سندھ سولر انرجی منصوبے میں 1 کروڑ 25 لاکھ ڈالر کے جعلی انوائسز کا انکشاف

4 Min Read
سینیٹ کی کمیٹی نے سندھ سولر منصوبے میں بارہ اعشاریہ پانچ ملین ڈالر کے جعلی انوائسز کی نشاندہی کی، شفافیت اور سخت نگرانی کا مطالبہ کیا۔

سندھ سولر انرجی منصوبے میں 1 کروڑ 25 لاکھ ڈالر کے جعلی انوائسز کا انکشاف

ندیم تنولی

اسلام آباد: سندھ سولر انرجی منصوبہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن الزامات کے باعث پارلیمانی نگرانی کی زد میں آ گیا، جہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کو بتایا گیا کہ غیر ملکی فنڈڈ منصوبے میں ایک کروڑ 25 لاکھ ڈالر کے جعلی انوائسز سمیت بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ کمیٹی نے معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات، سخت کارروائی اور غیر ملکی امدادی منصوبوں کی مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سندھ کے غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں اور سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومتِ سندھ کے سینئر افسران کو پہلے بھی طلب کیا گیا تھا، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال مکمل جواب موصول نہیں ہوا۔

کمیٹی کے اجلاس میں سندھ سولر انرجی منصوبہ سب سے اہم موضوع رہا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکریٹری محکمہ توانائی سندھ نے پہلے کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ منصوبے میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں اور خرد برد سامنے آئی ہیں۔ کارروائی کے مطابق منصوبے میں ایک کروڑ 25 لاکھ ڈالر مالیت کے جعلی انوائسز کا معاملہ بھی سامنے آیا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سندھ کے غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں میں مبینہ کرپشن پر محکمہ منصوبہ بندی و ترقی سندھ کے چیئرمین قوم کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ انہوں نے اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت کی کہ چیف سیکریٹری سندھ کو خط لکھ کر آئندہ اجلاس میں چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی حاضری یقینی بنائی جائے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ سندھ کے غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں سے متعلق مکمل بریفنگ دی جائے اور وضاحت کی جائے کہ ڈونر فنڈڈ اسکیموں میں ایسی بے ضابطگیاں کیسے ہوئیں۔ ارکان نے کہا کہ کمزور نگرانی اور ناقص احتساب عوامی اعتماد کو متاثر کر رہا ہے اور بین الاقوامی ترقیاتی فنڈز کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ معاملہ وفاقی وزیر اقتصادی امور کے نوٹس میں لا کر مبینہ طور پر ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ارکان نے زور دیا کہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز عوامی فلاح اور ترقی کے لیے ہوتے ہیں، انہیں کرپشن اور مالی بدعنوانی کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ غیر ملکی ڈونرز کے فنڈز ملکی ترقی اور عوامی بہبود کے لیے مختص ہوتے ہیں، اس لیے ان کے استعمال میں شفافیت اور احتساب ناگزیر ہے۔ کمیٹی نے مؤثر چیک اینڈ بیلنس، شفاف ٹینڈرنگ اور نگرانی کے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

کمیٹی نے اپنی سابقہ سفارش دہراتے ہوئے اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت کی کہ ڈونر فنڈڈ منصوبوں کے ٹینڈرنگ عمل، نگرانی اور فالو اپ کے لیے خصوصی مانیٹرنگ ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ مستقبل میں مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے امکانات کو روکا جا سکے۔

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے