ٹی این ای پالیسی 2024 کے تحت ایچ ای سی کی منظور شدہ فہرست میں 54 ادارے شامل

10 Min Read
ایچ ای سی کی فہرست میں ٹی این ای پالیسی 2024 کے تحت 54 پاکستانی ادارے شامل ہیں۔

پاکستان میں غیر ملکی جامعات کے پروگرامز، ایچ ای سی نے 54 اداروں کی منظوری دے دی

اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ٹرانس نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2024 کے تحت پاکستان میں غیر ملکی جامعات کے تعلیمی پروگرامز کرانے والے 54 اداروں کی فہرست جاری کردی ہے۔ ان اداروں کو ایچ ای سی کی جانب سے مقررہ منظوری اور مخصوص مدت کے تحت غیر ملکی تعلیمی پروگرامز پیش کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ایچ ای سی کی فہرست کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم ان اداروں کے ذریعے طلبہ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، بزنس، اکاؤنٹنگ، قانون، نفسیات، انجینئرنگ، فیشن، ڈیٹا سائنس، نرسنگ، ہاسپیٹیلٹی، صحافت اور دیگر شعبوں میں غیر ملکی تعلیمی پروگرامز حاصل کرسکتے ہیں۔

ان پروگرامز کا تعلق برطانیہ، جرمنی، امریکا اور دیگر ممالک کی جامعات اور تعلیمی اداروں سے ہے۔ فہرست میں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، پشاور، فیصل آباد، ملتان، حیدرآباد، گوجرانوالہ اور ایبٹ آباد سمیت مختلف شہروں کے ادارے شامل ہیں۔

ایچ ای سی کی منظور شدہ فہرست میں یونیورسٹی آف بولٹن اسلام آباد کیمپس، بیکن ہاؤس انٹرنیشنل کالج اسلام آباد، انٹرنیشنل کالج فار لیگل اسٹڈیز لاہور، بیکن ہاؤس انٹرنیشنل کالج لاہور، ڈیننگ لا اسکول حیدرآباد اور کراچی، دی ملینیم یونیورسل کالج اسلام آباد، انڈس یونیورسٹی کراچی، ٹی ایم یو سی راولپنڈی، دی آئی وی کالج آف مینجمنٹ سائنسز لاہور اور یونیورسٹی آف لاہور شامل ہیں۔

اسی فہرست میں روٹس آئی وی وائی انٹرنیشنل کالج راولپنڈی، ٹی ایم یو سی لاہور اور فیصل آباد، انٹرنیشنل کالج لاہور، لاہور گرامر اسکول انٹرنیشنل ڈگری پروگرام لاہور اور اسلام آباد، بیکن ہاؤس انٹرنیشنل کالج کراچی، کلی پولس کالج آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز فیصل آباد، ٹی ایم یو سی کراچی اور پشاور بھی شامل ہیں۔

ایچ ای سی کے مطابق سینٹر فار لرننگ لا اینڈ بزنس پشاور، ٹی ایم یو سی ایبٹ آباد، میٹروپولیٹن انٹرنیشنل یونائیٹڈ کالج اسلام آباد، بلیک اسٹون اسکول آف لا اینڈ بزنس لاہور، ٹی ایم یو سی گوجرانوالہ، دی انسٹی ٹیوٹ آف لیگل اسٹڈیز پشاور اور لاہور، یونیورسل کالج لاہور، اسکینز اسکول آف اکاؤنٹنسی لاہور، ڈیننگ اسکول آف لا ملتان، اسکول آف انٹرنیشنل لا اسلام آباد اور یو سی ایل ٹی آئی ایل ایس اسکول آف لا اینڈ بزنس ملتان بھی منظور شدہ اداروں میں شامل ہیں۔

فہرست کے بعد کے حصے میں امپیریل ٹیوٹوریل کالج کراچی، آئی وی کالج آف مینجمنٹ سائنسز اسلام آباد، اسلام آباد اسکول آف لا، انٹرنیشنل کالج آف ایکسی لینس اسلام آباد، سیڈز اسکول آف ایکسی لینس ان ایجوکیشنل اینڈ ڈویلپمنٹل اسٹڈیز پشاور، لارڈز کالج انٹرنیشنل اسلام آباد، روٹس آئی وی وائی انٹرنیشنل کالج اسلام آباد، ڈیننگ لا اسکول قاسم آباد حیدرآباد، ایل جی ایس انٹرنیشنل ڈگری پروگرام گجرات، روٹس آئی وی وائی انٹرنیشنل کالج ڈی ایچ اے فائیو لاہور، ڈیننگ لا اسکول نارتھ ناظم آباد کراچی، ڈیننگ لا اسکول گوجرانوالہ، یونیورسٹی آف فیصل آباد، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور، ڈیننگ لا اسکول راولپنڈی، یونیورسل کالج اسلام آباد اور نیشنل ایکسی لینس انسٹی ٹیوٹ راولپنڈی شامل ہیں۔

ایچ ای سی کی فہرست کے مطابق 2026 کے دوران متعدد اداروں کو نئی منظوری دی گئی۔ امپیریل ٹیوٹوریل کالج کراچی کو 24 جولائی 2026 سے 31 دسمبر 2028 تک منظوری دی گئی، جبکہ آئی وی کالج آف مینجمنٹ سائنسز اسلام آباد کو 24 جولائی 2026 سے 30 جون 2028 تک منظوری حاصل ہے۔ اسلام آباد اسکول آف لا کو 27 جولائی 2026 سے 31 جولائی 2027 تک پروگرامز کی منظوری دی گئی۔

انٹرنیشنل کالج آف ایکسی لینس اسلام آباد کے پروگرامز کا تعلق پیئرسن برطانیہ اور بکنگھم شائر نیو یونیورسٹی سے ہے۔ ان پروگرامز میں بزنس، کمپیوٹنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ، کمپیوٹر گیمز ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، فیشن اور ٹیکسٹائل شامل ہیں۔ اس ادارے کی منظوری 28 جولائی 2026 سے 30 جون 2028 تک ہے۔

پشاور میں سیڈز کے لیے پیئرسن برطانیہ کے ذریعے بزنس میں ایچ این ڈی پروگرام کی منظوری دی گئی ہے، جس کی مدت 28 جولائی 2026 سے 31 جولائی 2027 تک ہے۔

لارڈز کالج انٹرنیشنل اسلام آباد کو یونیورسٹی آف لندن کے قانون کے پروگرامز اور پیئرسن کے پروگرامز کے لیے 10 اگست 2026 سے 31 اگست 2027 تک منظوری حاصل ہے۔ روٹس آئی وی وائی انٹرنیشنل کالج اسلام آباد کو یونیورسٹی آف لندن کے ایل ایل بی پروگرام کے لیے 12 اگست 2026 سے 31 دسمبر 2028 تک منظوری دی گئی ہے۔

ڈیننگ لا اسکول قاسم آباد حیدرآباد کے پروگرامز کا تعلق یونیورسٹی آف گرین وچ سے ہے، جن میں بزنس مینجمنٹ، کمپیوٹنگ اور قانون شامل ہیں جبکہ فیشن اور ٹیکسٹائل کا ایچ این ڈی پروگرام بھی فہرست میں شامل ہے۔

ایل جی ایس انٹرنیشنل ڈگری پروگرام گجرات کے پروگرامز کا تعلق یونیورسٹی آف لندن اور پیئرسن سے ہے۔ روٹس آئی وی وائی انٹرنیشنل کالج ڈی ایچ اے فائیو لاہور میں یونیورسٹی آف پورٹسماؤتھ، گسما یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز اور یونیورسٹی آف بیڈفورڈ شائر سے منسلک متعدد پروگرامز شامل ہیں۔

فہرست میں کراچی کے نارتھ ناظم آباد اور گوجرانوالہ میں ڈیننگ لا اسکول، یونیورسٹی آف فیصل آباد، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور، ڈیننگ لا اسکول راولپنڈی، یونیورسل کالج اسلام آباد اور نیشنل ایکسی لینس انسٹی ٹیوٹ راولپنڈی کی حالیہ منظوریوں کا بھی ذکر ہے۔

سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور کے متعدد پروگرامز لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔ ان میں بزنس مینجمنٹ، اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس، بینکنگ اینڈ فنانس، ایڈلٹ نرسنگ، قانون، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، فارماسیوٹیکل سائنسز اور فزیوتھراپی شامل ہیں۔ ایچ ای سی فہرست کے مطابق اس یونیورسٹی کی منظوری 18 اگست 2026 سے 31 اگست 2027 تک ہے۔

ڈیننگ لا اسکول راولپنڈی میں یونیورسٹی آف گرین وچ سے منسلک بزنس مینجمنٹ، کمپیوٹنگ اور قانون کے پروگرامز شامل ہیں۔ یونیورسل کالج اسلام آباد میں پیئرسن برطانیہ کے ذریعے بزنس مینجمنٹ میں ایچ این ڈی پروگرام شامل ہے۔

راولپنڈی کے بی 17 میں قائم نیشنل ایکسی لینس انسٹی ٹیوٹ کے پروگرامز آئیڈیا کالج مالٹا سے منسلک ہیں۔ ان میں نرسنگ سائنسز، کمپیوٹنگ، ابتدائی بچپن کی تعلیم، ٹریول اینڈ ٹورازم اور اکاؤنٹنگ ود مینجمنٹ اینڈ اینالیٹکس شامل ہیں۔ ادارے کی منظوری 10 ستمبر 2026 سے 31 اگست 2027 تک ہے۔

ایچ ای سی کی فہرست میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بعض پروگرامز، خصوصاً قانون کے پروگرامز، پاکستان بار کونسل کی منظوری یا تسلیم کیے جانے سے مشروط ہیں۔ اسی طرح بعض پیشہ ورانہ پروگرامز کے لیے متعلقہ پروفیشنل اداروں کی الگ منظوری بھی ضروری ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ادارے یا پروگرام کو ایچ ای سی کی جانب سے حاصل منظوری دیگر متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی ضروریات کو ختم نہیں کرتی۔ طلبہ کو داخلہ لینے سے قبل متعلقہ پروگرام کی مخصوص منظوری اور دیگر پیشہ ورانہ اداروں کی جانب سے تسلیم کیے جانے کی صورتحال ضرور چیک کرنا ہوگی۔

ایچ ای سی کی دستاویز میں پرانی ٹرانس نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے تحت منظور شدہ اداروں کے لیے الگ فہرست بھی موجود ہے۔ اس میں ایشیا پیسیفک انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کراچی، بیکن ہاؤس انٹرنیشنل کالج فیصل آباد، ایڈیکسل لندن ایگزامینیشنز، مینجمنٹ ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ پاکستان، اے سی سی اے یو کے پاکستان چیپٹر، کالج آف اکاؤنٹنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کراچی، روٹس کالج انٹرنیشنل اسلام آباد، روٹس آئی وی وائی انٹرنیشنل کالج اسلام آباد، نیکون کالج آف کمپیوٹر اینڈ مینجمنٹ سائنسز راولپنڈی، کنفیڈ اسکول آف پروفیشنل اسٹڈیز پشاور اور نامال کالج میانوالی سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔

دستاویز کے مطابق پرانی پالیسی کے تحت بعض پروگرامز بند ہوچکے ہیں، بعض معطل ہیں جبکہ کچھ میں نئے داخلے روک دیے گئے ہیں۔

ایچ ای سی کی فہرست سے پاکستان میں غیر ملکی جامعات کے تعلیمی پروگرامز کی موجودہ صورتحال کی تفصیلی تصویر سامنے آتی ہے۔ تاہم ہر ادارے اور پروگرام کی منظوری کی مدت اور شرائط الگ ہیں۔ طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ داخلہ لینے سے قبل متعلقہ ادارے، مخصوص پروگرام، ایچ ای سی کی منظوری کی مدت اور کسی دوسرے پیشہ ورانہ یا ریگولیٹری ادارے سے تسلیم کیے جانے کی شرط کی مکمل تصدیق کریں۔

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، اوورسیز پاکستانیوں، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔