا تو دونوں فریقین کو منصفانہ تحفظ دیا جائے یا ایسا نظام نہ بنایا جائے جس میں ادارے محفوظ رہیں اور قرض لینے والے غیر محفوظ ہو جائیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں سید نوید قمر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فنانشل انسٹی ٹیوشنز ریکوری آف فنانس ترمیمی بل کی شق وار جانچ پڑتال کی گئی۔ اجلاس میں خاص طور پر نئی شامل کی گئی شق 15 اے پر تفصیلی بحث ہوئی، جو ہاؤسنگ فنانس اور فورکلوژر کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔

کمیٹی کے سامنے سب سے حساس معاملہ ہاؤسنگ فنانس کے لیے مجوزہ فورکلوژر نظام تھا۔ ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر یہ قانون منظور ہو گیا تو یہ قرض لینے والوں اور عام شہریوں کے لیے انتہائی سخت ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے افراد کے لیے جو مالی مشکلات یا عارضی ڈیفالٹ کا شکار ہوں۔

کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو نادہندہ قرضوں کی وصولی کے لیے قانونی اختیارات ضرور درکار ہیں، تاہم ان اختیارات میں توازن، شفافیت، جوابدہی اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی لازمی ہونا چاہیے۔ ارکان نے زور دیا کہ ریکوری قوانین ایسے نہ ہوں جن کے تحت مالیاتی ادارے من مانے اقدامات کریں یا فورکلوژر اختیارات استعمال کر کے قرض لینے والوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالیں۔

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے ان وسیع انڈیمینٹی شقوں پر سخت اعتراض کیا جن کے تحت مالیاتی اداروں اور ان کے افسران کو غیر معمولی قانونی تحفظ دیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ “گڈ فیتھ” جیسے الفاظ کے تحت مکمل استثنیٰ دینے والی روایتی شقیں بغیر مکمل جانچ پڑتال کے قانون سازی کا حصہ نہیں بننی چاہئیں۔

اجلاس میں ارکان نے اداروں کو وسیع اختیارات دینے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اگر اختیارات دیے جا رہے ہیں تو ان کے ساتھ مؤثر احتسابی نظام، اپیل کا حق اور متاثرہ قرض لینے والوں کے لیے قانونی تحفظ بھی شامل ہونا چاہیے۔

کمیٹی نے متعلقہ وزارت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ کمیٹی کی متفقہ ترامیم اور سفارشات کو نظرثانی شدہ مسودے میں شامل کیا جائے، جس کے بعد بل کو مزید غور کے لیے دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

Copied From: Blanket immunity for banks questioned as finance committee flags harsh foreclosure powers against borrowers

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے