اسلام آباد میں ’انوویشن ہائیو @ USEFP‘ کا افتتاح، پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے امریکی منڈی تک رسائی کا نیا دروازہ

newsdesk
4 Min Read
وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے USEFP کے تحت ’دی انوویشن ہائیو‘ کا ربن کاٹ کر افتتاح کیا۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان (USEFP) کے تحت قائم ’دی انوویشن ہائیو‘ کا ربن کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے مطابق یہ اقدام پاکستان اور امریکہ کے درمیان آئی ٹی، اسٹارٹ اپس اور جدت کے شعبوں میں تعاون کا اہم سنگِ میل قرار دیا گیا ہے۔

افتتاحی تقریب 21 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں امریکی سفارت خانے کی چارج ڈی افیئرز نیٹلی بیکر، سی ای او اسٹیوارٹ پاکستان ڈاکٹر مظہر ایچ قریشی، ڈائریکٹر ایلومنائی افیئرز USEFP مظہر اعوان اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے امریکی سفارت خانے اور USEFP کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’دی انوویشن ہائیو‘ محض ایک دفتر یا عمارت نہیں بلکہ ایک مؤثر رابطہ پل ہے، جس کے ذریعے پاکستانی انٹرپرینیورز کو ملک میں رہتے ہوئے براہِ راست امریکی مارکیٹ، سرمایہ کاروں، مینٹورشپ اور ایلومنائی نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہوگی۔ ان کے مطابق یہ مرکز نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

وفاقی وزیر نے پاکستان اور امریکہ کے تاریخی تعلقات اور معاشی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی کل برآمدات کا تقریباً 20 فیصد حصہ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں پاک امریکہ دوطرفہ تجارت کا حجم 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ جولائی 2025 کے پاک امریکہ تجارتی معاہدے کے تحت آئی ٹی سروسز، ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں پر امریکی درآمدی ڈیوٹی کم کی گئی، جبکہ پاکستان نے حسنِ نیت کے طور پر 5 فیصد ڈیجیٹل سروسز ٹیکس ختم کیا۔

شزا فاطمہ خواجہ نے اسٹارٹ اپس کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کے وینچر کیپیٹل فنڈڈ اسٹارٹ اپس کی مجموعی قدر، یعنی انٹرپرائز ویلیو، 4 ارب ڈالر سے بڑھ چکی ہے۔ ان کے مطابق سال 2025 میں اسٹارٹ اپس نے 74.2 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی، جبکہ خواتین کے قائم کردہ یا شریکِ قائم کردہ اسٹارٹ اپس کی فنڈنگ 2024 کے 5.5 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 10.1 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔

انہوں نے کہا کہ ’دی انوویشن ہائیو‘ پاکستانی ٹیلنٹ کو امریکی مارکیٹ، رہنمائی اور ایلومنائی روابط سے مستقل بنیادوں پر جوڑنے کا ذریعہ بنے گا۔

وفاقی وزیر نے وزارتِ آئی ٹی کے اداروں اور اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگنائٹ 9 نیشنل انکیوبیشن سینٹرز کے ذریعے 2,350 سے زائد اسٹارٹ اپس کی معاونت کر چکا ہے اور 1,85,000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کر چکا ہے۔ انہوں نے پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ (PSF) کے بارے میں کہا کہ یہ بغیر کسی سرکاری ایکویٹی کے 30 فیصد تک کی فنڈنگ کے ذریعے امریکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرتا ہے۔ اسی طرح ایس ٹی زیڈ اے (STZA) ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو 10 سالہ ٹیکس اور کسٹمز مراعات فراہم کرتا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے انٹرپرینیورز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس امریکی مارکیٹ تک وہ پہنچنا چاہتے ہیں، وہ اب سمندر پار نہیں بلکہ اس کا پتہ اسلام آباد میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پل دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان کے مختلف حصوں کا دورہ بھی کیا، جہاں انہیں متعلقہ تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔

Share This Article