اسلام آباد، 2 اکتوبر 2026: پاکستان نے لندن میں منعقدہ کامن ویلتھ ٹیلی کمیونیکیشن آرگنائزیشن (CTO) ڈیجیٹل ایکسیلنس ایوارڈز 2026 میں تین اہم اعزازات حاصل کر لیے۔ یہ تقریب سی ٹی او کی تاریخی 125ویں سالگرہ کی تقریبات کا حصہ تھی۔
ان اعزازات کو ڈیجیٹل پالیسی، اختراع، شہریوں پر مرکوز سرکاری خدمات کی فراہمی اور ٹیلی کمیونیکیشن گورننس کے شعبوں میں پاکستان کی پیش رفت کا اہم بین الاقوامی اعتراف قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان نے ’’نیشنل انکیوبیشن سینٹرز کا قیام‘‘ کے منصوبے پر ڈیجیٹل پالیسی اینڈ ریگولیٹری ایکسیلنس کیٹیگری میں ونر ایوارڈ حاصل کیا۔ اس منصوبے کے تحت ملک گیر سطح پر انکیوبیشن پلیٹ فارمز کا نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے، جو نوجوان اختراع کاروں اور کاروباری افراد کو رہنمائی، ٹیکنالوجی سپورٹ، بزنس ڈویلپمنٹ سروسز اور سرمایہ کاروں کے نیٹ ورکس تک رسائی فراہم کر کے ان کے خیالات کو قابل عمل کاروباری اداروں میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پاکستان کو ’’ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ذریعے حکومتی ریلیف کی فراہمی میں تبدیلی‘‘ کے منصوبے پر 21ویں صدی کی حکومت/ای گورنمنٹ انیشی ایٹوز ایکسیلنس کیٹیگری میں رنر اپ یعنی سلور میڈل بھی ملا۔ اس اقدام کے ذریعے یہ دکھایا گیا کہ ڈیجیٹل نظام شفافیت، کارکردگی، درست ہدف بندی اور جوابدہی کو بہتر بنا کر حکومتی امداد کی فراہمی کو کس طرح مضبوط کر سکتے ہیں، جبکہ ریلیف تک تیز تر اور زیادہ جامع رسائی بھی ممکن بناتے ہیں۔
اسی طرح ’’انٹیگریٹڈ سپیکٹرم گورننس ریفارم‘‘ کو ڈیجیٹل پالیسی اینڈ ریگولیٹری ایکسیلنس کیٹیگری میں فائنلسٹ یعنی برونز میڈل قرار دیا گیا۔ اس اصلاحاتی منصوبے میں سپیکٹرم مینجمنٹ کے لیے زیادہ مربوط اور شواہد پر مبنی طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد رابطوں اور خدمات کے معیار کو بہتر بنانا، اگلی نسل کی ٹیلی کمیونیکیشنز کو تقویت دینا اور ڈیجیٹل معیشت میں سرمایہ کاری کو آسان بنانا ہے۔
پاکستان کی یہ کامیابی اس لیے بھی نمایاں ہے کہ سی ٹی او کے 56 ارکان میں پاکستان واحد رکن ریاست تھا جس کی تینوں انٹریز فائنلسٹ نامزد ہوئیں اور دو بڑی ایوارڈ کیٹیگریز میں تینوں کو اعزاز ملا۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اس کامیابی پر کہا کہ سی ٹی او ڈیجیٹل ایکسیلنس ایوارڈز میں پاکستان کے تین اقدامات کا اعتراف قوم کے لیے باعث فخر لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے ایسے ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو آگے بڑھانے میں ملک بھر کے اداروں کی لگن اور محنت کی عکاسی کرتا ہے جو جامع، اختراعی اور ٹیکنالوجی سے بااختیار ہو۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے مزید کہا کہ توجہ اس بات پر ہے کہ ٹیکنالوجی کو نوجوانوں کے لیے بامعنی مواقع، شہریوں کے لیے زیادہ قابل رسائی عوامی خدمات، بہتر کنیکٹیویٹی اور زیادہ مسابقتی ڈیجیٹل معیشت میں تبدیل کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ اعزازات اس امر کی توثیق کرتے ہیں کہ پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن رفتار پکڑ رہی ہے اور ملکی کوششوں کو عالمی فورمز پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
سی ٹی او ڈیجیٹل ایکسیلنس ایوارڈز ایسے نمایاں ڈیجیٹل اقدامات کو سراہتے ہیں جو ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے فروغ میں اثر، اختراع اور قیادت کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ دولت مشترکہ میں علم کے تبادلے اور شمولیتی ڈیجیٹل ترقی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
