آئی ایس ایس آئی اور عرب تھنک فورم کا پالیسی مکالمہ مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال

newsdesk
3 Min Read
اسلام آباد میں آئی ایس ایس آئی اور عرب تھنک فورم اردن کے درمیان دوطرفہ اجلاس منعقد ہوا۔

اسلام آباد، 20 اکتوبر 2026: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) اور عرب تھنک فورم (اے ٹی ایف) اردن کے درمیان آج دوطرفہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، پالیسی سطح کے مکالمے کو فروغ دینے اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشترکہ تحقیق و روابط کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

یہ اجلاس آئی ایس ایس آئی کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (کیمیا) کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا۔ آئی ایس ایس آئی اور عرب تھنک فورم نے اکتوبر 2025 میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دوطرفہ تعاون اور ادارہ جاتی رابطہ کاری کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا گیا۔ حالیہ اجلاس میں اسی شراکت داری کو آگے بڑھانے اور مستقل تعاون کے عملی شعبوں کی نشاندہی پر گفتگو کی گئی۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر معین الحق نے پاکستان اور اردن کے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اردن پاکستان کے عوام کے دلوں میں خاص مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے قریبی برادرانہ روابط اور اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطوں کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی امور، بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر قریبی تعاون کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ معاملات مسلم دنیا کے لیے مشترکہ تشویش کا باعث ہیں۔

عرب تھنک فورم کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امانی غازی جرار نے خطے میں پاکستان کے جاری کردار کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان۔عرب اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے قیام کی اہمیت پر زور دیا تاکہ سیاسی روابط کو مضبوط، باہمی فہم کو گہرا اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر تعاون کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر امانی غازی جرار نے تعاون کے چار اہم ستونوں کی بھی نشاندہی کی، جن میں انسانی وقار اور مشترکہ سلامتی کا فروغ، فکری و ادارہ جاتی روابط کی مضبوطی، ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک foresight اور forecasting کو آگے بڑھانا، اور مشترکہ تحقیق و پالیسی پر مبنی اقدامات کے ذریعے مشترکہ مقاصد کو عملی نتائج میں تبدیل کرنا شامل ہیں۔

اجلاس میں جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کے انسانی وقار اور حق خودارادیت پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ دونوں معاملات بنیادی طور پر عوامی حقوق اور سیاسی امنگوں سے متعلق ہیں، انہیں محض علاقائی تنازعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

اجلاس میں ڈائریکٹر کیمیا ڈاکٹر آمنہ خان اور سینٹر کے دیگر ساتھیوں نے بھی شرکت کی۔

Share This Article