ایچ ای سی ڈگری تصدیق بحران، 52 ہزار سے زائد طلبہ 11 سال سے انتظار میں، نوکریاں اور ترقیاں خطرے میں پڑ گئیں
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ڈگری تصدیق کا 11 سالہ معاملہ ایک بار پھر پارلیمانی سطح پر زیر بحث آ گیا، جہاں انکشاف کیا گیا کہ غیر قانونی قرار دیے گئے اداروں اور سب کیمپسز سے منسلک تقریباً 52 ہزار سے 54 ہزار طلبہ تاحال ڈگری اٹیسٹیشن کے بحران کا شکار ہیں۔ طویل تاخیر کے باعث متاثرہ طلبہ، ملازمت پیشہ افراد اور سرکاری ملازمین کی نوکریاں، ترقیاں اور مستقبل کے مواقع داؤ پر لگ گئے ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے اجلاس میں ایچ ای سی کے نئے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے ارکان کو بتایا کہ یہ معاملہ تقریباً 11 سال پرانا ہے۔ ان کے مطابق بعض طلبہ نے متعلقہ اداروں میں چار سال تعلیم حاصل کی، ڈگری مکمل کی، تاہم بعد ازاں ایچ ای سی کی جانب سے ان اداروں یا سب کیمپسز کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد ان کی ڈگریوں کی تصدیق رک گئی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ متاثرہ طلبہ کا تعلق چار اداروں سے ہے اور انہیں تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کیٹیگری اے میں وہ طلبہ شامل ہیں جن کے داخلہ فارم، امتحانات، نتائج اور دیگر دستاویزات مکمل ہیں۔ کیٹیگری بی میں وہ طلبہ شامل ہیں جن کی دستاویزات مکمل ہیں مگر ڈگریاں جاری نہیں ہوئیں، جبکہ کیٹیگری سی میں وہ کیسز شامل ہیں جن میں کچھ دستاویزات یا ریکارڈ نامکمل ہے۔
چیئرمین ایچ ای سی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کمیشن نے کیٹیگری اے کے مکمل ریکارڈ رکھنے والے طلبہ کی ڈگریاں اٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم ایک رکن کی جانب سے اس خدشے کے اظہار کے بعد کہ کیٹیگری اے کے بعض کیسز بھی دوبارہ جانچ کے متقاضی ہو سکتے ہیں، معاملہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گیا۔ اس مقصد کے لیے یو ای ٹی ٹیکسلا کے وائس چانسلر کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں قائداعظم یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر اور ایچ ای سی کا ایک نمائندہ بھی شامل ہے۔
اجلاس میں ارکان نے تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی متاثرہ طلبہ اب عمر کی حد عبور کر چکے ہیں، کئی ملازمت کر رہے ہیں اور کئی اپنی ترقیوں کے منتظر ہیں۔ بعض محکموں کی جانب سے ڈگری تصدیق کے لیے مقررہ مدت دی جا رہی ہے، جس کے باعث متاثرہ ملازمین کی ترقیاں رکنے کا خدشہ ہے۔
کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے حل ہو چکا تھا مگر ایک ریٹائر ہونے والے افسر کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراض کے باعث دوبارہ الجھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ پہلے ہی کئی سال تک مشکلات برداشت کر چکے ہیں اور اب چند دن کی مزید تاخیر بھی ان کے کیریئر، ملازمت اور ترقی کے حق کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایچ ای سی حکام نے بتایا کہ نئی کمیٹی اپنا کام جلد مکمل کرے گی، جس کے بعد اہل طلبہ کی ڈگری اٹیسٹیشن کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ اس سارے عمل کا مقصد ان طلبہ کے لیے راستہ نکالنا ہے جنہوں نے متعلقہ اداروں کے خلاف کارروائی سے پہلے اپنی تعلیم مکمل کر لی تھی۔
اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ جن طلبہ کے کچھ دستاویزات نامکمل ہیں، کیا انہیں بینک ادائیگیوں یا دیگر متبادل ثبوتوں کی بنیاد پر ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ ایک رکن نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی طالب علم نے واقعی تعلیم حاصل کی، فیس بینک کے ذریعے ادا کی اور تعلیمی مراحل مکمل کیے تو صرف رسید گم ہونے یا معمولی کاغذی کمی کی بنیاد پر اس کا مستقبل تباہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایچ ای سی نے یقین دہانی کرائی کہ ایسے کیسز پر بھی غور کیا جائے گا۔
ایچ ای سی نے کمیٹی کو اپنے نئے آن لائن اٹیسٹیشن نظام پر بھی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق اب طلبہ آن لائن درخواست دیں گے، ایچ ای سی متعلقہ یونیورسٹی سے ریکارڈ کی تصدیق کرائے گا اور تصدیق ملنے کے بعد ای اٹیسٹیشن مکمل کر دی جائے گی، جس کے لیے طالب علم کو ذاتی طور پر ایچ ای سی دفاتر آنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
کمیٹی نے ڈیجیٹل نظام کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ کو پہلے سفر، رہائش، اخراجات اور بار بار دفاتر کے چکر لگانے جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ چیئرپرسن نے کہا کہ نئے نظام میں ہر امیدوار کو سیریل نمبر کے ذریعے ٹریک کیا جا سکے گا اور ریئل ٹائم ڈیٹا دستیاب ہو گا۔
ایچ ای سی حکام نے مزید بتایا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اٹیسٹیشن سسٹم کو وزارت خارجہ کے ساتھ بھی منسلک کیا جائے تاکہ طلبہ کو الگ سے فزیکل ویریفکیشن کے عمل سے نہ گزرنا پڑے۔ ان علاقوں کے لیے ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جہاں انٹرنیٹ تک رسائی کمزور ہے۔
کمیٹی نے ایچ ای سی کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ریئل ٹائم ڈیٹا پیش کیا جائے جس میں بتایا جائے کہ کتنے متاثرہ طلبہ کو سہولت فراہم کی گئی اور کتنے کیسز ابھی باقی ہیں۔ ارکان نے کہا کہ یہ معاملہ ہزاروں طلبہ کی روزی، ملازمت، ترقیوں اور مستقبل سے جڑا ہوا ہے، اس لیے کمیٹی اس پر مسلسل نظر رکھے گی۔
اجلاس میں تعلیمی سرقہ اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ ارکان نے کہا کہ طلبہ ChatGPT اور دیگر اے آئی ٹولز کے ذریعے تھیسز اور اسائنمنٹس تیار کر رہے ہیں جنہیں اساتذہ کے لیے پکڑنا آسان نہیں۔ ایچ ای سی حکام نے بتایا کہ اے آئی پالیسی تیاری کے مراحل میں ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سافٹ ویئر پر مبنی حل ناگزیر ہوں گے، کیونکہ یہ چیلنج اب عالمی سطح پر جامعات کو درپیش ہے۔
Copied From: HEC degree attestation delay affects 52,000 students, Senate told


