پاکستان میں ادویات کے محفوظ استعمال کے لیے فارماکوویجیلنس آگاہی مہم

newsdesk
2 Min Read
ڈریپ اور ڈبلیو ایچ او نے #MedSafetyWeek کے سلسلے میں تعلیمی و طبی اداروں میں آگاہی سیشنز منعقد کیے۔

اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اشتراک سے فارماکوویجیلنس آگاہی اور آؤٹ ریچ پلان کے تحت، #MedSafetyWeek کی مناسبت سے ملک کے مختلف تعلیمی و طبی اداروں میں آگاہی سیمینارز کا انعقاد کیا۔

یہ سیمینارز کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور، کیپٹل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (CUST) اسلام آباد، علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی لاہور میں منعقد کیے گئے۔

ان پروگراموں میں فیکلٹی ارکان، طلبہ اور صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کو فارماکوویجیلنس کے عمل، ادویات کے استعمال کے بعد پیش آنے والے منفی واقعات کی رپورٹنگ کی اہمیت اور قومی و صوبائی فارماکوویجیلنس مراکز کو رپورٹس جمع کرانے کے دستیاب مختلف ذرائع سے آگاہ کیا گیا۔

شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ منفی واقعات کی رپورٹنگ کو مضبوط بنانے اور ادویات کے زیادہ محفوظ استعمال کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

اس کے علاوہ ڈریپ اور ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے وائس چانسلرز سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں متعلقہ ہیلتھ کیئر ڈسپلنز کے نصاب میں فارماکوویجیلنس کو شامل کرنے اور انڈر گریجویٹ طلبہ میں اس حوالے سے آگاہی بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔

ٹیم نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (PHC) کے ڈائریکٹرز سے بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں VigiFlow اور VigiMobile کے ذریعے منفی واقعات کی رپورٹنگ کو مضبوط بنانے اور منیمم سروس ڈیلیوری اسٹینڈرڈز (MSDS) کے نفاذ کے حصے کے طور پر معیاری رپورٹنگ فارمز کے استعمال پر گفتگو کی گئی۔

حکام کے مطابق فارماکوویجیلنس کے نظام کو مضبوط بنا کر، رپورٹنگ کے کلچر کو فروغ دے کر اور دستیاب رپورٹنگ ذرائع کے مؤثر استعمال سے ادویات کو ہر فرد کے لیے زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

Share This Article