بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں، شزہ فاطمہ

newsdesk
3 Min Read
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے سمٹ سے خطاب میں بچوں کے آن لائن تحفظ پر زور دیا۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن نقصانات سے محفوظ رکھنا حکومت، ٹیکنالوجی کمپنیوں، والدین، اساتذہ اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مؤثر اور فعال اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق میٹا جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آن لائن تحفظ سے متعلق آگاہی مہمات میں مزید بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ بچوں اور والدین تک محفوظ ڈیجیٹل رویوں کے پیغامات پہنچ سکیں۔

وفاقی وزیر آئی ٹی نے زور دیا کہ بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق آگاہی صرف بڑے شہروں یا سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے ملک کے کونے کونے، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر حصے میں والدین، اساتذہ اور بچوں کو آن لائن خطرات کے بارے میں آگاہ کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔

شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق آگاہی مہمات چلا رہی ہے، تاہم ڈیجیٹل تحفظ کے اقدامات اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوں گے جب عوام ان سے آگاہ ہوں اور انہیں استعمال کرنے کا طریقہ جانتے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کو انٹرنیٹ کے ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے والدین اور اساتذہ کی رہنمائی ناگزیر ہے۔ بچوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے جہاں وہ آن لائن مسائل پر بلا جھجھک بات کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر مدد حاصل کرنے کے طریقوں سے واقف ہوں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے آگاہی، مؤثر اقدامات اور کھلے مکالمے کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کے مطابق اس موضوع پر گفتگو کو ہر کلاس روم، ہر استاد اور ہر والدین تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

شزہ فاطمہ خواجہ نے مزید کہا کہ نوجوانوں، والدین اور اساتذہ کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل کے لیے حکومت، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب وہ آن لائن خطرات کو سمجھیں اور مدد حاصل کرنے کے ذرائع سے آگاہ ہوں۔

Share This Article