چولپون آتا اجلاس: وسطی ایشیا اور آذربائیجان کا نیا علاقائی رخ متعین

newsdesk
13 Min Read
کرغز جمہوریہ کے ناظم الامور ایبک تیلیبالیف نے اسلام آباد میں پاکستانی میڈیا کو چولپون آتا اجلاس کے نتائج سے آگاہ کیا۔

اسلام آباد — تزئین اختر

پاکستان میں کرغز جمہوریہ کے سفارت خانے کے ناظم الامور مسٹر ایبک تیلیبالیف نے کہا ہے کہ کرغز جمہوریہ کے صدر عزت مآب صادر جاپاروف کی میزبانی میں وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے سربراہانِ مملکت کا حالیہ غیر رسمی مشاورتی اجلاس اس پلیٹ فارم کے لیے ایک تاریخی تبدیلی ثابت ہوا ہے۔

انہوں نے 31 جولائی 2026 کو کرغزستان کی خوب صورت ایسک کول جھیل کے کنارے واقع سیاحتی مقام چولپون آتا ٹورسٹ زون میں ہونے والے اجلاس کے نتائج 11 اگست 2026 کو اسلام آباد میں کرغز سفارت خانے میں پاکستانی میڈیا کے ساتھ شیئر کیے۔

مسٹر ایبک تیلیبالیف نے کرغزستان میں اصلاحات کے بعد استحکام اور خوش حالی کے عمل پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق صدر صادر جاپاروف کی قیادت میں بدعنوانی میں کمی اور ملک کو درست سمت میں گامزن کرنے کے اقدامات کے نتیجے میں کرغزستان کی مجموعی قومی پیداوار میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو خطے کی دیگر ریاستوں سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان اب بدل چکا ہے، اس لیے پاکستانی کاروباری برادری اور سرمایہ کار کرغزستان کا دورہ کریں جہاں انہیں سازگار ماحول، حکومتی تعاون اور معاشرتی حمایت میسر ہوگی۔

ناظم الامور کے مطابق اس سربراہی اجلاس کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ جمہوریہ آذربائیجان پہلی بار اس فارمیٹ میں مکمل شریک کے طور پر شامل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب خطے میں ہم آہنگی کی فضا غیر معمولی طور پر بہتر ہے۔ حالیہ برسوں میں کرغزستان نے ازبکستان اور تاجکستان کے ساتھ طویل عرصے سے موجود سرحدی معاملات مکمل طور پر حل کر کے ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔

سرحدی حد بندی کے مکمل قانونی فریم ورک پر صدر صادر جاپاروف، ازبک صدر شوکت مرزیایوف اور تاجک صدر امام علی رحمان نے باضابطہ طور پر اتفاق کیا اور دستخط کیے۔ ان کامیابیوں کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانے کے لیے تینوں رہنماؤں نے گزشتہ سال تاجکستان کے شہر خجند میں ایک تاریخی سہ فریقی اجلاس کیا، جہاں ریاستی سرحدوں کے جنکشن پوائنٹ سے متعلق معاہدے اور ’’خجند اعلامیہ برائے ابدی دوستی‘‘ پر دستخط کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ آج وسطی ایشیا کی سرحدیں رکاوٹیں نہیں رہیں بلکہ دوستی کے پل اور تجارت کے دروازے بن چکی ہیں۔ ایک متحد بلاک کی حیثیت سے یہ خطہ تقریباً 85 ملین آبادی اور 600 ارب ڈالر سے زائد مجموعی علاقائی پیداوار کا حامل ہے۔ یہ خطہ یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک اہم جیو اسٹریٹجک پل ہے اور فوسل فیول، اہم معدنیات اور وسیع زرعی وسائل سے مالا مال ہے۔

مسٹر تیلیبالیف نے کہا کہ اسی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کے باعث ’’سی فائیو پلس ون‘‘ مکالماتی پلیٹ فارمز کامیابی سے قائم ہوئے ہیں، جن میں وسطی ایشیا چین، روس، امریکا، یورپی یونین، جاپان، کوریا اور اٹلی سمیت اہم عالمی شراکت داروں کے سامنے ایک متحد محاذ کے طور پر سامنے آتا ہے۔

چولپون آتا اجلاس کے نتائج بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے تمام سربراہانِ مملکت نے ذاتی طور پر شرکت کی۔ اجلاس کے افتتاح پر صدر صادر جاپاروف نے کہا کہ باہمی اعتماد کی بنیاد پر علاقائی تعاون ایک نئے اور معیاری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2027-2028 کی مدت کے لیے کرغز جمہوریہ کی امیدواری کی حمایت پر علاقائی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔ کرغزستان 3 جون 2026 کو غیر مستقل رکن منتخب ہوا۔

ناظم الامور نے اس موقع پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ اس نے اقوام متحدہ کے اس اہم ادارے کے انتخابی عمل میں کرغزستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر کرغزستان وسطی ایشیا کے مشترکہ مفادات کو مستقل طور پر آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ان کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کرغزستان کی بنیادی ترجیحات میں رکن ممالک کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانا تاکہ کونسل کی غیر جانب داری برقرار رہے، اقوام متحدہ کے امن سازی آپریشنز کو بہتر بنانا، عالمی تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں فعال حصہ لینا، اور کم ترقی یافتہ ممالک، خشکی میں گھرے ترقی پذیر ممالک اور چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ریاستوں کی خصوصی ضروریات کو اجاگر کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرغزستان تنازعات کے ثالثی کے ذریعے حل، جنگ زدہ علاقوں میں خواتین اور بچوں کے تحفظ، عالمی امن کے فروغ، گلوبل ساؤتھ میں پائیدار ترقی، خوراک و توانائی کے تحفظ، افغانستان کے استحکام اور علاقائی انضمام کی حمایت، کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ضروری اصلاحات کے لیے کام کرے گا۔

علاقائی معاملات پر صدر صادر جاپاروف نے ٹرانسپورٹ رابطوں اور توانائی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ’’چین-کرغزستان-ازبکستان‘‘ ریلوے کی تعمیر اور قازقستان و ازبکستان کے ساتھ کمباراتا-1 ہائیڈرو پاور منصوبے کو آگے بڑھانے کی اسٹریٹجک اہمیت اجاگر کی۔

کمباراتا-1 ہائیڈرو پاور منصوبے کی پیداواری صلاحیت چار ٹربائن یونٹس کے ذریعے 1,860 میگاواٹ ہے، جو سالانہ تقریباً 5.6 ارب کلو واٹ آور بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ مقدار کرغزستان کی موجودہ کل بجلی فراہمی کے تقریباً نصف کے برابر ہے۔ اس منصوبے میں کرغزستان کا حصہ 34 فیصد جبکہ قازقستان اور ازبکستان کا حصہ 33، 33 فیصد ہے۔ تعمیر کی تکمیل کا ہدف تقریباً ساڑھے چھ سال رکھا گیا ہے اور منصوبے کی لاگت تقریباً 6 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔

’’چین-کرغزستان-ازبکستان‘‘ ریلوے کے حوالے سے بتایا گیا کہ آٹھ بڑے پلوں اور چار مرکزی سرنگوں پر تعمیراتی کام فعال طور پر جاری ہے۔ مکمل ہونے کے بعد 532 کلومیٹر طویل یہ لائن چین کے کاشغر سے شروع ہو کر کرغزستان کے تورگارت، مکمل اور جلال آباد سے گزرتی ہوئی ازبکستان کے اندیجان تک جائے گی۔ اس 4.7 ارب ڈالر کے راہداری منصوبے کے فعال ہونے کے بعد چین اور یورپ کے درمیان کارگو ٹرانزٹ وقت میں 7 سے 10 دن کی کمی آئے گی اور یہ پابندیوں کے شکار راستوں سے مکمل طور پر بچتے ہوئے ایک اہم مختصر راستہ فراہم کرے گا۔

سیاحت کے وسیع امکانات کو فروغ دینے کے لیے کرغزستان نے وسطی ایشیائی ریاستوں کا دورہ کرنے والے غیر ملکی شہریوں کے لیے متحدہ سیاحتی ویزا متعارف کرانے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

آئندہ مرحلے کے حوالے سے صدر صادر جاپاروف نے وسطی ایشیا اور جمہوریہ آذربائیجان کے سربراہانِ مملکت کے مشاورتی اجلاس میں ترکمانستان کی چیئرمین شپ کو سراہا اور اس بات کی تصدیق کی کہ کرغزستان آٹھویں مشاورتی اجلاس کی کامیاب میزبانی میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ یہ اجلاس 8 اکتوبر 2026 کو ترکمانستان کے آوازہ نیشنل ٹورسٹ زون میں باضابطہ طور پر منعقد ہوگا۔

مفید اور نتیجہ خیز مذاکرات کے بعد سربراہانِ مملکت نے تاریخی چولپون آتا اعلامیے پر دستخط کیے۔ اسی اجلاس کے ساتھ ساتھ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف اور آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے کرغزستان کے سرکاری دورے بھی کیے۔ ان دوروں کے دوران کرغزستان اور ازبکستان کے درمیان، اسی طرح کرغزستان اور آذربائیجان کے درمیان اتحادی تعلقات کے معاہدوں پر دستخط ہوئے، جن سے دوطرفہ تعلقات اسٹریٹجک تعاون کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے۔

ناظم الامور کے مطابق یہ دو اتحادی معاہدے ظاہر کرتے ہیں کہ کرغزستان اپنے قریبی ہمسائے کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے اور ساتھ ہی بحیرہ کیسپین اور جنوبی قفقاز تک تعاون کو وسعت دے رہا ہے۔

انہوں نے چولپون آتا اجلاس کو وسطی ایشیائی جیو پولیٹکس میں تاریخی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے چار اہم نتائج خطے کے اسٹریٹجک ڈھانچے کو نئی شکل دیتے ہیں۔ بحیرہ کیسپین کو پل بنا کر رکن ممالک اب ایک ایسا نیا اسٹریٹجک بلاک تشکیل دے رہے ہیں جو چین کی مغربی سرحدوں سے براہ راست یورپ کے دروازوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس سے کیسپین سمندر عالمی راہداریوں سے منسلک ہو رہا ہے اور رکن ریاستوں کی اجتماعی سفارتی حیثیت اور عالمی سطح پر مذاکراتی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے کا مڈل کوریڈور اور سی پیک کے ساتھ باضابطہ انضمام ایک ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک قائم کرتا ہے۔ یہ رابطہ یوریشیائی ٹرانزٹ وقت کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے، سرحد پار محصولات کو معیاری بناتا ہے اور بڑے پیمانے پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات کھولتا ہے۔

یہ شراکت داری تجارتی رکاوٹیں ختم کر کے اور علاقائی مالیاتی میکانزم کو باضابطہ شکل دے کر ایک مربوط اقتصادی راہداری کو فعال کرتی ہے۔ یہ بڑی توانائی، پروسیسنگ اور صنعتی منصوبوں کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری فنڈز اور خودمختار دولت کے باہمی استعمال کے ذریعے کو-فنانسنگ کا فریم ورک بھی فراہم کرتی ہے۔ سرمایہ یکجا ہونے سے ٹرانزٹ روٹس کے ساتھ خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی تیز ہوگی اور پائیدار معاشی نمو کو تقویت ملے گی۔

ناظم الامور نے کہا کہ رکن ممالک کو محض ٹرانزٹ راہداریوں کے طور پر کام کرنے کے بجائے مقامی سطح پر ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ اس میں جدید تیل و گیس پائپ لائنز کی تعمیر، کیسپین بندرگاہوں کی گنجائش میں اضافہ اور سرحد پار مینوفیکچرنگ مراکز کا قیام شامل ہے، تاکہ خام مال برآمد کرنے والی معیشتوں سے اعلیٰ قدر کی مصنوعات تیار کرنے والی معیشتوں کی طرف پیش رفت ہو سکے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی قدم خطے کے صدیوں پرانے ثقافتی اور لسانی رشتوں کو مزید مضبوط کرتا ہے اور مشترکہ ورثے کو عملی معاشی فوائد میں تبدیل کرتا ہے۔ ایسک کول جھیل کے کنارے ہونے والی حالیہ اہم سرگرمیاں—جن میں آذربائیجان اور ازبکستان کے ساتھ اتحادی معاہدوں پر دستخط، چولپون آتا اعلامیے کی منظوری اور صدر صادر جاپاروف کی متحدہ وسطی ایشیائی سیاحتی ویزا تجویز کی توثیق شامل ہے—کرغز جمہوریہ کو علاقائی رابطوں کا ایک اہم محرک بنا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سنگ میل کرغزستان کے اس فعال کردار کا اعتراف ہیں جو وہ علاقائی دوستی، باہمی احترام اور اعتماد کے فروغ کے لیے ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت کرغزستان کے اتحادی اور ہمسایہ دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کے ساتھ ساتھ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی سلامتی میں اس کی نمایاں شراکت کو بھی واضح کرتی ہے۔

Share This Article