ستھرا پنجاب اتھارٹی کے افسران کی اہلیت پر معلومات طلب

newsdesk
5 Min Read
راولپنڈی میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے افسران اور عملے کی قابلیت سے متعلق معلومات طلب کی گئی ہیں۔

راولپنڈی: ستھرا پنجاب اتھارٹی راولپنڈی میں تعینات اعلیٰ افسران اور متعلقہ عملے کی تعلیمی قابلیت اور پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔ شہری حقوق کے کارکن نے کمشنر راولپنڈی ڈویژن سے معلومات طلب کی ہیں کہ اتھارٹی میں کتنے افسران کے پاس ماحولیاتی سائنسز یا متعلقہ شعبوں میں ڈگریاں، ڈپلومے یا پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس موجود ہیں۔

پاکستان سٹیزن رائٹس موومنٹ (پی سی آر ایم) کے چیئرمین ظہیر احمد اعوان نے پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت پنجاب وزیراعلیٰ شکایات پورٹل کے ذریعے معلومات کے حصول کی درخواست جمع کرائی ہے۔ درخواست کمشنر راولپنڈی ڈویژن کے نام دی گئی ہے۔

درخواست میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، چیف آپریٹنگ آفیسر، آپریشنز منیجرز، اسسٹنٹ منیجرز، سینی ٹیشن چیفس، سینی ٹیشن انسپکٹرز اور فیلڈ سطح کے سپروائزری عملے کی اہلیت سے متعلق تفصیلات مانگی گئی ہیں۔

درخواست کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ان عہدوں پر موجود کتنے افسران یا اہلکاروں نے Environmental Sciences، Environmental Engineering، Environmental Management یا کسی متعلقہ مضمون میں ڈگری، ڈپلومہ یا پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن حاصل کر رکھی ہے۔

درخواست گزار نے اتھارٹی میں اس وقت خدمات انجام دینے والے سینئر افسران کی مجموعی تعداد اور ان کے تعلیمی پس منظر کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ اس کے علاوہ سینی ٹیشن اور دیگر سپروائزری ذمہ داریاں نبھانے والے اسسٹنٹ منیجرز کے نام، عہدے اور تعلیمی قابلیت بھی فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

اسی طرح سینی ٹیشن انسپکٹرز اور فیلڈ لیول سپروائزرز کی موجودہ تعداد، ان کی تعلیمی قابلیت اور پیشہ ورانہ اہلیت کے بارے میں بھی معلومات مانگی گئی ہیں۔ درخواست میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ آیا چیف ایگزیکٹو آفیسر، چیف آپریٹنگ آفیسر اور آپریشنز منیجرز کے پاس ماحولیاتی سائنسز یا کسی متعلقہ شعبے میں کوئی ڈگری، ڈپلومہ یا دیگر پیشہ ورانہ اہلیت موجود ہے یا نہیں۔

درخواست میں تقرری کے طریقہ کار سے متعلق ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔ ظہیر احمد اعوان نے متعلقہ عہدوں کے لیے تعلیمی ریکارڈ، تقرری کے معیار اور اہلیت کی شرائط کی مصدقہ نقول فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، تاہم یہ معلومات قابل اطلاق قوانین اور پرائیویسی تحفظات کے تابع مانگی گئی ہیں۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ معلومات ہارڈ کاپی اور الیکٹرانک دونوں صورتوں میں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ اگر مطلوبہ ریکارڈ کا کوئی حصہ کسی دوسرے سرکاری ادارے یا محکمے کے پاس ہے تو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی متعلقہ شقوں کے تحت درخواست کا وہ حصہ متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو منتقل کیا جائے۔

ظہیر احمد اعوان کے مطابق ستھرا پنجاب محض صفائی کا ادارہ نہیں بلکہ اس کی ذمہ داریوں میں سینی ٹیشن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ماحولیاتی تحفظ و صحت عامہ سے براہ راست منسلک سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسے عہدوں پر تعینات افسران کے پاس اپنی ذمہ داریوں کے مطابق تعلیم، تربیت اور پیشہ ورانہ تجربہ موجود ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ درخواست کا مقصد سینی ٹیشن نظام میں پیشہ ورانہ معیار، شفافیت، میرٹ اور احتساب کو فروغ دینا ہے۔ ان کے بقول عوامی ادارے، جو ٹیکس دہندگان کے پیسے سے تنخواہیں اور دیگر مراعات حاصل کرتے ہیں، انہیں اپنی کارکردگی اور عملے کی اہلیت سے متعلق متعلقہ معلومات عوام کے سامنے رکھنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

درخواست میں کسی نامزد افسر پر جعلی ڈگری رکھنے، اہلیت نہ رکھنے یا غیر قانونی طریقے سے تقرری حاصل کرنے کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔ درخواست کا مقصد سرکاری ریکارڈ حاصل کرنا ہے تاکہ متعلقہ عملے کی اہلیت اور تقرری کی شرائط کا جائزہ لیا جا سکے۔

کمشنر راولپنڈی ڈویژن کا جواب اور ستھرا پنجاب اتھارٹی کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات سے واضح ہوگا کہ مطلوبہ تفصیلات دستیاب ہیں یا نہیں اور اتھارٹی کے سینئر و سپروائزری افسران کس نوعیت کی تعلیمی و پیشہ ورانہ اہلیت رکھتے ہیں۔

Share This Article