راولپنڈی: کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم شہدائے جموں اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا رہے ہیں کہ حق خودارادیت کے حصول تک شہداء کے مشن کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔
نومبر 1947 کے پہلے ہفتے میں مہاراجہ ہری سنگھ کی فورسز، بھارتی فوجیوں اور ہندوتوا قوتوں نے جموں کے مختلف علاقوں میں اس وقت لاکھوں کشمیریوں کا قتل عام کیا تھا جب وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔
جموں کے شہداء کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ترقی پسند فلاحی تنظیم کے صدر محمد عامر صدیقی نے کہا کہ کشمیریوں کا مقدس خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے جموں نے ایک عظیم اور مقدس مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان کی بے مثال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
عامر صدیقی نے کہا کہ 1947 میں جموں کے مسلمانوں کی دل دہلا دینے والی نسل کشی دنیا کا بڑا سانحہ تھا، جس میں لاکھوں مسلمانوں نے جانوں کی قربانیاں دیں۔ ان کے مطابق آج ایک بار پھر کشمیر کے استحصال اور بھارتی فوجی محاصرے کو 2650 دن ہو چکے ہیں، جبکہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق پامال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے مشن کو مقصد کے حصول تک جاری رکھا جائے۔ کشمیریوں کی عظیم قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔
عامر صدیقی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی سیاسی، سماجی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی اور ایک دن ضرور کشمیر بنے گا پاکستان۔
