اسلام آباد سے کاپ 31 تک: پی آر سی ایس نے متاثرہ آبادیوں کی آواز عالمی مکالمے تک پہنچانے کا عزم کر لیا

newsdesk
5 Min Read
پی آر سی ایس نے جرمن ریڈ کراس کے تعاون سے اسلام آباد میں پری کاپ 31 تقریب کا انعقاد کیا۔

اسلام آباد: پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (پی آر سی ایس) نے جرمن ریڈ کراس کے تعاون سے اپنے نیشنل ہیڈکوارٹرز میں پری کاپ 31 تقریب ’’کمیونٹی وائس ٹو کاپ 31: مذاکرات سے عمل درآمد تک‘‘ منعقد کی۔ تقریب کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ کمیونٹیز کے تجربات، خدشات اور توقعات کو 31ویں کانفرنس آف دی پارٹیز سے قبل عالمی موسمیاتی مکالمے کا حصہ بنانا تھا۔

مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے چیئرپرسن پی آر سی ایس مسز فرزانہ نائیک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑھتا ہوا انسانی بحران ہے جو زندگیوں، روزگار، صحت، غذائی تحفظ، پانی کی دستیابی اور انسانی وقار کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کی آوازیں موسمیاتی تقریبات میں صرف سنی نہ جائیں بلکہ فیصلوں، سرمایہ کاری اور عمل درآمد کی سمت بھی متعین کریں۔

مسز فرزانہ نائیک نے تیاری، پیشگی اقدامات، موسمیاتی موافقت اور کمیونٹی ریزیلینس میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیش رفت کو اس بنیاد پر جانچا جانا چاہیے کہ کتنی کمیونٹیز تک رسائی ہوئی، خطرات کتنے کم ہوئے، روزگار کا تحفظ کس حد تک ممکن بنا اور زندگیوں کو کتنا محفوظ کیا گیا۔

سیکرٹری جنرل پی آر سی ایس محمد عبیداللہ خان نے کہا کہ یہ تقریب کاپ 31 سے قبل موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ آبادیوں کے تجربات کو ایک واضح آواز میں ڈھالنے کا موقع ہے۔ انہوں نے شرکا کو تقریب کے مختلف زونز اور پی آر سی ایس کے موسمیاتی موافقت سے متعلق اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرپرسن کی قیادت میں پی آر سی ایس کی تبدیلی کا عمل جاری ہے، جس سے ادارہ زیادہ متحرک، شفاف، جوابدہ اور پائیدار بن رہا ہے۔

جرمن ریڈ کراس کے ریجنل نمائندہ ایشیا، ایمیلیو تیخیرا نے پی آر سی ایس کی موسمیاتی سرگرمیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جرمن ریڈ کراس، پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ساتھ کھڑا ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ کمیونٹی ریزیلینس، ارلی ایکشن اور موافقت کے شعبوں میں پی آر سی ایس کا کام مقامی سطح پر قیادت میں ہونے والی موسمیاتی کارروائی کی عملی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاپ 31 کے قریب آتے ہوئے ضروری ہے کہ متاثرہ کمیونٹیز کی آوازیں اس کے نتائج میں شامل ہوں۔

ہیڈ آف کلائمیٹ چینج پروگرام سجاد کندھر نے پروگرام کی اہمیت اور جاری سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔

تقریب کو تین زونز میں ترتیب دیا گیا تھا۔ شرکا نے پی آر سی ایس اور جرمن ریڈ کراس کے مشترکہ اقدامات پر مبنی ڈاکیومنٹری دیکھی، جبکہ تھیٹر پرفارمنس ’’تپش‘‘ بھی پیش کی گئی۔ پینل مباحثے میں انسانی ہمدردی اور ہنگامی ردعمل، موسمیاتی پالیسی، کلائمیٹ فنانس و موافقت، اور ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن و ریزیلینس کے شعبوں سے وابستہ ماہرین نے حصہ لیا۔

ماہرین نے کمیونٹی کی تیاری کو مضبوط بنانے اور موسمیاتی وعدوں کو مقامی سطح پر عملی اقدامات میں تبدیل کرنے سے متعلق اپنی آرا پیش کیں۔ اس کے بعد سوال و جواب کا تعاملی سیشن بھی ہوا۔ پاکستان میں جرمن ریڈ کراس کے آصف امان نے پینلسٹس کی قیمتی آرا اور خدمات پر شکریہ ادا کیا اور شرکا کی بھرپور شمولیت کو سراہا۔

گرین ایکشن ہب میں گرین مارکیٹ کے ساتھ کلیکشن اینڈ ریوارڈ بوتھ، کاغذ، پلاسٹک اور دھات کی ری سائیکلنگ کے بوتھ، اور کلائمیٹ گیلری شامل تھے، جہاں یہ سوال رکھا گیا کہ کاپ 31 آفات کا سامنا کرنے والی کمیونٹیز کے لیے کیا نتائج دے۔ مہمانوں نے ’’مائی کلائمیٹ پلیج ٹری‘‘ پر اپنی اہم مطالبات اور وعدے بھی درج کیے۔ پروگرام کا اختتام ’’پلانٹ اے پرامس‘‘ شجرکاری مہم کے ساتھ ہوا۔

تقریب کے اہم نکات اور مطالبات پی آر سی ایس کے کلائمیٹ میسج ٹو کاپ 31 کا حصہ بنیں گے، تاکہ عالمی سطح کی خواہشات کو مقامی سطح پر بامعنی، قابل پیمائش اور پائیدار عمل میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکے۔

Share This Article