اسلام آباد، 22 جولائی (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں مقامی علم اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو ایک متحد قومی اختراعی نظام کا حصہ بننا ہوگا۔
بدھ کو “انڈس RAS — روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو 2026” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کے انقلاب کو اپنانا ہوگا، تاہم اس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ جامعات، تحقیق و ترقی کے مراکز، اسٹارٹ اَپس، صنعتیں اور کسان ایک قومی انوویشن ایکو سسٹم کا حصہ بنیں تاکہ ان ٹیکنالوجیز کے پیچھے موجود علم مقامی، پاکستان کی ملکیت اور مسلسل ترقی پذیر رہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ روبوٹکس اور خودکار نظاموں کا انقلاب صرف ترقی یافتہ معیشتوں، بڑی کمپنیوں یا بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ انقلاب پاکستان اور گلوبل ساؤتھ میں کسانوں، چھوٹے کاروباروں، خواتین انٹرپرینیورز، نوجوان اختراع کاروں اور محروم طبقات کی زندگیوں میں بہتری لا کر جامع ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جتنی طاقتور ہو رہی ہیں، حکومتوں اور متعلقہ فریقوں کی ذمہ داریاں بھی اسی قدر بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خودکار نظاموں کو محفوظ، شفاف، قابل اعتماد اور ہمیشہ انسانیت کے مفاد میں استعمال کرنے کے لیے واضح ریگولیٹری اور اخلاقی فریم ورک قائم کرنا ضروری ہے۔
وزیراعظم نے جدت، ٹیکنالوجی کی ترقی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ اور جامع استعمال کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، ماہرین، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، غیر ملکی مندوبین، برانڈز، کمپنیوں اور طلبہ نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے ملک میں روبوٹکس اور خودکار نظاموں کے مستقبل کی تشکیل کے لیے حکومت کے دو اہم اقدامات کا اعلان کیا۔ ان میں “اسپارک اینڈ ایلیویٹ” پروگرام شامل ہے، جس کا مقصد پاکستان کی تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز، عالمی سطح پر مسابقتی اداروں اور زیادہ پیداواری ملازمتوں میں بدلنا ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے 20 ملین ڈالر کی ابتدائی کمٹمنٹ کے ساتھ پاکستان وینچر فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان جس روبوٹس اور خودکار مشینوں کے مستقبل کا خواہاں ہے، وہ محض ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں بلکہ تقریباً 25 کروڑ پُرعزم لوگوں کی کہانی ہے جو دوبارہ سوچنے، مقابلہ کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان، روشن ذہنوں کی کہانی ہے جن کے خواب تجسس کی چنگاری سے روشن ہیں، جن کی صلاحیتوں کی کوئی حد نہیں اور جن کی جدت پاکستان کے شاندار مستقبل کی تشکیل کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک تاریخی موقع کے دہانے پر کھڑا ہے، جسے ضائع نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان وہ قوم نہیں بنے گا جو دوسروں کے فیصلوں کی محض وارث ہو، بلکہ جدت، کاروباری جذبے، خود انحصاری اور انتھک محنت کے ذریعے اپنی تقدیر خود بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل محنت، عزم اور قربانی کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے روشن، مضبوط اور خوشحال پاکستان تعمیر کیا جانا چاہیے، جس پر آئندہ نسلیں فخر محسوس کریں۔
وزیراعظم نے انڈس RAS ایکسپو کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جو 21ویں صدی کی فیصلہ کن ٹیکنالوجیز میں پاکستان کے نمایاں کردار کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آغاز میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی میزبانی کی، جس میں حکومتوں، ٹیکنالوجی لیڈرز، محققین اور کاروباری شخصیات نے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کی سمت متعین کرنے کے لیے شرکت کی۔ RAS ایکسپو نے اس وژن کو عملی شکل دی اور دکھایا کہ جدت کو کیسے ایسے قابل عمل حل میں بدلا جا سکتا ہے جو معیشت کو مضبوط، سلامتی کو بہتر اور عوام کی زندگیوں کو آسان بنائیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ تاریخ کے ایک غیر معمولی لمحے میں مشینیں اب صرف حساب نہیں کرتیں بلکہ دیکھ سکتی ہیں، فیصلہ کر سکتی ہیں اور تیزی سے عمل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ کبھی تصور کی دنیا کا حصہ تھا، وہ آج روزمرہ حقیقت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے کسان نسلوں سے قدرت کے رحم و کرم پر کام کرتے رہے، انہیں پانی کی قلت، پیداواری لاگت میں اضافہ، زمینوں کی تقسیم اور بدلتے موسموں جیسے مسائل کا سامنا رہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے زراعت کے شعبے میں انقلاب آیا ہے۔ بحران کے وقت یہی ٹیکنالوجی رسائی فراہم کرتی ہے اور وہاں زندگیاں بچانے میں مدد دیتی ہے جہاں سڑکیں اور پل مکمل طور پر بہہ جائیں۔
دفاع اور سلامتی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے مقامی خودکار صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی متحرک قیادت میں مسلح افواج نے جدید ترین ٹیکنالوجیز اختیار کی ہیں، جن میں سے کچھ انہوں نے ہال کے باہر نمائش میں دیکھی ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق انہوں نے ایسے سمیولیٹرز دیکھے جو 100 فیصد پاکستان میں تیار اور اسمبل کیے گئے ہیں، جبکہ ڈرونز میں 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل ہو چکی ہے۔
وزیراعظم نے وزارت آئی ٹی، ماہرین، پیشہ ور افراد اور ٹیکنوکریٹس کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مادر وطن کے لیے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تاریخی معرکہ حق کے دوران دنیا نے دیکھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی بھرپور معاونت سے بہادر مسلح افواج نے جدید خودکار نظاموں کے موثر استعمال کے ذریعے پاکستان کی زمینی اور سائبر سرحدوں کا مضبوط دفاع کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج نے ثابت کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے نہ صرف آہنی عزم رکھتا ہے بلکہ مادر وطن کے دفاع میں جدید خودکار ٹیکنالوجیز کے استعمال کی مقامی صلاحیت، تکنیکی مہارت اور عملی برتری بھی رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ عسکری پیش رفت قومی دفاع کا لازمی حصہ ہے، جو سکیورٹی ڈھانچے کو مزید مضبوط، دفاع کو ناقابل تسخیر اور ابھرتے ہوئے و مستقبل کے خطرات کے مقابلے میں قومی لچک کو بہتر بنائے گی۔
اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ جو ممالک نئی ٹیکنالوجیز میں قیادت کریں گے وہی مستقبل کی معیشت کی سمت متعین کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی مکمل ویلیو چینز کی ملکیت حاصل کرے گا کیونکہ جدید ٹیکنالوجی میں خود انحصاری ایک قومی فیصلہ ہے اور آج پاکستان اس فیصلے کے لیے تیار ہے۔
شزہ فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم کی وژنری قیادت میں حکومت نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کی واضح سمت اختیار کی ہے، جہاں ٹیکنالوجی معیشت کا محض ایک ذریعہ نہیں بلکہ پیداوار، روزگار اور قومی مسابقت کا حقیقی انجن ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹارٹ اَپس، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کے لیے ایسا ماحول بنا رہی ہے جہاں وہ عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔ ان کے مطابق نتائج سامنے آ رہے ہیں؛ رواں سال آئی سی ٹی برآمدات میں تقریباً 21 فیصد اضافہ ہوا، ای گورننس ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان 14 درجے اوپر آیا، جبکہ آئی ٹی یو کے آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس میں ملک نے 27 درجے بہتری حاصل کی۔
