صاف ہوا کے لیے ایک کروڑ ڈالر فنڈ کا منصوبہ، آلودگی کا بوجھ کمزور طبقات پر ہے: مصدق ملک

newsdesk
6 Min Read
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے صاف ہوا کے لیے عملی اقدامات اور کلین ایئر اسٹارٹ اپس فنڈ کے منصوبے کا اعلان کیا۔

اسلام آباد، 28 اکتوبر 2026: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی اور اسموگ کا سب سے زیادہ نقصان غریب، کمزور اور محدود وسائل رکھنے والے طبقات کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ صاحبِ استطاعت افراد ایئر پیوریفائرز اور دیگر حفاظتی انتظامات کے ذریعے کسی حد تک خود کو محفوظ بنا لیتے ہیں۔

پاکستان نیشنل کلین ایئر کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ فضائی آلودگی کوئی ناگزیر قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں، صنعتی عمل اور پالیسی فیصلوں سے پیدا ہونے والا بحران ہے۔ ان کے مطابق اس بحران کے صحت اور معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور سب سے زیادہ دباؤ ان خاندانوں پر آتا ہے جن کے پاس علاج، تحفظ اور متبادل انتظامات کے وسائل محدود ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ فضائی آلودگی کے باعث پاکستان کو مجموعی قومی پیداوار، یعنی جی ڈی پی، کے 6.5 فیصد کے مساوی معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نقصان میں بیماریوں کے اخراجات، اسپتالوں میں علاج، ادویات اور متاثرہ خاندانوں پر پڑنے والا مالی بوجھ شامل ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے صحت عامہ پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے پھیپھڑوں کی دائمی بیماری کرونک آبسٹرکٹیو پلمونری ڈیزیز، سی او پی ڈی، کے مریضوں کی مثال دی جنہیں آکسیجن اور ادویات کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہوں نے یونیسیف کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی بچوں کے پھیپھڑوں کی صحت اور نشوونما کو متاثر کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آلودہ فضا سے بچاؤ کی صلاحیت ہر طبقے کے پاس ایک جیسی نہیں۔ صاحبِ حیثیت خاندان گھروں میں ایئر پیوریفائرز لگا سکتے ہیں، مگر اسکول جانے والے بچے، کھلے ماحول میں کام کرنے والے محنت کش، ریڑھی بان، کسان اور دیگر بیرونی روزگار سے وابستہ افراد براہِ راست آلودگی کے اثرات کا سامنا کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق فصلوں کی باقیات جلانے والے کسان بھی اس عمل سے پیدا ہونے والی آلودگی سے محفوظ نہیں رہتے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات آلودگی پیدا کرنے والے عوامل سے وابستہ افراد اور برادریاں خود بھی اس کے منفی اثرات برداشت کرتی ہیں، اس لیے ایسے عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو ماحولیاتی مسائل کے ساتھ متاثرہ آبادیوں کے روزگار اور معاشی حالات کو بھی سامنے رکھیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ فضائی آلودگی کو پالیسی کے مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا، کیونکہ مؤثر پالیسی سازی، جدید ٹیکنالوجی اور عمل درآمد کے ذریعے اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں شاہراہ قراقرم کی تعمیر اور ڈینگی پر قابو پانے کی کوششوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عزم اور مؤثر اقدامات سے پیچیدہ مسائل بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔

چین کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بیجنگ اور شنگھائی کبھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتے تھے، لیکن آج چین شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھی بہتر پالیسیوں، ٹیکنالوجی اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے فضائی آلودگی میں کمی کی جانب پیش رفت کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کلین ایئر اسٹارٹ اپس کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا فنڈ قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود اپنے وسائل سے یہ فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے ترقیاتی شراکت داروں سے بھی تعاون مانگا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ فنڈ کے بورڈ کی منظوری اگلے روز متوقع ہے۔

انہوں نے مجوزہ فنڈ کو آئندہ نسلوں کے لیے ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض گرانٹ یا قرض نہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کے تحفظ کا عزم ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے واضح کیا کہ حکومت بیرونی شراکت داروں کے تعاون کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی صاف ہوا کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

وفاقی وزیر نے موسمیاتی اقدامات میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، یونیسیف اور جرمن ترقیاتی ادارے جی آئی زیڈ سمیت ترقیاتی شراکت داروں کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صاف ہوا کے حصول کے لیے صرف نعروں اور اعلانات پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا، بلکہ انجینئرنگ کے حل، مؤثر پالیسیوں اور مالی وسائل کی فراہمی پر توجہ دینا ہوگی۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے فضائی معیار بہتر بنانے، آلودگی میں کمی اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے عملی اقدامات جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

Share This Article